30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ- ( پ۱۶ ، مریم : ۶۴ )
ترجمۂ کنزالایمان : ( اورجبریل نے محبوب سے عرض کی : ) ہم فرشتے نہیں اُترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے ، اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے ۔
مذکورہ حدیث پاک میں سورۂ مریم کی آیت نمبر 64 کا شان نزول بیان کیا گیا ہے کہ جب حضوررحمت عالم ، نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قوم نے آپ سے اصحاب کہف ، ذو القرنین اور روح کے متعلق سوال کیا تو آپ کو امید تھی کہ ان سوالوں کے جوابات حضرت سیدنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام لے کر آئیں گے ۔ لیکن سیدنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے آنے میں تاخیر کردی ۔ بعض روایات کے مطابق چالیس دن ، بعض کے مطابق بارہ راتیں اور بعض کے مطابق پندرہ دن تاخیر کی ۔ یہ تاخیر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بہت شاق گزری پھر جب حضرت سیدنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام حاضرہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’آپ نے آنے میں تاخیر کردی ، مجھے آپ سے ملنے کا اشتیاق تھا ۔ ‘‘ تو سیدنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : ’’مجھے بھی آپ سے ملاقات کرنے کا اشتیاق تھا لیکن میں حکم کا پابند ہوں جب مجھے بھیجا جاتا ہے تو میں حاضر ہوجاتا ہوں اور جب روکا جاتا ہے تو رُک جاتا ہوں ۔ ‘‘ تو اس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہی آیت مبارکہ نازل فرمائی ۔ ‘‘ ( [1] )
فرشتے بِاذنِ اِلٰہی نازِل ہوتے ہیں :
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا تھا کہ ’’تم جتنی بار ہم سے ملاقات کرتے ہو اس سے زیادہ ملاقات کرنے سے تمہیں کیا چیز مانع ہے ؟ ‘‘ تو اس کا جواب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِس آیت مبارکہ میں ارشاد فرمادیا ۔ چنانچہ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ ارشاد حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے بطور جواب تھا ۔ یعنی فرشتے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اذن سے نازل ہوتے ہیں ۔ جب وہ انہیں حکم فرماتا ہے تو نازل ہوتے ہیں اور جب انہیں روکتا ہے تو وہ رُک جاتے ہیں ۔ نیز آیت مبارکہ میں ارشاد ہوا تھا کہ ” اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے ۔ “ تو آیت مبارکہ میں آگے سے مراد آخرت کا معاملہ ہے اور پیچھے سے مراد دنیا کا معاملہ ہے اور ان دونوں کے درمیان برزخ ہے جو دنیا اور آخرت کے درمیان ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
جبریل حضور کی بارگاہ میں کتنی بار آئے ؟
مذکورہ حدیث پاک میں نیک لوگوں سے ملاقات کو پسند کرنے اور اس کی تمنا کرنے کو بیان کیا گیا ہے جیساکہ حدیث پاک کے ظاہر سے بالکل واضح ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سیدنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام سے ملاقات کی زیادتی کو پسند فرماتے تھے ۔ سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کی حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضری دوسرے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ السَّلَام کی خدمت میں تشریف آوری سے کہیں زیادہ تھی ۔ چنانچہ ” نزہۃ القاری“میں ہے : ” حضرت جبرئیل حضرت آدم کی خدمت میں بارہ مرتبہ ، حضرت ادریس کی خدمت میں چار مرتبہ ، حضرت نوح کی خدمت میں پچاس مرتبہ ، حضرت ابراہیم کی خدمت میں بیالیس مرتبہ ، حضرت عیسیٰ کی خدمت میں دس مرتبہ ، حضرت یعقوب کی خدمت میں چار بار اور حضرت ایوب کی خدمت میں تین بار اور سید الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں چوبیس ہزار مرتبہ باریابی سے مشرف ہوئے ۔ “ ( [3] ) اس کے باوجود آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے یہ استفسار فرمارہے ہیں کہ ’’تم ہم سے اس سے بھی زیادہ ملاقات کے لیے کیوں نہیں آتے ؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس سوال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے آنے کو کس قدر محبوب جانتے ہیں اور پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملاقات کے شوق کو بیان کیا کہ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں بھی اس بات کا خواہش مند ہوں کہ بار بار آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں لیکن میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم اور اس کے اذن کا پابند ہوں ، وہ مجھے جب بھیجتا ہے تو میں نازل ہوجاتا ہوں اور جب روکتا ہے تو رُک جاتا ہوں ۔ ‘‘
مدنی گلدستہ
’’حدیث ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) مذکورہ حدیث پاک میں حضور کی جبریل امین سے محبت اور جبریل امین کی حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام سے محبت بیان ہوئی ۔
(2) ہمیشہ نیک لوگوں کی رفاقت و مصاحبت کے حصول کی آرزو تمنا کرنی چاہیے ۔
(3) فرشتے جہاں بھی جاتے ہیں اور جو کچھ کرتے ہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے کرتے ہیں ۔
(4) سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کوتمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے مقابلے میں حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ی کا زیادہ شرف حاصل ہوا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کا شوق اور اس کے حصول کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع