دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

نیز دیندار عورت کو زوجیت میں لانے سے ایک اچھے انسان کی رفاقت کا شرف بھی حاصل ہوگا اور یہ حدیث پاک بھی اسی مناسبت سے اس باب میں ذکر کی گئی ہے ۔  عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پر اُبھارا گیا ہے کہ ہر معاملے میں نیک لوگوں کی مصاحبت اختیار کرنی چاہیے کہ صالحین کی رَفاقت اختیار کرنے والااُن کے اَخلاق ، اچھی عادات اور برکات سے مُسْتَفِیْد ہوتا ہے اور ان کی جانب سے کسی بھی قسم کے ضرر پہنچنے سے امان میں رہتا ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

 ” تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں“ کا مطلب :

حدیث پاک کے آخر میں ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” تَرِبَتْ يَدَاكَ یعنی تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔ ‘‘ علامہ کرمانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :  ’’یہ کلمہ دراصل دعا ہے لیکن عرب اس کو انکار ، تعجب ، تعظیم اور کسی کام پر رغبت دلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔  یہاں یہ رغبت دلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔ ‘‘ بعض علماء نے فرمایا :  ’’ممکن ہے کہ یہاں یہ جملہ دعا دینے کے لیے ہو جبکہ وہ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشاد پر عمل نہ کرے تو اس صورت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر تم میری بات پر عمل نہ کرو اور دیندار عورت کو نظر انداز کرکے فقط خوبصورت اور مالدار عورت کے متلاشی ہو تو تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ۔  ( [2] )

نکاح کے لیے نیک مرد کو ترجیح دو :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  نکاح کے لیے جہاں شریعت نے  نیک عورت کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے وہیں عورت کے لیے نیک مرد کو بھی ترجیح دینے کا حکم ہے کہ جس طرح دیندار عورت سے مرد کو فائدہ ہوتا ہے ایسے ہی نیک مرد سے عورت کو بھی فائدہ ہوگا ۔  اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص حضرتِ سَیِّدُناحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا کہ میری ایک بیٹی ہے جس سے میں بہت محبت کرتا ہوں اور میرے پاس اس کے چند رشتے آئے ہوئے ہیں ، آپ مجھے مشورہ دیں کہ میں اس کا نکاح کس سے کروں؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  ’’تو اس کا نکاح اس شخص سے کر جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنے والا ہے ۔  کیونکہ اگر وہ تیری بیٹی سے محبت کرے گا تو اس کی عزت کرے گا اور اگر اس سے نفرت کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا ۔ ‘‘ ( [3] )

مدنی گلدستہ

سیدتنا ’’فاطمہ  ‘‘  کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول

(1)   مذکورہ حدیث پاک میں دیندار عورت سے نکاح کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے کیونکہ یہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا سبب ہے ۔

(2)   نیک و صالح عورت کو زوجیت میں لانے کی برکت سے ایک اچھے انسان کی مصاحبت ملے گی اور مرد اس کے اچھے اخلاق ، عادات اور برکات سے مستفید ہوگا ۔

(3)   نکاح کے لیے حسن و جمال ، حسب و نسب اور مال و دولت کو مطمح نظر نہ بنایا جائے بلکہ دینداری کو ترجیح دی جائے کیونکہ یہ تمام اوصاف تو عارضی ہیں جبکہ دینداری لازوال دولت ہے ۔

(4)   نیک عورت سے نکاح کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ نیک اولاد جنے گی اور اس کی بہتر انداز میں دینی تربیت کرے گی ۔

(5)   عورت کے تمام اوصاف سے صرف نظر کرتے ہوئے محض حسن کو مدنظر رکھتے ہوئے نکاح کرنے کو شریعت نے ناپسند کیا ہے کیونکہ بہت زیادہ حسین عورت ناز نخرے بھی زیادہ دکھائے گی اور اس وجہ سے دونوں کے درمیان جھگڑا اور فساد ہوگا ۔ لہذا دینداری کو بھی ضرور دیکھنا چاہیے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر معاملے میں دین کو ترجیح دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیشہ نیک لوگوں کی مصاحبت و رفاقت اختیار کرنے کی سعادت مرحمت فرمائے ۔

٭٭٭٭

حدیث نمبر : 365                                                                                                                                                                              جبریل امین اور نبی کریم کی ملاقات

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ :  قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجِبْرِيْلَ :  مَا يَمْنَعُكَ اَنْ تَزُوْرَنَا اَكْثَرَ مِمَّا تَزُوْرَنَا؟ فَنَزَلَتْ : )وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ-(. ( [4] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا :  ’’آپ کو کیا چیز مانع ہے کہ آپ اس سے زیادہ ہم سے ملاقات کیا کریں جتنی آپ ہم سے ملاقات کرتے ہیں؟ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :

 



[1]     شرح مسلم للنووی ، کتاب الرضاع ، باب استحباب نکاح ذات الدین ، ۵ / ۵۲ ، الجزء العاشر ۔

[2]     تفہیم البخاری ، ۸ / ۴۱ملخصًا ۔

[3]     شرح الطیبی ، کتاب النکاح ، الفصل الاول ، ۶ / ۲۳۸ ، تحت الحدیث : ۳۰۸۲ ۔

[4]      بخاری ، کتاب التفسیر ، باب قولہ : ) وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-( ، ۳ / ۲۷۱ ، حدیث : ۴۷۳۱ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن