دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

خاک آلود ہوں ، تو دیندار عورت کے حصول کی کوشش کر ۔   ‘‘ 

علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ ان چار خصلتوں کی وجہ سے عورت کا قصد کرتے ہیں لہٰذا تو دیندار عورت کے حصول کی کوشش کر اور اس کے ساتھ  کامیابی  حاصل کراور اس کی رفاقت پر حریص ہوجا ۔ ‘‘

عورت کی مال داری کی وجہ سے نکاح :

مذکورہ حدیث پاک میں عورتوں سے نکاح کرنے کی چار وجوہات بیان کی گئی ہیں اور عام  طور پر لوگ پہلی تین وجہوں یعنی عورت کے مال ، جمال اور خاندان پر نظر رکھتے ہوئے اُن سے نکاح کرتے ہیں لیکن حدیث پاک میں حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام نے چوتھی وجہ یعنی دینداری کو باقی تمام پر ترجیح دینے کا حکم صادر فرمایا ہے ۔ حدیث پاک میں عورت سے نکاح کرنے کا پہلا سبب مال بیان کیا گیا ہے یعنی بعض مرد عورت کے مال و اَسباب کی بناء پر اس سے نکاح کرتے ہیں ۔  عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عورت مالدار ہوتی ہے تو شوہر پر عورت کو وہ چیزیں دینا لازم نہیں ہوتا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا اور مرد پر عورت کے نان نفقے کا خرچ اٹھانا بھی بھاری نہیں ہوتا ۔ ‘‘ ( [1] )

عورت کے حسب نسب کی وجہ سے نکاح :

حدیث پاک میں حسب کو عورت سے نکاح کرنے کی دوسری وجہ بیان کیا گیا ہے ۔  یعنی بعض لوگ ایسی عورت سے نکاح کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو باعزت گھرانے سے تعلق رکھتی ہو اور اس کا خاندان شرف و بلندی کا حامل ہو تاکہ اس کے ذریعے پیدا ہونے والی اولاد معاشرے میں نسب کی بنیاد پر امتیازی حیثیت حاصل کرے ۔  عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’عورت کے حسب والی ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کے باپ ، دادا شرف و فضیلت کے حامل ہوں ۔  حسب ماخوذ ہے حساب سے جس کا معنی ہے شمار کرنا  کیونکہ اہل عرب اپنے آباء و اجداد اور اپنی قوم کے فضائل شمار کرتے اور اس پر فخر کرتے اور جس شخص کے فضائل زیادہ ہوتے اسے دوسروں پر ترجیح دیتے تھے ۔ ‘‘ عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے اس مقام پر ایک مسئلہ بیان فرمایا ہے کہ ’’اعلیٰ اور بلند نسب والے مرد کے لیے مستحب ہے کہ وہ شریف النسب عورت سے نکاح کرے ۔  ہاں اگر عالی نسب والی عورت دیندار نہ ہو اور غیر عالی حسب و نسب والی دیندار ہو تو دیندار کو ترجیح دے ۔  اسی طرح تمام صفات میں نیک عورت کو فضیلت دی جائے گی ۔ ‘‘ ( [2] )

عورت کے حُسن وجمال کی وجہ سے نکاح :

مذکورہ حدیث پاک میں عورت سے نکاح کی تیسری وجہ حُسن وجمال بیان کی گئی ہے ۔ دلیل الفالحین میں امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے منقول ہے کہ نکاح سے حاصل ہونے والا فائدہ یعنی عورت سے قربت کا حلال ہونا تو کسی بھی عورت سے نکاح کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے لیکن حسن بھی نکاح کا ایک بہت قوی داعی ( یعنی سبب ) ہے ۔  شریعت میں عورت کی تمام صفات سے صرف نظر کرکے محض حسن کو مد نظر رکھ کر نکاح کرنے اور بہت زیادہ حسین و جمیل عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ حسن کی بنا پر عورت ناز و نخرے زیادہ دکھائے گی اور یہ زیادتی دونوں کے درمیان نزع اور عدم انسیت کا سبب بنے گی اور ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خوبصورتی کی بنا پر عورت کی جانب شدید میلان ہوگا اور ممکن ہے کہ شدت میلان کی وجہ سے عورت اسے کثیر نیک اعمال سے غفلت میں مبتلا کردے نیز حسین و جمیل عورت طمع فاسد کا سبب بھی بنے گی کیونکہ جس چشمے کا پانی میٹھا ہو وہاں بھیڑ بھی زیادہ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں عورت سے ایسی ناگوار حرکت سرزد ہونے کا اندیشہ رہے گا کہ جو مرد کے لیے ضرر رساں ہوگی لیکن اس تفصیل کا یہ مطلب نہیں کہ مطلقًا حسن کی رعایت ہی نہ کی جائے بلکہ اتنا حسن ہونا چاہیے کہ جو طبیعت کے موافق ہو یہی وجہ ہے کہ شریعت نے ایسی عورت کو دیکھنے کی اجازت دی ہے جسے نکاح کا پیغام بھیجا ہو ۔ ‘‘ ( [3] )

نیک عورت سے نکاح  :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  جب بھی نکاح جیسی عظیم سنت ادا کرنے کی سعادت نصیب ہو تو ہمیشہ دینداری کو فوقیت و برتری دینی چاہیے ۔  مال و دولت ، عزت و شہرت اور حسن و جمال تو عارضی اوصاف ہیں لیکن دینداری دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کا پیش خیمہ ہے ۔  مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’تم عورت کی شرافت ودینداری تمام چیزوں سے پہلے دیکھو کہ مال و جمال فانی چیزیں ہیں دین لازوال دولت ، نیز دیندار ماں دیندار بچے جنتی ہے ڈاکٹر اقبال نے کیا خوب فرمایا :

بے ادب ماں با ادب اولاد جَن سکتی نہیں

مَعْدَنِ زَر مَعْدَنِ فولاد بَن سکتی نہیں

ماں سیدتنا فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاجیسی ہو تو اولاد حسنین کریمین رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا جیسی ہوتی ہے ۔  نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’جو عورت کا صِرف مال دیکھ کر نکاح کرے گا ،  وہ فقیر رہے گا ، جو صِرف خاندان دیکھ کر نکاح کرے گا وہ ذلیل ہوگا اور جو دِین دیکھ کر نکاح کرے گا اسے برکت دی جائے گی ۔  مال ایک جھٹکے میں ، جمال ایک بیماری میں جاتا رہتا ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

دِیندار عورت سے نکاح کی برکت :

مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ نکاح کے معاملے میں دِیندار نیک و صالح خاتون کو دنیاوی اوصاف کی حامل عورتوں پر ترجیح دی جائے کہ یہ دونوں جہاں میں کامیابی کا سبب ہے



[1]     عمدۃ القاری ، کتاب النکاح ، باب الاکفاء فی الدین ، ۱۴ / ۳۲ ، تحت الحدیث : ۵۰۹۰ ۔

[2]     فتح الباری ، کتاب النکاح ، باب الاکفاء فی الدین ، ۱۰ / ۱۱۶ ، ۱۱۵ ، تحت الحدیث : ۵۰۹۰ملخصًا ۔

[3]     دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔  ۔ الخ ، ۲ /  ۲۲۸ ، تحت الحدیث : ۳۶۴ملخصًا ۔

[4]     مرآ ۃ المناجیح ، ۵ / ۴ ، ۳ملخصًا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن