30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث پاک میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ نیک لوگوں کے فراق میں غم کرتے ہوئے رونا جائز ہے اگرچہ وہ اعلیٰ مقام میں منتقل ہوچکے ہیں ۔ ‘‘ ( [1] )
مدنی گلدستہ
سیدتنا ’’اُمِّ اَیْمَنْ ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بہت ہی مقام ومرتبے اور فضیلت والی خاتون تھیں ، انہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضاعی والدہ ہونے کی سعادت حاصل ہے نیز حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بذات خود انہیں اپنی والدہ فرمایا کرتے اور ان سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے ۔
(2) بزرگوں کی وفات کے بعد ان کے معمولات قائم رکھنا ، ان کے دوستوں سے محبت کرنا بلکہ وہ حضرات جن سے ملاقات کرتے ہوں ان سے ملاقات کے لیے جانا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے ۔
(3) مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب چند لوگوں کا مل کر اپنے سے کم مرتبے والے شخص کی زیارت کرنے کے لیے جانا بالکل جائز ہے تو اپنے سے زیادہ مرتبے والے کی زیارت کے لیے جانا تو بدرجہ اولیٰ جائز ہے ۔
(4) نیک لوگوں کے وصال اور ان کی جدائی پر غم کرتے ہوئے رونا جائز ہے اگرچہ وہ اس سے بھی زیادہ افضل مقام پر منتقل ہوچکے ہوں ۔
(5) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال سے اُمَّت کئی فوائد سے محروم ہوگئی ، اسی وجہ سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کی جدائی کے غم میں آنسوں بہایا کرتے تھے ۔
(6) وحی کے منقطع ہونے کے بعد اُمَّت میں فتنہ وفساد برپا ہوئے ، نفاق واِرتداد کا ظہور ہوا اور اگر امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان فتنوں کی سرکوبی نہ فرماتے تو قیامت تک اسلام کا نام لینے والا کوئی نہ ہوتا ، یقیناً یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اُمَّتِ مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں کی زیارت کے لیے جانے اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 361 اللہ کیلئے مسلمان بھائی سے محبت کی فضیلت
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَنَّ رَجُلاً زَارَ اَخًا لَهُ فِيْ قَرْيَةٍ اُخْرَى فَاَرْصَدَ اللهُ تَعَالَى عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا اَتَى عَلَيْهِ قَالَ : اَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ : اُرِيْدُ اَخًا لِيْ فِيْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا عَلَيْهِ؟ قَالَ : لَا غَيْرَ اَنِّيْ اَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ تَعَالَى قَالَ : فَاِنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكَ بِاَنَّ اللهَ قَدْ اَحَبَّكَ كَمَا اَحْبَبْتَهُ فِيْهِ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کرنے کے لیے چلا جو کسی دوسری بستی میں رہتا تھا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر فرما دیا ۔ جب وہ شخص اس فرشتے کے پاس پہنچا تو فرشتے نے پوچھا : ’’کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے اس سے ملنے کا ارادہ ہے ۔ ‘‘ فرشتے نے پوچھا : ’’ تم نے اس پر کوئی احسان کیا ہے جس کا بدلہ لینا چاہتے ہو؟ ‘‘ وہ بولا : ’’نہیں ! بلکہ میں تو محض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرشتے نے کہا : ’’میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے تمہارے پاس یہ پیغام لایا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی تم سے محبت کرتا ہے جس طرح تم اس شخص سے محض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرتے ہو ۔ ‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّکاپیغام بندے کے نام :
مذکور ہ حدیث پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا و خوشنودی کے لیے اپنے مسلمان بھائی کی زیارت کے لیے جانے اور اس سے محبت کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص اپنی بستی سے کسی دوسری بستی کی طرف چلا تاکہ اپنے بھائی سے ملاقات کرے ۔ یہاں بھائی سے مراد ایمانی اسلامی بھائی ہے جس کو اللہ کے لیے بھائی بنایا ہو خواہ نسبی ہو یا غیرنسبی ۔ جب یہ شخص اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے نکلا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک فرشتے کو اس کی گزرگاہ پر بھیج دیا اور جب یہ اس جگہ پہنچا تو فرشتے نے اس سے پوچھا : کہاں جارہے ہو؟ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : یہ سوال بے علمی کی بناء پر نہیں بلکہ اس سے وہ جواب حاصل کرنے کے لیے ہے جو یہاں مذکور ہے اور اسے بشارت دینے کے لیے ہے تاکہ لوگ یہ دونوں باتیں سنیں ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اسے بیان فرمانا اسی مقصد کے لیے ہے ۔ اُس شخص نے فرشتے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بستی میں میرا ایک بھائی قیام پذیر ہے میں اس سے ملنے کے لیے جارہا ہوں ۔ فرشتے نے پوچھا : کیا اس پر تیرا کوئی احسان ہے جس کا عوض لینے تو اس کے پاس جارہاہے ؟ یعنی تو کبھی اس پر احسان کرچکا ہے جس کا عوض حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے یا اس کا تجھ پر کچھ احسان ہے جس کا عوض دینے تو جارہا ہے ۔ وہ بولا : نہیں بلکہ میں تو محض اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع