30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمیشہ اپنی اُمت کے صالحین پر ہے خواہ وہ کہیں اور کسی زمانے میں ہوں حضور کی نگاہ میں ہیں ۔ اس سے مسئلہ حاضر وناظر بھی ثابت ہوتا ہے ۔ اس آیت میں قیامت تک کے مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ غافلوں ، متکبروں ، ریاکاروں ، مالداروں کی نہ مانا کریں ، مخلص صالح غرباء ومساکین مسلمانوں کی اطاعت کیا کریں ، ان مالداروں کی بات ماننا دنیا ودین برباد کردیتا ہے ، اور ان غرباء کے ساتھ رہنا دونوں جہان درست کردیتا ہے ، اسی لیے اکثر انبیاء واولیاء غرباء میں ہوئے ۔ ‘‘ ( [1] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 360 شَیخین کریمین اور حضرت اُمِّ اَیْمَن کی زیارت
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنْطلِقْ بِنَااِلَى اُمِّ اَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَزُوْرُهَا كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُهَا فَلَمَّا انْتَهَيَا اِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالَا لَهَا : مَا يُبْكِيْكِ؟ اَمَا تَعْلَمِيْنَ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : اِنِّيْ لَا اَبْكِيْ اَنِّيْ لَا اَعْلَمُ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ تَعَالٰى خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنْ اَبْكِيْ اَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّماءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرتِ سَیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : ’’آئیے حضرتِ اُمِّ اَیْمَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملاقات کے لیے چلتے ہیں جیساکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان سے ملاقات فرمایا کرتے تھے ۔ ‘‘ جب دونوں ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔ سیدنا صدیق اکبر و سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : ’’آپ کیوں روتی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے بہتر مقام ہے ۔ ‘‘ سیدتنا اُمِّ اَیْمَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بولیں : ’’ میں اس لیے نہیں روتی کہ میں اس بات سے لاعلم ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے بہتر مقام ہے بلکہ میں تو اس وجہ سے رورہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے ۔ ‘‘ سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی اس گفتگو نے سیدنا صدیق اکبر و سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بھی رونے پر مجبور کردیااور وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔
حضرت سیدتنااُمِّ اَیمَن کا مختصرتعارف :
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ صالحین کی زیارت کے لیے جانا بزرگوں کا طریقہ ہے جیساکہ حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر اور فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سَیِّدَتُنا اُمِّ اَیْمَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے ۔ جنابِ اُمِّ اَیْمَن کا نام ’’برکت ‘‘ ہے ، آپ حبشہ کی تھیں ، حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے والد ماجد کی باندی تھیں ، سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پرورش انہوں نے بھی کی ہے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کا نکاح حضرت سیدنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کردیا تھا ۔ انہیں کے بطن سے حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پیدا ہوئے ۔ آپ جہادمیں جاتیں ، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں اور غازیوں کی خدمت کرتی تھیں ۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کے بیس دن بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی وفات ہوئی ، حضرت سیدنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے غلام بن گئے تھے ، حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے لے کر انہیں آزاد کرکے اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا ۔ ‘‘ ( [3] )
سیدتنا اُمِّ اَیْمَن کے یہاں کثرت سے جانے کی وجہ :
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضورِ اکرم نُورِ مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدتنا اُمِّ اَیْمَن کا بہت اکرام فرماتے تھے اور فرمایا کرتے : ’’اُمِّ اَیْمَن میری والدہ ہیں ۔ ‘‘ اسی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کثرت سے ان کی زیارت کے لیے جایا کرتے ، آپ ان کے یہاں بیٹے کی طرح تھے اور وہ بھی آپ سے بیٹوں جیسا برتاؤ کرتی تھیں ۔ ‘‘ ( [4] )
حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرتِ سَیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایاکہ : ’’چلو ہم بھی سیدتنا اُمِّ اَیْمَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی زیارت کریں جیساکہ حضور نبی اکرم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا کرتے تھے ۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جناب اُمِّ اَیْمَن کی ملاقات کے لیے ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے ، چلو ہم بھی اس سنت پر عمل کریں ، اُمِّ اَیْمَن کی زیارت کریں ۔ معلوم ہوا کہ بزرگوں کی وفات کے بعد ان کے معمولات قائم رکھنا ، ان کے دوستوں سے محبت کرنا ، بلکہ جن کی وہ حضرات ملاقات کرتے ہوں ، ان سے ملاقات کے لیے جانا سنتِ صحابہ ہے ۔ ‘‘ ( [5] )
شیخین کو دیکھ کر حضور یاد آگئے :
[1] تفسیرنورالعرفان ، پ۱۵ ، الکہف ، تحت الآپہ : ۲۸ ۔
[2] مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل اُمِّ اَیْمَن رضی اللہ تعالی عنھا ، ص۱۳۳۳ ، حدیث : ۲۴۵۴ ۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۳۰۰ ماخوذا ۔
[4] دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۲۲ ، تحت الحدیث : ۳۶۰ ۔
[5] مرآ ۃ المناجیح ، ۸ / ۳۰۰ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع