30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا(۶۵)قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا(۶۶) ( پ۱۵ ، الکھف : ۶۰تا۶۶ )
ترجمۂ کنزالایمان : اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں یا قرنوں چلا ( مدتوں چلتا ) جاؤں ۔ پھرجب وہ دونوں ان دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں اپنی راہ لی سرنگ بناتی ۔ پھر جب وہاں سے گزر گئے موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا ۔ بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور ( ذکر ) کروں اور اس نے تو سمندر میں اپنی راہ لی اچنبا ( عجیب بات ) ہے ۔ موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے تو پیچھے پلٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ۔ تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا ۔ اس سے موسیٰ نے کہا : کیا میں تمہارے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تم مجھے سکھادو گے نیک بات جو تمہیں تعلیم ہوئی ۔
مذکورہ آیات کی باب سے مناسبت :
واضح رہے کہ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ان آیات کا ابتدائی اور انتہائی حصہ بیان فرمایا ہے ، لیکن ہم نے مکمل آیات کو بیان کردیا ہے ۔ مذکورہ آیات میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر عَلَیْہِمَا السَّلَام کا واقعہ بیان فرمایا ہے جس میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام کی زیارت کرنے ، ان کی صحبت اختیار کرنے اور ان سے علم سیکھنے کا بیان ہے ۔ اور یہ باب بھی بزگوں کی زیارت کو جانے ، ان کی صحبت اختیار کرنے ، ان سے علم حاصل کرنے کے بارے میں ہے اسی وجہ سے عَلَّامَہ یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ان آیات کو اس باب میں بیان کیا ہے ۔
حضرت سیدنا اُبَیْ بن کَعَبْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک روز حضرتِ سَیِّدُناموسیٰ کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل میں کھڑے ہوکر خطبہ دیا تو آپ سے پوچھا گیا : ’’لوگوں میں سب سے بڑا عالِم کون ہے ؟ ‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا : ’’میں ۔ ‘‘ تو رب تعالیٰ نے آپ پر عتاب فرمایا کہ آپ نے علم کی نسبت اپنی طرف کرنے کے بجائے رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف کیوں نہ کی؟ اور یہ کیوں نہ کہا کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہتر جانتا ہے کہ سب سے بڑا عالِم کون ہے ؟ ‘‘ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ’’بے شک میرا ایک بندہ مَجْمَعُ الْبَحْرَیْن کے پاس رہتا ہے ، وہ تم سے زیادہ عالِم ہے ۔ ‘‘ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : ’’ اے میرے رب ! میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ ‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا : ’’تم ایک مچھلی لے کر اپنے توشہ دان میں رکھ لو جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے تو وہی اس بندے کی رہائش گاہ ہے ۔ ‘‘ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک مچھلی بُھون کر اپنے توشہ دان میں رکھی اور منزل کی طرف چل دئیے ، آپ کے ساتھ حضرت سیدنا یوشع بن نُون عَلَیْہِ السَّلَام بھی تھے ۔ سفر کے لیے نکلتے وقت حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ عزم کیا کہ میں اس وقت تک چلتا رہوں گا جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر نہ پہنچ جاؤں یا پھر اس جگہ کی تلاش میں برسوں سفر کرتا رہوں ۔ اس کے بعد یہ دونوں حضرات اپنے سفر پر روانہ ہوئے حتیٰ کہ مَجْمَعُ الْبَحْرَیْن یعنی دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ گئے ۔ اس جگہ دریائے فارس اور دریائے رُوم آپس میں ملتے ہیں ۔ یہاں پانی کا ایک چشمہ ہے جسے آب حیات کہا جاتا ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس کا پانی اگر مُردے سے لگ جائے تو اس میں حیات پیدا ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ اس پانی کی چھینٹے توشہ دان میں موجود مچھلی پر پڑگئے کیونکہ توشہ دان کا منہ کھلا ہوا تھا لہٰذا وہ مچھلی زندہ ہوکر اچھلتی کودتی دریا میں غوطہ زَن ہوگئی اور جس سمت سے وہ دریا میں داخل ہوئی وہاں ایک سرنگ و غار جیسا راستہ بن گیا ۔ اس وقت حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ایک چٹان سے ٹیک لگا کر آرام فرمارہے تھے جبکہ حضرت سیدنا یوشع بن نون عَلَیْہِ السَّلَام نے مچھلی میں زندگی آنے اور اس کے پانی میں چلے جانے کو ملاحظہ فرمالیا تھا لیکن آپ نے حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو جگا کر اس بارے میں آگاہ کرنا مناسب خیال نہ کیا اور سوچا کہ جب آپ خود اُٹھ جائیں گے تو سارا ماجرہ بیان کردوں گا ۔
لیکن حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے بیدار ہونے کے بعد حضرت سیدنا یوشع عَلَیْہِ السَّلَام انہیں مچھلی کے بارے میں بتانا بھول گئے اور دونوں آگے چل پڑے ۔ ایک دن اور رات سفر کرنے کے بعد حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے ہم سفر سیدنا یوشع عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا : ’’ہمارا صبح کا کھانا لے آؤ ، بے شک اِس سفر نے ہمیں بہت مشقت میں ڈال دیا ۔ ‘‘ اِس پر حضرت سیدنا یوشع عَلَیْہِ السَّلَام کو مچھلی کا بھولا ہوا مشاہدہ یاد آگیا اور آپ نے معذرت خواہی کے انداز میں عرض کیا : ’’جس جگہ پر ہم آرام کرنے کے لیے رُکے تھے وہیں پر اس مچھلی میں جان آگئی تھی اور وہ اچھلتی کودتی دریا میں داخل ہوگئی تھی اور بڑے تعجب کی بات تو یہ ہے کہ وہ جس جگہ سے دریا میں داخل ہوئی وہاں ایک سرنگ نُما راستہ بن گیا ۔ میں نے یہ سارا معاملہ بذاتِ خود ملاحظہ کیا تھا اور میں نے چاہا کہ آپ کو جگا کر یہ دکھاؤں لیکن آپ کی سفری تھکاوٹ کی وجہ سے جگانا مناسب نہ سمجھا ، میں نے سوچا کہ جب آپ بیدار ہوں گے تو بتادوں گا ، لیکن بعد میں شیطان نے مجھے بھلادیا کہ میں آپ کو اس بارے میں آگاہ کروں ۔ ‘‘ جب حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ بات سنی تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا : ’’وہی تو ہماری مطلوبہ جگہ ہے جس کی تلاش میں ہم نکلے ہیں ۔ ‘‘ پھر دونوں اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے پلٹے اور واپس مَجْمَعُ الْبَحْرَیْن آئے اور اسی چٹان کے پاس جہاں آپ نے آرام فرمایا تھا حضرتِ سَیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کو سفید کپڑے میں لپٹا ہوا پایا ۔ حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں سلام کیا تو حضرت سیدنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ’’تمہاری زمین میں سلام کہاں؟ ‘‘ سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ’’میں موسٰی ہوں ۔ ‘‘ پوچھا : ’’بنی اسرئیل کے موسیٰ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ہاں ! میں تمہارے پاس موجود علم سیکھنے آیا ہوں ۔ ‘‘ ( [1] )
جب حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی ملاقات حضرت سیدنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا : ’’ کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہوں کہ آپ مجھے اپنے اس علم
[1] تفسیرقرطبی ، پ۱۵ ، الکھف ، تحت الآیۃ : ۶۰تا۶۶ ، جزء : ۱۰ ، ۵ / ۳۱۵ ، تفسیرخازن ، پ۱۵ ، الکھف ، تحت الآیۃ : ۶۰تا۶۶ ، ۳ / ۲۱۶ ، ۲۱۸ملخصا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع