30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں تک کہ جب وہ خود بوڑھا ہوگا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک شخص کو مقرر فرمادے گا جو اُس کی عزت کرے گا پس جیسا اُس نے کیا تھا اس کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوگا ۔ ‘‘ ( [1] )
مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی جو شخص بوڑھے مسلمان کا صرف اس لیے احترام کرے کہ اس کی عمر زیادہ ہے ، اس کی عبادات مجھ سے زیادہ ہیں ، یہ مجھ سے پرانے اسلام والا ہے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّدنیا میں وہ دیکھ لے گا کہ اس کے بڑھاپے کے وقت لوگ اس کا احترام کریں گے ۔ اس وعدے میں فرمایا گیا کہ ایسا آدمی دراز عمر بھی پائے گا دنیا میں مال ، عیش ، عزت بھی اسے ملے گی آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے ۔ خود اس حدیث کے راوی حضرت انس ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) نے حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی دس سال خدمت کی ، دیکھ لو کہ ان کی عمر ایک سو تین سال ہوئی ۔ ان کی زندگی میں ان کی اولاد کی تعداد ایک سو ہوئی یعنی اولاد اور اولاد کی اولاد ۔ ایک مخلوق نے ان سے احادیث روایت کیں ، جہاں پہنچ جاتے تھے لوگ ان کی زیارت کے لیے جمع ہوجاتے تھے ۔ یہ ہے اس حدیث کا ظہور اور اس وعدہ نبوی کی جیتی جاگتی تصویر و تفسیر ۔ ‘‘ ( [2] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی آدمی جیسا کرتا ہے ویسا ہی بھرتا ہے ، یعنی آج اگر ہم کسی بزرگ کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ، اپنے ماں باپ کی بڑھاپے میں خدمت کریں گے ، ان کا ادب واحترام کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کل ہماری اولاد بھی ہمارا ادب واحترام کرے گی ، ہمارے بڑھاپے میں بھی وہ ہماری خدمت کرے گی ۔ جو لوگ بوڑھوں کی عزت نہیں کرتے ، اپنے بوڑھے والدین کی خدمت نہیں کرتے ، ان کا ادب واحترام نہیں کرتے ، ان کی بھی بڑھاپے میں کوئی عزت نہیں کرتا ۔ ترغیب وترہیب کے لیے چند واقعات پیش خدمت ہیں :
خراسان سے ایک مرید اپنے پیر صاحب کی خدمت و زیارت کی غرض سے سفر پر روانہ ہوااور مصر پہنچا اور ایک مدت تک پیر صاحب کی خدمت میں رہا ۔ ایک دن پیرصاحب کے پاس کچھ اکابرین زیارت کی غرض سے حاضر ہوئے تو پیر صاحب نے مرید سے کہا کہ’’ ان کی سواریوں کی دیکھ بھال کرو ۔ ‘‘ مرید ان کی دیکھ بھال کرنے لگا لیکن اس کے دل میں ایک خیال آیا کہ میں اتنا طویل سفر کر کے آیا اور اتنے عرصے پیر صاحب کی خدمت کی اُس کا یہ صلہ ملا ہے ۔ جب اکابرین زیارت کر کے چلے گئے تو مرید شیخ صاحب کے پاس حاضر ہوا ۔ شیخ صاحب نے اس سے فرمایا : ” اے بیٹے ایک دن آئے گا جب تیرے پاس بڑے بڑے لوگ زیارت کے لیے آئیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک شخص کو مقدر فرمادے گا جو اُن کی خدمت کرے گا ۔ “ شیخ الاسلام ندیم الباری عبداللہ الانصاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ’’جیسا شیخ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔ ہم نے دیکھا کہ اس مرید کے دروازے پر ہر وقت زیارت کرنے والوں کے خچر اور گھوڑے کھڑے رہتے تھے ۔ ( [3] )
ماں کو تنہا چھوڑ دینے والے کی عبرتناک موت :
شیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ صفحہ ۴۳۴ پرایک عبرت ناک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی ماں سخت بیمار ، موت کے بچھونے پر پڑی تھی ، اِس کے باوُجُود نالائق بیٹے نے اُس کے ساتھ بد تمیزی کی اور بے چاری کو تنہا چھوڑ دیا اور وہ غریب اِسی حالتِ تنہائی میں انتِقال کر گئی ۔ وقت گزرتا گیا ۔ 30سال بعد اُس ’’نالائق بیٹے ‘‘ کو دست لگ گئے اور نہایت کمزور ہو گیا ۔ ہاتھوں کا کِیا یوں آڑے آیا کہ رو رو کر کہتا سنا گیا : ’’ میرے تین بیٹے ہیں مگر میری بِالکل پرواہ نہیں کرتے ، میں کئی روز سے بیمار پڑا ہوں مگر ایک بار بھی ملنے نہیں آئے ۔ ‘‘ آخِر کار وہ اپنی ماں کی طرح رات کو اکیلا مَر گیا ۔ صُبح مَحَلّے والوں نے دیکھاکہ اکیلی لاش پر چِیونٹیاں اکٹّھی ہوچکی تھیں اور اُس کو کاٹ رہی تھیں ۔
دل دُکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا
ورنہ ہے اِس میں خسارہ آپ کا
یہ حقیقت ہے کہ ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں بھی سزا پاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’سب گناہوں کی سزا اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو قِیامت کیلئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کی سزا جیتے جی پہنچاتاہے ۔ ‘‘ ( [4] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں دُنیوی مَفادات کیلئے نہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَحکامات کی بجا آوَری کی نیّت سے والِدَین کی اِطاعت کرنی چاہئے ۔
غیر اسلامی مُمالِک میں بکثرت اولڈہاؤس ہیں او ر افسوس اب ان کی دیکھا دیکھی اسلامی ملکوں حتّٰی کہ پاکستان میں بھی اس کا آغاز ہو چکا ہے ! دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں 16ربیعُ النور شریف۱۴۳۲ہجری ( 19.2.2011 ) کو مُعمَّرحضرات ( یعنی بوڑھوں ) کا مَدَنی مذاکرہ ہوا تھا جس میں مُلک بھر سے ہزاروں سِن رَسیدہ بزرگوں نے شرکت کی تھی اوریہ مدنی مذاکرہ ’’مدنی چینل ‘‘ پر براہِ راست ٹیلی کاسٹ ( TELECAST ) کیا گیا تھا ۔ کسی پاکستانی اولڈہاؤس میں مقیم دو نہایت کمزور بزرگوں نے اسلامی بھائیوں سے نہایت
[1] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۱۹ ، تحت الحدیث : ۳۵۹ ۔
[2] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۶۰ ۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۸ / ۷۰۶ ، تحت الحدیث : ۴۹۷۱ ۔
[4] مستدرک حاکم ، کتاب البروالصلۃ ، کل الذنوب یؤخر اللہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۲۱۶ ، حدیث : ۷۳۴۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع