دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

کی قابلیت جیسے اَوصاف کو جانچ لیا تھا ۔  سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود فرماتے ہیں کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دیگر اَصحاب پر میری رائے کو مقدم رکھتے تھے اور مجھ سے فرمایا کرتے تھے :  ’’تم اُس وقت تک کوئی رائے نہ دیا کرو جب تک یہ لوگ اپنی کوئی رائے نہ دے دیں ۔ ‘‘ میں اس پر عمل کرتا اور جب اپنی رائے دیتا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے :  ’’ تم سب مل کر بھی وہ رائے نہ دے سکے جو اس کم عمر لڑکے نے دی ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

 ( 4 ) سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چونکہ کم عمر تھے اس لیے اکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مجالس میں شرکت کے وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ انتہائی ادب واحترام کے ساتھ خاموشی اختیار فرمایا کرتے تھے ، اُن کی اجازت کے بغیر ایک لفظ بھی نہ بولتے ، یہی وجہ ہے کہ جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے صحابہ کرا م عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے سورۃُ النصر کی تفسیر کے بارے میں استفسار کیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بالکل خاموش بیٹھے رہے ۔  جب سب نے اپنا مؤقف بیان کردیا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے آپ سے استفسار فرمانے پر ہی جواب دیا ۔  ( [2] )

 ( 5 ) سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ایک علمی مجلس تھی جس میں آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نوجوانوں کی علمی باتیں سنتے اور اُن کی اصلاح فرماتے تھے ، سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُس میں پیش پیش رہتے تھے ، سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نمازِ اِشراق سے فارغ ہو کر کھجوریں خشک کرنے کے لیے اپنے باغ میں جاتے اور قرآنِ پاک پڑھنے والے نوجوانوں کو بلواتے ، ان میں سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ہوتے تھے ، ایک مرتبہ دورانِ تلاوت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے قرآنِ پاک کی تفسیر بیان کی تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’اے ابنِ عباس !  تمہارے علم کی کیا بات ہے ۔   ‘‘ 

 ( 6 ) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خصوصی شفقتوں ، محبتوں اور عنایتوں ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کئی خصوصیتیں وسعادتیں نصیب ہوئیں ، نیز علمی میدان خصوصاً تفسیرِ قرآن میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حوصلہ اَفزائی سے وہ ترقیاں ملیں کہ آج سب لوگ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو’’مُفَسِّر قرآن  ‘‘   ، ’’ترجمان القرآن  ‘‘   ، ’’حبر الامت  ‘‘   کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ( [3] )

مدنی گلدستہ

’’حُسنِ ادب  ‘‘  کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

  اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1)   جب کسی مجلس میں چھوٹے اور بڑے دونوں موجود ہوں تو چھوٹوں کو چاہیے کہ بڑوں سے پہلے گفتگو میں پہل نہ کریں ۔

(2)   بڑوں سے گفتگو میں پہل کرنا خلافِ ادب  اور پہل نہ کرنا حسن ادب ہے ۔

(3)   کم عمر سمجھدار بچوں کا اصحاب علم بڑوں کی مجلس میں حاضر ہونا مستحسن ہے تاکہ وہ بڑوں کی مجالس کے آداب سیکھیں ، ضروری دینی مسائل سے آگاہی حاصل کریں ۔

(4)   والد کو چاہیے کہ وہ اپنے کم عمر سمجھداربچوں کو اصحاب علم کی مجالس میں لے کر جائے اور ان کی اس معاملے میں حوصلہ افزائی کرے ۔

(5)   امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کم عمر اصحاب کی حصول علم کے معاملے میں بہت حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے ۔

(6)   حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کم عمر تھے لیکن جب یہ دونوں بڑے اصحاب علم کی مجلس میں بیٹھتے تو ان کے ادب واحترام کی وجہ سے کچھ نہ بولتے تھے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی بڑوں کی مجالس کا ادب کرنے ، ان سے پہلے گفتگو شروع نہ کرنے ، اصحاب علم کی مجالس میں حصولِ علم کیلئے بیٹھنے ، ان کی مجلس کے آداب سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر :  359                                                                                                                                                                                                                                                                          عزت کرو گے تو عزت پاؤگے

عَنْ اَنَسِ  قَالَ :  قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  مَا اَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ اِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ. ( [4] )  

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” جو بھی جوان کسی بوڑھے کی اس کی عمر کی وجہ سے تعظیم کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے لیے اُسے پیدا فرمادیتا ہے جو بڑھاپے میں اُس کی عزت کرے گا ۔ “

جیسی کرنی ویسی بھرنی :

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں ایک وعدے کی طرف اشارہ ہے کہ جوشخص کسی بزرگ کا ادب و احترام کرے گا وہ لمبی عمر پائے گا



[1]     صحیح ابن خزیمۃ ، جماع ابواب ذکر الایام ۔ ۔ ۔ الخ ، باب الامر بالتماس ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۳۲۲ ، حدیث :  ۲۱۷۲ ۔

[2]     بخاری ، کتاب التفسیر ، باب قولہ :  فسبح ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۳۹۱ ، حدیث :  ۴۹۷۰ ۔

[3]     فیضان فاروق اعظم ، ۲ / ۴۸۴ ۔ ۴۸۶ ۔

[4]      ترمذی ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب ما جاء فی اجلال الکبیر ، ۳ / ۴۱۱ ، حدیث : ۲۰۲۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن