30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بڑوں کی مجلس میں چھوٹوں کی حاضری :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے حضرت سیدنا سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کم عمر ہونے کے باوجود بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے احادیث مبارکہ سنتے اور انہیں یاد کرتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کم عمر سمجھدار بچوں کی بڑوں کی مجلس میں سیکھنے کی غرض سے حاضری بالکل جائز اور درست ہے ، بلکہ والد کو چاہیے کہ اپنے سمجھدار بچوں کو بزرگوں کی بارگاہ میں لے کر جائے ، علمائے کرام ، مفتیان کرام کی خدمت میں لے کر جائے تاکہ وہ بھی ان کے علوم سے استفادہ کریں ، ان کے فیضان سے فیض حاصل کریں ، وہ بھی بڑوں کی مجالس کے آداب سیکھیں ۔ نیز والد کو چاہیے کہ اپنے سمجھدار بچوں کی اس معاملے میں حوصلہ افزائی بھی کرے ۔ چنانچہ ،
فاروقِ اعظم کم سن اصحاب کا حوصلہ بڑھاتے :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہ صرف علمی مباحثے کو پسند فرماتے اور علمی مناظرے فرماتے بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حلقۂ احباب میں جو کم عمر اصحاب حصول علم میں دلچسپی لیتے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے ۔ خصوصاً حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ دونوں ہمہ وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے زیر تربیت رہتے تھے ۔ چنانچہ ،
سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر کی حوصلہ افزائی :
ایک بار سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبارگاہِ رسالت میں حاضر تھے ، سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے ۔ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو مخاطب کرکے ایک سوال پوچھااور ارشاد فرمایا : ’’اے میرے صحابہ ! بیشک ایک درخت ہے ، جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مؤمن کی مثل ہے ، بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے ؟ ‘‘ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اس کا جواب آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ، لیکن میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موجودگی میں بولنے سے جھجک محسوس کی کہ جب دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اتنے جلیل القدر صحابہ خاموش ہیں تو میں کیوں بولوں؟ ‘‘ پھر سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود ہی جواب ارشاد فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے ۔ بعد میں جب میں نے اپنے والد سے اس بات کا اظہار کیا کہ مجھے اس سوال کا جواب آتا تھا لیکن میں آپ لوگوں کی وجہ سے نہ بول سکاتو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھے ارشاد فرمایا : ’’اے بیٹے ! اگر تو حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے اپنے جواب کا اظہار کردیتا تو یہ مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب تھا ۔ ‘‘ ( [1] )
سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس کی حوصلہ افزائی :
ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لوگوں سے ایک آیت مبارکہ کی تفسیر کے متعلق استفسار فرمایا تو لوگوں نے انکار کیا لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے شاگرد رشید حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا کہ اس کے متعلق میرے ذہن میں کچھ ہے ۔ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اے میرے بھتیجے ! اگر تمہیں معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنے آپ کو حقیر ( یعنی چھوٹا ) نہ سمجھو ۔ ‘‘ ( [2] )
تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘ جلددوم ، ص۴۸۴سے کم عمر سمجھدار بچوں کی بڑوں کی مجلس میں حاضری ، بڑوں کی مجلس کے آداب اور ان کم عمر سمجھدار بچوں کی علمی حوصلہ افزائی سے متعلق علم وحکمت کے چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں :
( 1 ) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے ، جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کے اندر شرافت ، ذہانت وفطانت کی علامات دیکھیں تو ان پر خصوصی توجہ دینا شروع کردی ، آپ انہیں اپنے علمی حلقوں میں بٹھاتے ، اُن سے مشورے بھی کرتے ، قرآنی آیات میں اِشکال ہوتا تو اُن سے استفسار فرماتے ۔ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُچونکہ ابھی نوجوان تھے اس لیے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شفقتوں سے آپ کو آگے بڑھنے اور علم حاصل کرنے کا حوصلہ اور جذبہ ملتا ۔
( 2 ) انہی حوصلہ افزا اقدام کو دیکھتے ہوئے ایک بار آپ کے والد گرامی حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپ سے ارشاد فرمایا : ’’اے میرے بیٹے ! میں دیکھ رہاہوں کہ امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتمہیں بلا لیتے ہیں ، تمہیں تنہائی میں بھی اپنا قرب دیتے ہیں ، دیگر اصحاب کی موجودگی میں تم سے مشورہ لیتے ہیں ، لہٰذا میری تین باتیں ہمیشہ یاد رکھنا : اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتے رہنا ، امیر المؤمنین کا کوئی راز فاش نہ کرنا ، وہ کبھی تم کو جھوٹا نہ پائیں ، ان کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرنا ۔ ‘‘ ( [3] )
( 3 ) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی علمی مجالس میں بھی لے جایا کرتے تھے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کی ذات مبارکہ میں موجود ’’فہم ‘‘ یعنی بات کو جلدی سمجھنے کی صلاحیت ، اسے یاد رکھنے کی قوت ، استنباط کی باریکیوں کو پہچاننے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع