دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتاہے :

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) ( پ۹ ، الاعراف : ۱۹۹ )

ترجمۂ  کنزالایمان  :  اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو ۔

مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی اپنے ذاتی دشمنوں کو معاف فرمادو اور جو تمہاری ذات سے جہالت کا برتاؤ کرے ، اس سے بے توجہی اور درگزر فرماؤ نہ کہ اللہ رسول کے دشمنوں سے ۔  لہٰذا یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے اور اس میں اعلیٰ اخلاق کی تعلیم ہے  جس سے دشمن بھی دوست بن جاویں ۔ ‘‘ ( [1] )

مدنی گلدستہ

’’حُسْنِ خُلْق  ‘‘  کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1)   امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حق بات کہنے ، سننے والے تھے ، کسی بھی ناحق بات کو ہرگز قبول نہ فرمایا کرتے تھے ۔

(2)   امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قریب علماء اور نیک ومتقی لوگوں کو رکھا کرتے تھے جن میں جوان اور بوڑھے دونوں ہوتے تھے اور ان ہی سے مشورہ کرتے تھے ۔

(3)   حضرت سیدنا حر بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عالم اور بڑے عابد تھے اسی لیے انہیں بارگاہِ فاروقی کی قربت اور اعلیٰ مقام حاصل تھا ۔

(4)   اپنی ذات کے خلاف کوئی بھی بات سن کر اس پر صبر کرنا چاہیے جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے صبر فرمایا ۔

(5)   اسلام میں اپنے ذاتی دشمنوں سے بدلہ لینے کی نہیں بلکہ انہیں معاف کرنے اور عفوردرگزر سے کام لینے کی ترغیب دلائی گئی ہے ، یہ وہ تعلیم ہے جس سے دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں ۔

(6)   جاہل لوگوں سے بحث مباحثہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی کرنی چاہیے کیونکہ اِسلام میں جاہلوں سے اِعراض کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عفوودرگزر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے ، جاہلوں سے بحث مباحثہ کرنے کے  بجائے اُن سے اِعراض کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 358                                                                                                                                                                                                              بڑوں کا ادب و اِحترام

عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ :   لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا فَكُنْتُ اَحْفَظُ عَنْهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا اَنَّ هَا هُنَا رِجَالًا هُمْ اَسَنُّ مِنِّي. ( [2] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعیدسَمُرَہ بن جُندُبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں لڑکا تھااورمیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ( سن کر ) حدیثیں یاد کیا کرتا تھا ، مجھے وہاں گفتگو سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی سوائے اس بات کے کہ وہاں مجھ سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں ۔   ‘‘ 

چھوٹوں کا گفتگو میں پہل کرنا خلاف ادب :

اِس حدیث پاک میں ادب کی تربیت دی گئی ہے کہ جب کسی جگہ بڑے موجود ہوں تو چھوٹوں کو بلا ضرورت کلام نہیں کرنا چاہیے بلکہ بڑوں کو بات کرنے کا موقع دینا چاہیے ، بڑوں کے سامنے چھوٹوں کا گفتگو میں پہل کرنا خلافِ ادب ہے ۔  عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے یہ مسئلہ اخذ کیا کہ اگر کسی جگہ بڑے مرتبے والا شخص ہو مثلاً علم میں ، ضبط میں ، حفظ میں یا عمر میں بڑا ہو تو چھوٹے مرتبے والے کو گفتگو کرنا مکروہ ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) حافظ عبدالرحمٰن ابن جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :  ’’اِس حدیث پاک میں گفتگو کرتے ہوئے بڑوں کا ادب کرنے پر تنبیہ فرمائی گئی ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

بڑوں کے سامنے گفتگو نہ کرنا حسن ادب :

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’بڑی عمر والے بزرگوں اور زیادہ علم والوں کے سامنے تقدیم نہیں کرنی چاہیے اور یہ حُسنِ ادب میں سے ہے ۔ حضرت سیدنا سفیان بن عیینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیدنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی موجودگی میں کلام نہیں فرمایا کرتے تھے ، جب انہوں نے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو سیدنا سفیان بن عیینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی :  ’’جب تک آپ حیات ہیں میں کلام نہیں کروں گا ۔ ‘‘ ( [5] )

 



[1]     تفسیرنورالعرفان ، پ۹ ، الاعراف ، تحت الآیۃ : ۱۹۹ ۔

[2]      مسلم ، کتاب الجنائز ، باب این یقوم الامام من المیت ، ص۴۸۱ ، حدیث :  ۹۶۴ ۔

[3]      دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۱۸ ، تحت الحدیث : ۳۵۸ ۔

[4]     کشف المشکل ، مسند سمرۃ بن جندب ، ص۳۳ ، تحت الحدیث :  ۵۰۳ / ۶۰۸ ۔

[5]     اکمال المعلم ، کتاب الجنائز ، باب این یقوم الامام من المیت ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۴۳۱ ، تحت الحدیث :  ۹۶۴ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن