30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
( 1 ) اس حدیث مبارکہ میں اِس بات کا بیان ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قریبی اور مشیر لوگ علماء حضرات ہوتے تھے ، یقیناً علماء کا یہ مقام ومرتبہ ہے کہ ان کو اپنے قریب کیا جائے ان ہی سے مشاورت کی جائے ۔ یہ باب بھی علماء کو ان کے مقام ومرتبے میں رکھنے ، ان کی مسند کو بلند کرنے کا ہے ۔ اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔ ( 2 ) اس حدیث پاک میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ حضرت عیینہ بن حصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب بارگاہِ فاروقی میں حاضر ہوئے تو انہوں نے شکوہ کیا جسے سن کر امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جلال میں آگئے اور ہوسکتا تھا کہ انہیں سزا دیتے لیکن حضرت حر بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ کو عفوو درگزر کرنے اور جاہلوں سے اعراض کرنے کی ترغیب دلائی ، نیز یہ بھی بیان کیا کہ حضرت عیینہ بن حصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ناسمجھ لوگوں میں سے ہیں ۔ یعنی انہوں نے آپ کی بارگاہ میں فقط اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ، لہٰذا ان کے ساتھ سزا والا معاملہ نہ کیا جائے تو سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بھی ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی کیونکہ وہ عفوودرگزر کے لائق تھے ، اس لیے آپ نے انہیں درگزر کردیا ۔ یعنی جو بات ان کے مرتبے کے لائق تھی آپ نے ان کے ساتھ وہی فرمایااور یہ باب بھی اسی بات کے بیان میں ہے کہ جس کا جو مقام ومرتبہ ہو اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کیا جائے ۔ اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
سیدنا فاروقِ اعظم کا صبراور قرآن پرعمل :
مذکورہ حدیث پاک میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عظیم الشان صبر کا بیان ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے اوپرسنگین الزامات سننے کے بعد قرآن پرعمل کرتے ہوئے عفوودرگزر سے کام لیا اور الزام لگانے والے کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کی ۔ اس حدیث کی مزید مزید شرح کے لیے ’’فیضانِ ریاض الصالحین ‘‘ کی جلد اوَّل ، باب الصبر ، حدیث نمبر۵۰ کا مطالعہ کیجئے ۔
اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مشیر اور قریبی وہ لوگ تھے جو قاریٔ قرآن تھے ۔ یہاں قاری سے مراد عالِم ہے ۔ جیسا کہ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیعمدۃ القاری میں فرماتے ہیں : ’’قراء سے مراد علماء اور عبادت گزار بندے ہیں ۔ ‘‘ ( [1] ) اس سے معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ علماء ، اہلِ فضل اور نیک لوگوں کو اپنے قریب جگہ دیتے ، اُن کی تعظیم و توقیر کرتے اور انہی سے مشاورت کرتے تھے ۔
سیدنا حُر بن قیس اور بارگاہِ فاروقی :
حضورسید عالَم نور ِمجسم شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس غزوۂ تبوک کے بعد قبیلہ فزارہ کا وفد آیا اُن میں حضرت سیدنا حُرّ بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے ۔ یہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مجلس مشاورت کے رُکن اور مقرب تھے ۔ یہ عالِم اور بہت بڑے عابد تھے اسی لیے سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں اپنا قریبی کیا تھاکیونکہ سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مشیر علماء ، قاری ، عابد اور نیک خو بوڑھے اور نوجوان ہوتے تھے ۔ تمام نیک سیرت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والے تھے ۔ سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مجلس کے وقت اُن کا کوئی حاجب دربان نہ ہوتا تھا ۔ اُن کی مجلس میں داخل ہونے کے لیے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہوتی تھی البتہ جب تنہا ہوتے اور آرام کا وقت ہوتا اس وقت ان کے پاس جانے کے لیے اجازت لینا پڑتی تھی اس لیے حضرت سَیِّدُنَا عُیَیْنَہ بن حصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو تنہائی کے وقت میں اجازت لینا پڑی ۔ ( [2] )
عفوودَرگُزر سے کام لینے کی ترغیب :
حضرت سیدنا حُر بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو عفوودرگزر کی ترغیب دلائی تو سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فوراً اسے قبول فرمالیا اور حضرت سیدنا عیینہ بن حصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو معاف فرمادیا ، ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ فرمائی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی معاف کرنے کی ترغیب دلائے اور معاف کرنا بندے کے اختیار میں ہوتو معاف کردینا چاہیے ۔ احادیث مبارکہ میں عفوودرگزر اور معاف کرنے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ تین فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے جنت میں محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں تو اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 2 ) ’’رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا اختیار کرو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں معاف فرمادے گا ۔ ‘‘ ( [4] ) ( 3 ) ’’قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا : جس کا اجر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہوجائے ۔ پوچھا جائے گا : کس کا اجر ہے ؟ وہ منادی کہے گا : ان لوگوں کا جو معاف کرنے والے ہیں ۔ تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔ ‘‘ ( [5] )
جاہلوں سے اِعراض کرنے کی تعلیم :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس حدیث پاک سے جہاں ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جس طرح معزز لوگوں کے مقام ومرتبے کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ ویسا ہی حُسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے اسی طرح جاہل لوگوں سے بحث مباحثہ کرنا یا ان کی کسی بات پر ان سے الجھنا یا ان سے لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے بلکہ جاہل لوگوں سے اَعراض کرنا چاہیے ۔ خود قرآنِ پاک میں
[1] عمدۃ القاری ، کتاب الاعتصام ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱۶ / ۵۰۸ ، تحت الحدیث : ۷۲۸۶ ۔
[2] تفہیم البخاری ، ۱۱ / ۱۶۴ ۔
[3] مستدرک حاکم ، کتاب التفسیر ، شرح آیۃ : کنتم خیر امۃ اخرجت للناس ، ۳ / ۱۲ ، حدیث : ۳۲۱۵ ۔
[4] مسند امام احمد ، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص ، ۲ / ۶۸۲ ، حدیث : ۷۰۶۲ ۔
[5] معجم اوسط ، من اسمہ احمد ، ۱ / ۵۴۲ ، حدیث : ۱۹۹۸ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع