دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

حیثیت کے لائق کرو ، اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کھانا کھارہی تھیں ، ایک اجنبی سائل دروازے سے گزرا ، آپ نے اسے روٹی کا ٹکڑا بھیج دیا ، ایک اجنبی گھوڑا سوار گزرا تو آپ نے اس سے کہلا کر بھیجا کہ اگر آپ کو کھانے کی خواہش ہو تو کھانا حاضر ہے ۔ کسی نے اُمّ ا لمؤمنین سے اس فرق کی وجہ  پوچھی تو آپ نے یہ ہی حدیث پڑھی ۔  معاملات عقائد بلکہ عبادات میں فرقِ مراتب کرنا ضروری ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

مدنی گلدستہ

’’حسن سلوک  ‘‘  کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول

(1)   اسلام میں ہرشخص کے ساتھ اس کے مقام ومرتبے کے مطابق حُسنِ سلوک کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ، اسلام میں کسی بھی مسلمان کی توہین وتذلیل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ۔

(2)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی لوگوں سے اُن کے مقام ومرتبے کے مطابق ہی پیش آتے تھے ۔

(3)   اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نہایت ہی سخی تھیں ، امیر وغریب ہرشخص کو عطا فرمایا کرتی تھیں ، آپ کے در سے کوئی بھی محروم نہیں جاتا تھا ۔

(4)   حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی لوگوں کے مقام ومرتبے کا لحاظ رکھتیں اور ان کے اسی مقام ومرتبے کے اعتبار سے حُسنِ سلوک سے پیش آتی تھیں ۔

(5)   معاملات ، عقائد ، عبادات وغیرہ ہرہر معاملے میں مقام ومرتبے کا خیال رکھنا چاہیے ۔

(6)   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی یہ مشیت ہے کہ اس نے لوگوں کے احوال ایک جیسے نہیں بنائے ، بلکہ مختلف بنائے ، کسی کو غریب ، کسی کو امیر ، کسی کو زیادہ رتبے والا ، کسی کو کم رتبے والا ، لہذا لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق معاملات کرنے والا دراصل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مشیت کے مطابق معاملات کرنے والا ہے اور جو لوگوں سے ان کے مراتب کے خلاف معاملات کرتا ہے تو گویا وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے جفا کرنے والا اور اس کی موافقت کو ترک کرنے والا ہے ۔

(7)   لوگوں سے اُن کے مقام ومرتبے کے مطابق معاملات کرنے میں بہت فوائد ہیں ، جو اس کے خلاف کرتا ہے وہ لوگوں کی دشمنیوں کو مول لیتا اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہرایک کے ساتھ اس کے مقام ومرتبے کے مطابق حُسنِ سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔         

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 357                                                                                      سیدنا فاروقِ اعظم   قرانی حُکم کے عامِل

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا  قَالَ قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ  فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ اَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ وَ كَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيْهِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ اَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ كُهُوْلًا كَانُوا اَوْ شُبَّانًا. فَقَالَ عُيَيْنَةُ لاِبْنِ اَخِيهِ يَا ابْنَ اَخِى  لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هٰذَا الْاَمِيْرِ فَاسْتَاْذِنْ لِى عَلَيْهِ  فَاسْتَاْذَنَ لَهُ فَاَذِنَ لَهُ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ :  هِىَ  يَا ابْنَ الْخَطَّابِ  فَوَاللَّهِ مَا تُعْطِيْنَا الْجَزْلَ  وَلَا تَحْكُمُ فِيْنَا بِالْعَدْلِ  فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ حَتَّى هَمَّ اَنْ يُّوْقِعَ بِهِ  فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ  يَا اَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  : ( خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) ) وَ اِنَّ هٰذَا مِنَ الْجَاهِلِيْنَ وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِيْنَ تَلاَهَا عَلَيْهِ  وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ . ( [2] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ عُیَیْنَہ بن حِصْن آئے اور اپنے بھتیجے حضرت حُربن قَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس ٹھہرے ۔  حضرت حربنْ قَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مُقَرَّبِیْن میں سے تھے ۔  میر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ بیٹھنے والے اور مُشِیْر ( یعنی مشورہ دینے والے ) نوجوان وبڑی عمر والے علماءحضرات ہوتے تھے ۔ عُیَیْنَہ نے اپنے بھتیجے سے کہا :  ’’اے بھتیجے  !  امیر المؤمنین کے ہاں تیری عزت ہے ، میرے لیے وہاں جانے کی اجازت طلب کرو ۔ ‘‘ انہوں نے اجازت مانگی تو امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اجازت دے دی ، جب عُیَیْنَہ حاضر ہوئے تو عرض کی : ” اے ابنِ خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ !  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !   آپ ہمیں نہ زیادہ دیتے ہیں اورنہ ہی ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں ۔ “ یہ سن کر سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جلال میں آگئے اور قریب تھا کہ اُنہیں سزا دیتے لیکن حضرت حُر بن قیسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’اے امیر المؤمنینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ !  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فرمایا  :  ” اے محبوب !  معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو“اور یہ نا سمجھ لوگوں میں سے ہیں ۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  اس آیت کی تلاوت کے بعد امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کوئی کاروائی نہ کی ۔  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب پر بہت عمل کرنے والے تھے  ۔   ‘‘ 

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :

 



[1]      مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۷۴ ۔

[2]      بخاری ، کتاب التفسیر ، باب خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاھلین ، ۳ / ۲۲۷ ، حدیث : ۴۶۴۲  ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن