30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ مَيْمُونِ بْنِ اَبِيْ شَبِيْبٍ رَحِمَہُ اللہُ اَنَّ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا مَرَّ بِهَا سَائِلٌ فَاَعْطَتْهُ كِسْرَةً وَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَهَيْئَةٌ فَاَقْعَدَتْهُ فَاَكَلَ فَقِيْلَ لَهَا فِي ذٰلِكَ؟ فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ “ رَوَاہُ اَبُو دَاوُدَ : لٰکِنْ قَالَ : ” مَيْمُونٌ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ“. ( [1] ) وَقَدْ ذَکَرَہُ مُسْلِمٌ فِی اَوَّلِ صَحِیْحِہِ تَعْلِیْقًا فَقَالَ وَذُکِرَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا قَالَتْ : ” اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَنْ نُنْزِلَ النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ“ وَ ذَکَرَہُ الْحَاکِمُ اَبُو عَبْدِ اللہِ فِی کِتَابِہِ ” مَعْرِفَۃُ عُلُوْمِ الْحَدِیْثِ“ وَلَمْ یَذْکُرْ لَہُ سَنَدًا وَقَالَ : ھُوَ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ.
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا میمون بن ابو شبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ایک فقیر آیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اُسے ایک ٹکڑا دے دیا پھر آپ کے پاس ایک ایسا آدمی آیا جو کہ اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھا ، آپ نے اُسے بٹھایا پھر اُس نے کھانا کھایا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے اِس فرق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جواب دیا کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” لوگوں کے ساتھ اُن کے مرتبے کے لحاظ سے سلوک کرو ۔ “اِس حدیث پاک کو امام ابو داود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا اور فرمایا : ’’حضرت سیدنا میمون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ملاقات نہیں کی ۔ ‘‘
امام مسلم نے اسے اپنی ” صحیح مسلم “کے شروع میں تعلیقا ًذکر کیا ہے پس انہوں نے کہا کہ حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں : ” رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں حکم دیا لوگوں کے ساتھ اُن کے مَراتب کے لحاظ سے سلوک کیا جائے ۔ “حاکم ابو عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِس حدیث پاک کو اپنی کتاب ” معرفۃ علوم حدیث“ میں بھی ذکر کیا ہے ، لیکن اِس کی سند ذکر نہیں کی اور فرمایا کہ ’’یہ حدیث صحیح ہے ۔ ‘‘
لوگوں سے اُن کی حیثیت کے مطابق سلوک :
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اِس بات پر ابھارا گیا ہے کہ لوگوں کو اُن کے مرتبے اور منصب کے درجے میں رکھا جائے ، محفل و قیام اور خطاب و کتابت میں اُن کے منصب کا اِعتبار کرتے ہوئے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی جائے ۔ ‘‘ امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ لہٰذا با وقار شخص کو کم تر درجے میں اور کسی کم تر کو بلند درجے میں نہ رکھاجائے ، نیز ہر ذی حق کو اس کا حق دیا جائے ۔ ‘‘ ( [2] )
علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’لوگوں کو ان کے مرتبے میں رکھو ۔ “یعنی ہر ایک کی حرمت کی اس کے مطابق حفاظت کرو ، جو اس کی عمر ، دِین ، علم اور شرف کے مناسب ہو ۔ اس حدیث مبارکہ میں عوام وخواص سب کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ علامہ عسکری نے اس حدیث پاک کو امثال اور حکم میں شمار کیا ہے اور فرمایا : ’’یہ وہ ادب ہے جو حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی امت کو سکھایا تاکہ وہ لوگوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرسکے ، علمائے کرام ، اولیائے عظام کی تعظیم اور بزرگوں کا ادب واحترام وغیرہ کرے ۔ ‘‘ ( [3] )
ساری مخلوق کی حالتیں ایک جیسی نہیں :
ایک اور مقام پرعلامہ عبدالرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک نکتہ بیان کرتے ہیں جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ : ’’تعظیم وتکریم بندے کی غذا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی مخلوق کی حالت ایک جیسی نہیں رکھی ، بعضوں کو غنی بنایا ، بعضوں کو فقراءبنایا ، بعضوں کو پستی عطا کی ، بعضوں کو بلندی عطا فرمائی تاکہ یہ جانچ ہو کہ کون زیادہ شکر گزار ہے ۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والا دنیا والوں کے ساتھ انہی مختلف حالتوں کے موافق معاشرتی اُمور سراَنجام دے گا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے مقررفرمائی ہیں ، جب وہ کسی کو اس کے اس مقام ومرتبے میں نہیں رکھے گا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے لیے رکھا ہے اور اس کے ساتھ اچھے اَخلاق سے پیش نہیں آئے گا تو گویا وہ رب تعالیٰ کے ساتھ جفا کرنے والا ہوگااور وہ اس کے بندوں کی حالتوں میں رب تعالیٰ کی موافقت کو ترک کرنے والا ہوگا ، پس جب وہ شریف اور کمینے ، غنی اور فقیر کو کسی مجلس میں برابر مرتبہ دے گا یا کوئی چیز برابر عطا کرے گا تو اس سے صلح کم اور فساد زیادہ برپا ہوگا ، کیونکہ غنی کی نشست کو جب دُور رکھا جائے گا یا اسے کوئی حقیر تحفہ دیا جائے گا تو وہ دشمنی اور عداوت رکھے گا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے لیے اس چیز کو مقدرنہیں فرمایا اور جب کوئی حکام والا معاملہ رعایا کے ساتھ کرے گا تو گویا اس نے اپنے آپ کو مصیبتوں کے لیے پیش کردیا ۔ ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’جس نے لوگوں کو اُن کے مقام ومرتبے میں رکھا تو اس نے اپنے آپ سے مشقت کو دور کردیااور جس نے اپنے بھائی کو اس کے مقام ومرتبے سے زیادہ بلند کیا تو گویا کہ اس نے اپنے اس بھائی کی دشمنی کو اپنی جانب کھینچا ۔ ‘‘ ( [4] )
معاملات ، عقائد ، عبادات میں فرقِ مراتب :
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی تمہارے پاس جس حیثیت کا آدمی آوے ، اس کی تواضع خاطر ، اِعزاز و اِکرام اُس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع