30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عَمرو بن شعیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے اور اُن کے والد اِن کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ، صاحب لَولَاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے شرف و عزت کو نہیں پہچانتا وہ ہم میں سے نہیں ۔ “ ابو داود کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ” ہمارے بڑوں کے حق کو نہیں پہچانتا ۔ “
’’وہ ہم میں سے نہیں ‘‘ کا معنی :
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘ کا مطلب ہے کہ ہماری سنت پر نہیں یا ہماری راہ پر نہیں یا ہمارے راستے پر نہیں ۔ ‘‘ ( [1] ) علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ہم میں سے نہیں ۔ یعنی ہمارے کامل مسلمانوں میں سے نہیں ۔ ‘‘ ( [2] ) مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ہم میں سے نہیں ۔ یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں ، یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ہاں جو حضراتِ انبیاءِ کرام کی توہین کرے وہ اسلام سے خارج ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
چھوٹوں پر رحم نہ کرنے سے مراد :
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’چھوٹوں پر رحم نہ کرے ۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ چھوٹے بچوں پر شفقت نہ کرے ، اُن پر رحم نہ کرے ، ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے ، ان کے ساتھ خوش طبعی نہ کرے ۔ ‘‘ ( [4] ) مُفَسِّر شہِیر ، حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’چھوٹوں پر رحم نہ کرے ۔ یعنی اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، اپنے سے بڑوں کا ادب نہ کرے ، چھوٹائی بڑائی خواہ عمر کی ہو ، خواہ علم کی ، خواہ درجہ کی ، یہ فرمان بہت عام ہے ۔ خیال رہے کہ صَغِیْرَنَا اور کَبِیْرَنَا فرما کر یہ بتایا کہ چھوٹے بڑے مسلمانوں کا ادب ان پر رحم چاہیے یہ قید بھی زیادتی اہتمام کے لیے ہے ، ورنہ کافر ماں باپ کا بھی مادری ادب کافر چھوٹے بھائی پر بھی قرابت داری کا رحم چاہیے جیسا کہ فقہاء کے فرامین اور دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے یوں ہی اُن کے حقوق قرابت ادا کرے ۔ ‘‘ ( [5] )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” ہمارے بڑوں کے شرف و عزت کو نہ پہچانے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بڑے جس تعظیم و توقیر کے مستحق ہیں انہیں وہ عزت نہ دے ۔ ‘‘ ( [6] ) علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ہمارے بڑوں کے شرف وعزت کو نہ پہچانے ۔ یعنی جس تعظیم وتکریم کے وہ لائق ہیں اس کو نہ پہچانے ۔ اور تجھ پر لازم ہے کہ تو ساری مخلوق پر رحم کرے اور ان کی رعایت کرے چاہے وہ جیسے بھی ہوں کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں اگرچہ وہ گنہگار یا نافرمان ہیں ، کیونکہ جب تو ایسا کرے گا تو تیری کوشش کامیاب ہوجائے گی اور تیری شان بلند ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( [7] )
مدنی گلدستہ
’’ایمان ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) چھوٹوں پر شفقت کرنا ، بڑوں کے شرف ومرتبے کو پہچاننا کمال ایمان سے ہے ۔
(2) چھوٹا چاہے عمر میں چھوٹا ہو ، چاہے علم میں چھوٹا ہو چاہے مرتبے میں چھوٹا ہو ، اس پر رحم اور شفقت کرنی چاہیے ، یہ فرمانِ عالیشان عام ہے ۔
(3) گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ہاں جو حضراتِ انبیاءِ کرام کی توہین کرے وہ اسلام سے خارج ہے ۔
(4) بڑے جس مقام ومرتبے کے مستحق ہوں اُن کو وہی مقام ومرتبہ دینا چاہیے ۔
(5) کافرماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ بھی نرمی اور شفقت والا سلوک کرنا چاہیے ، جبکہ ایسے لوگ جن کے عقائد درست نہیں یا اسلام کے بعد کفر کرچکے اُن کا کوئی حق نہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے چھوٹوں پر شفقت کرنے ، رحم کرنے اور اپنے بڑوں کے ساتھ ادب واِحترام سے پیش آنے اور ان کی تعظیم وتکریم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 356 لوگوں کے مراتب کے اعتبار سے سلوک
[1] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۱۳ ، تحت الحدیث : ۳۵۵ ۔
[2] فیض القدیر ، حرف اللام ، ۵ / ۴۹۴ ، تحت الحدیث : ۷۶۹۲ ۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۶۰ ۔
[4] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۱۳ ، تحت الحدیث : ۳۵۵ ۔
[5] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۶۰ ۔
[6] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۱۳ ، تحت الحدیث : ۳۵۵ ۔
[7] فیض القدیر ، حرف اللام ، ۵ / ۴۹۴ ، تحت الحدیث : ۷۶۹۲ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع