30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاویل کرکے غلط معنیٰ بیان کرنے والے جیسے تمام بدعتی لوگ ۔ ” قرآن سے دور نہ ہو“ یعنی قرآن کی تلاوت ، اس کے اَحکام ، اس کے معانی سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے اعراض نہ کرے ۔ ‘‘ ( [1] ) ایسے حافظ قرآن کی حدیث میں فضیلت بیان ہوئی ہے چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا مولا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ حضور تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے قرآنِ مجید پڑھا ، اور اسے حفظ کیا ، اس کے حلال کو حلال جانا اور اس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھروالوں میں سے ایسے دس افراد کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہوچکا تھا ۔ ‘‘ ( [2] )
عادِل حکمراناللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت :
حدیث پاک میں عادِل حاکم کی تعظیم کو بیان فرمایا گیا ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مُنصِف حاکِم عدل والا بادشاہ اللہ کی رحمت ہے جس کے سایہ میں اللہ کی مخلوق آرام پاتی ہے وہ رِعایا کے لیے مثل مہربان والد کے ہے اس لیے اس کا احترام ضروری ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) عادِل حکمران کے بھی احادیث مبارکہ میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، چنانچہ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’سات افراد ایسے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دے گا جس دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : ( 1 ) عادل حکمران ( 2 ) وہ نوجوان جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں اپنی زندگی گزار دی ۔ ( 3 ) وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہے ۔ ( 4 ) وہ دو شخص جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے محبت کرتے ہوئے جمع ہوئے اور محبت کرتے ہوئے جدا ہوگئے ۔ ( 5 ) وہ شخص جسے کوئی صاحب مال وجمال عورت گناہ کیلئے بلائے اور وہ کہے کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہو ۔ ( 6 ) وہ شخص جو اس طرح چھپاکر صدقہ دے کہ اس کے دائیں ہاتھ نے جو صدقہ دیا بائیں ہاتھ کو اس کا پتہ نہ چلے ۔ ( 7 ) وہ شخص جس کی آنکھیں تنہائی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتے ہوئے بہہ پڑیں ۔ ‘‘ ( [4] )
مدنی گلدستہ
’’احادیث ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) بوڑھے اور بزرگ مسلمانوں کا بہت ادب واحترام کرنا چاہیے ، جہاں تک ممکن ہو انہیں ہر ہر معاملے میں آگے کرنا چاہیے ۔
(2) بوڑھے اور بزرگ مسلمانوں کے ساتھ نہایت ہی تعظیم اور شفقت والا برتاؤ کرنا چاہیے کہ ان کی تعظیم کرنا گویااللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم کرنا ہے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم یہ بھی ہے کہ اس کے وقار کی تعظیم کی جائے اور اس کا وقار بوڑھا مسلمان ہے ۔
(4) عالم ، عمررسیدہ مسلمان ، حاکم اور والد ان چاروں کی تعظیم کرنا سنت ہے ۔
(5) حامل قرآن کی بھی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے ، مگر اس سے مراد وہ حافِظ یا قارِیٔ قرآن یا مفسرہے جو قرآن کے حلال کو حلال جانے ، حرام کوحرام اور اس پر عمل کرے کہ ایسے حافظ کی احادیث میں فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(6) انصاف کرنے والا بادشاہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہے جس کے سائے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق آرام پاتی ہے ، ایسے عادل حاکم کی بھی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بوڑھے اور بزرگ مسلمانوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، انہیں ہر معاملے میں مُقَدَّم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، قرآن وسنت پر عمل کرنے والے حافظ ، قارِی یا مُفَسِّر اور عادِل بادشاہ کی بھی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 355 چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا ادب کرو
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيْرِنَا. ( [5] ) وَفِی رِوَایَۃِ اَبِیْ دَاودٍ : ” حَقَّ کَبِیْرِنَا“. ( [6] )
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الادب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۸ / ۷۰۶ ، تحت الحدیث : ۴۹۷۲ ۔
[2] ترمذی ، کتاب فضائل القرآن ، باب ما جاء فی فضل قارٰیٔ القرآن ، ۴ / ۴۱۴ ، حدیث : ۲۹۱۴ ۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۶۱ ۔
[4] بخاری ، کتاب الاذان ، باب عن جلس فی المسجد ینتظر صلوۃ ، ۱ / ۲۳۶ ، حدیث : ۶۶۰ ۔
[5] ترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ما جاء فی رحمۃ الصبیان ، ۴ / ۳۶۹ ، حدیث : ۱۹۲۷ ۔
[6] ابو داود ، کتاب الادب ، باب فی الرحمۃ ، ۴ / ۳۷۲ ، حدیث : ۴۹۴۳ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع