30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵) ( پ۱۳ ، الرعد : ۲۵ )
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ بُرا گھر ۔
تفسیر طبری میں ہے : ’’جو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عہد توڑتے ہیں اور اُن کا عہد توڑنا یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے خلاف عمل کرتے اور اُس کی نافرمانی کرتے ہیں ( وعدہ پکا کرنے کے بعد ) یعنی بعد اس کے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے اپنی جانوں پر یہ لازم کر چکے تھے کہ ہم نے جو عہد کیا ہے اس پر عمل کریں گے ۔ ( قطع تعلق کرتے ہیں ) یعنی قریبی رشتوں کو توڑتے ہیں جن کو جوڑنے کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا تھا ۔ ( زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ) زمین میں فساد سے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرنا ہے ۔ ( ان کا حصہ لعنت ہی ہے ) تو یہی لوگ لعنتی ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور جنت سے دور ۔ ( ان کا نصیبہ بُرا گھر ) یعنی آخرت میں جو اُن کا ٹھکانا ہے وہ بہت برا ہے ۔ ‘‘ ( [1] )
فرمانِ باری تعالی ہے :
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) ( پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۲۳ ، ۲۴ )
ترجمۂ کنزالایمان : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن سے ہُوں ( اُف تک ) نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنااور اُن سے تعظیم کی بات کہنا ۔ اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھااور عرض کرکہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کرجیساکہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن ( چھوٹی عمر ) میں پالا ۔
مفسرقرآن علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس آیت کے تحت درج ذیل مسائل بیان فرمائے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ اَعمال :
( 1 ) اس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے حکم کو اپنی عبادت کرنے اور اپنی توحید کے حکم کے ساتھ ذکر کیاجیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ذکر کیا ۔ چنانچہ سورۂ لقمان میں فرمانِ باری تعالی ہے : ( اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-اِلَیَّ الْمَصِیْرُ(۱۴) ) ( پ : ۲۱ ، لقمن : ۱۴ ) ’’ترجمۂ کنزالایمان : حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا ، آخر مجھی تک آنا ہے ۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو کونسا عمل سب سے زیادہ پسند ہے ؟ ‘‘ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا : ” وقت پر نماز ادا کرنا“ عرض کی پھر کونسا؟ ارشاد فرمایا : ” پھر والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“ عرض کی پھر کونسا؟ ارشاد فرمایا : ” اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ “ ( [2] ) ( 2 ) والدین کے ساتھ بھلائی اور اچھا سلوک کرنے میں ایک بات یہ بھی ہے کہ ان کے بُرا بھلا کہنے کے باوجود اُن سے اِعراض نہ کیا جائے اور نہ ہی اُن کی نافرمانی کی جائے کیونکہ یہ بالاتفاق گناہ کبیرہ ہے ۔ ( 3 ) والدین کی جائز اَغراض میں اُن کی مخالفت کرنا اُن کی نافرمانی ہے جس طرح اُن کے جائز مطالبات میں اُن کی موافقت کرنا اِحسان و بھلائی ہے ، اِس لیے جب ماں باپ یا اُن میں سے ایک اپنی اولاد کو کسی کام کا حکم دیں تو اَولاد پر اُن کی اطاعت کرنا واجب ہے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہو ۔
سب سے زیادہ حسن سلوک کا حقدار :
( 4 ) حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی : ” لوگوں میں سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا حقدار کون ہے ؟ ‘‘ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” تیری ماں“ عرض کی : ’’پھر کون؟“ ارشاد فرمایا : ” پھر تیری ماں“ عرض کی : ’’پھر کون؟ ‘‘ ارشاد فرمایا : ” پھر تیری ماں“ عرض کی : ” پھر کون؟ ‘‘ ارشاد فرمایا : ” پھر تیرا باپ ۔ “ ( [3] )
کافر والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک :
( 5 ) والدین کے ساتھ بھلائی اور اچھا سُلوک کرنا صرف مسلمان والدین کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اگر وہ دونوں کافر ہوں تب بھی اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا ۔ فرمانِ باری تعالی ہے :
لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ ( پ۲۸ ، الممتحنۃ : ۸ )
ترجمۂ کنزالایمان : اللہتمہیں ان سے منع نہیں کرتاجو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ اُن کے ساتھ احسان کرو ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع