30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی مبارک مسواک کسی شخص کو عطا فرمائی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی استعمال والی مسواک کسی دوسرے کو دی جاسکتی ہے ، نیز کسی کی استعمال شدہ مسواک اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ دوسرے کی مسواک اس کی اجازت سے استعمال کرنا جائز ہے ، البتہ مستحب یہ ہے کہ پہلے اسے دھولے اور پھر استعمال کرے ۔ ‘‘ ( [1] )
مدنی گلدستہ
’’احترام ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خواب بھی وحی الٰہی ہوتے ہیں ۔
(2) اسلام میں بڑوں کے ادب واحترام کا درس عظیم دیا گیا ہے ۔
(3) ہراچھے کام میں بڑوں کو مقدم رکھا جائے کہ اس کی احادیث میں تعلیم دی گئی ہے ۔
(4) اگر کچھ لوگ بیٹھے ہوں تو ایسی صورت میں دائیں جانب سے ابتدا کی جائے ۔
(5) مسواک کرنا ہمارے پیارے نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی پیاری پیاری سنت ہے ، اس پر عمل کیجئے اور ڈھیروں ثواب کمائیے ۔
(6) اپنی مسواک بھی کسی کو دی جاسکتی ہے ، نیز کسی دوسرے کی استعمال شدہ مسواک بھی اپنے استعمال میں لائی جاسکتی ہے البتہ مستحب یہ ہے کہ اسے دھوکر استعمال کیا جائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بڑوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، انہیں ہر ہر معاملے میں مقدم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں مسواک جیسی پیاری سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 354 تین قابلِ تعظیم شخصیات
عَنْ اَبِي مُوسَى الْاَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّ مِنْ اِجْلَالِ اللہِ تَعَالٰی اِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْاٰنِ غَيْرِ الْغَالِيْ فِيْهِ وَالْجَافِيْ عَنْهُ وَاِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” بے شک بوڑھے مسلمان ، وہ حافظِ قران جو نہ تواس میں زیادتی کرے اور نہ اس سے دور رہے اور عادِل بادشاہ ، اِن تینوں کی تعظیم کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم میں سے ہے ۔ “
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرو یعنی وہ شخص جس کے بال سفید ہوچکے ہوں اور اُس کی عمر اسلام اور ایمان کی حالت میں گزری ہو تو اُس کی تعظیم کرنا ، اگر اُن میں امامت کی شرائط پائی جاتی ہوں تو نماز میں انہیں مُقَدَّم کرنا ، اسی طرح دیگر محافل و مجالس اور قبر وغیرہ میں بھی نیز اُن پر نرمی و شفقت کا برتاؤ کرنا گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کمال تعظیم کرنا ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم و توقیر یہ بھی ہے کہ اُس کے وقار کی عزت کی جائے اور وقار بوڑھا مسلمان ہے ، اسی وجہ سے حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ دعا مانگی : ” اے اللہ میرے وقار میں اضافہ فرما ۔ “امام طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ چار شخصوں کی تعظیم کرنا سنت ہے : ( 1 ) عالم ( 2 ) عمر رسیدہ مسلمان ( 3 ) حاکم اور ( 4 ) باپ ۔ ‘‘ ( [4] )
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حامل قرآن سے مراد قاری قرآن ، حافظ اور مفسِّر ہے ، ” اُس میں زیادتی کرنے والا نہ ہو“ یعنی قرآن کے لفظوں یا معنیٰ میں حد سے بڑھنے والا نہ ہو جیسا کہ بعض وہمی یا شکی مزاج لوگ یا ریاکاری کرنے والا یا قرآن میں تحریف کر کے خیانت کرنے والا جیسا کہ اکثر جاہل عوام اور بہت سے نام نہاد علماءیا غلط
[1] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۱۱ ، تحت الحدیث : ۳۵۳ ۔
[2] ابو داود ، کتاب الادب ، باب فی تنزیل الناس منازلھم ، ۴ / ۳۴۴ ، حدیث : ۴۸۴۳ ۔
[3] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۱۲ ، تحت الحدیث : ۳۵۴ ۔
[4] شرح الطیبی ، کتاب الادب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۹ / ۲۱۴ ، تحت الحدیث : ۴۹۷۲ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع