30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَدَفَعْتُهُ اِلَى الْاَ كْبَرِ مِنْھُمَا . ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہاہوں ، پس میرے پاس دو شخص آئے ، اُن میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے چھوٹے کو مسواک دی تو مجھ سے کہا گیا : ” بڑے کودو ۔ “ پھر میں نے اُن میں سے بڑے کو مسواک دے دی ۔
واضح رہے کہ نبی کو جو چیز خواب میں بتائی جائے وہ بھی وحی ہوتی ہے اس کے جھوٹے ہونے کا احتمال ہی نہیں ۔ کیونکہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خواب بالکل سچے ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک کے پارہ ۱۲ ، سورۂ یوسف کی آیت نمبر۳ میں حضرت سیدنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خواب کا بیان ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند انہیں سجدہ کررہے ہیں ۔ اور یہ خواب بالکل برحق تھا ۔ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خواب برحق ہیں ۔ ‘‘ ( [2] )
ہر اچھے کام میں بڑوں کو مقدم رکھا جائے :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے پتہ چلا کہ جب کوئی جماعت موجود ہو تو اُن میں جو عمر میں بڑے ہوں اُنہیں مُقَدَّم رکھا جائے اور چھوٹوں کے بجائے اُن سے ابتدا کی جائے ، اسی طرح سلام کرنے ، کھانے پینے اور دوسرے اُمور میں بھی یہی سنت ہے کہ بڑوں سے ابتدا کی جائے ۔ ‘‘ ( [3] ) دلیل الفالحین میں عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے بھی یہی کلام فرمایا ہے ۔
دائیں ہاتھ سے کب ابتدا کی جائے ؟
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’بڑوں سے ابتداء کرنا اسلامی آداب میں سے ہے ۔ امام مہلب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ ہر ذیشان کام میں بڑوں کو مُقَدَّم کرنا بہتر ہے لیکن یہ حکم اُس وقت ہے کہ جب سب لوگ ترتیب سے بیٹھے ہوئے نہ ہوں ۔ اگر لوگ مجلس میں ترتیب سے بیٹھے ہوئے ہوں تو پھر سیدھے ہاتھ سے پہل کرنا سنت ہے ۔ ( یعنی جو دائیں جانب بیٹھا ہو پہلے اُسے دیں ) جیسا کہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک مجلس میں کم عمر لڑکے کو اپنا بچا ہوا دودھ عطا فرمایا کیونکہ وہ سیدھی جانب بیٹھا ہوا تھا ۔ ‘‘ ( [4] ) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے بھی عمدۃ القاری میں یہی کلام ذکر فرمایا ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی کو مسواک عطا فرمائی ۔ واضح رہے کہ مسواک ہمارے پیارے نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی پیاری سنت مبارکہ ہے ، مسواک سے دنیوی واخروی دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مسواک کے فضائل وفوائد پرمشمل پانچ فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’مسواک میں منہ کی پاکیزگی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ہے ۔ ‘‘ ( [5] ) ( 2 ) ’’مسواک کیا کروکیونکہ مسواک میں منہ کی پاکیزگی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاہے ، جب بھی جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کرنے کی وصیت کی یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ مجھ پر اور میری اُمَّت پر فرض نہ ہوجائے اور اگر مجھے اپنی اُمَّت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتومیں ان پر مسواک کرنا فرض کردیتا اور بے شک میں اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں اپنے اگلے دانت زائل نہ کرلوں ۔ ‘‘ ( [6] ) ( 3 ) ’’بلاشبہ مجھے مسواک کا اس قدر حکم دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہیں مسواک کے بارے میں میری طرف وحی نہ آجائے ۔ ‘‘ ( [7] ) ( 4 ) ’’اگر مجھے اپنی اُمَّت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتو میں انہیں ہر ( نَماز کے وقت ) وضو کے ساتھ مسواک کرنے کاحکم دیتا ۔ ‘‘ ( [8] ) ( 5 ) ’’بندہ جب مسواک کرتاہے پھر نَماز کے لئے کھڑا ہوتاہے تو اس کے پیچھے ایک فرشتہ بھی کھڑا ہوجاتاہے اوراس کی قراء ت کو غور سے سنتا ہے اور جب بھی وہ کوئی آیت یا کلمہ پڑھتا ہے تو فرشتہ اس سے قریب ہو جاتاہے یہاں تک کہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ دیتاہے تو اس کے منہ سے جتنا قرآن نکلتا ہے فرشتے کے منہ میں داخل ہوجاتاہے ، اس لئے تم قرآن کیلئے اپنے منہ کو پاک رکھا کرو ۔ ‘‘ ( [9] )
[1] بخاری ، کتاب الوضوء ، باب دفع السواک الی الاکبر ، ۱ / ۱۰۴ ، حدیث : ۲۴۶ ۔
[2] اکمال المعلم ، کتاب الرؤیاِ ، باب رؤیا النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ۷ / ۱۱۷ ، تحت الحدیث : ۲۳۰ ۔
[3] عمدۃ القاری ، کتاب الوضوء ، باب دفع السواک الی الاکبر ، ۱ / ۶۹۴ ، تحت الحدیث : ۲۴۶ ۔
[4] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الوضوء ، باب دفع السواک الی الاکبر ، ۱ / ۳۶۴ ، تحت الحدیث : ۲۴۶ ۔
[5] نسائی ، کتاب الطھارۃ ، باب الترغیب فی السواک ، ص۱۰ ، حدیث : ۵ ۔
[6] ابن ماجہ ، کتاب الطھارۃ ، باب السواک ، ۱ / ۱۸۶ ، حدیث : ۲۸۹ ۔
[7] مسند امام احمد ، مسند عبداللہ بن العبا س ، ۱ / ۶۵۸ ، حدیث : ۲۷۹۹ ۔
[8] بخاری ، کتاب الصوم ، باب السواک الرطب والیابس للصائم ، ۱ / ۶۳۷ ۔
[9] مسند بزار ، مماروی سعد بن عبیدۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۱۴ ، حدیث : ۶۰۳$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع