دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

حدیثِ مذکور میں اس بات کا ذکر ہے کہ جس کو قرآن زیادہ یاد ہوتا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے لحد میں پہلے اُتارتے ۔  اِس سے حافظِ قرآن کی فضیلت معلوم ہوئی کہ جو حافظ ہو اُسے مقدم کرنا چاہیے ۔  چنانچہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جس کو قرآن زیادہ یاد ہوتا اس کو قبر میں پہلے اُتارا جاتا ، بے شک قرآن تمام مسلمانوں کا امام ہے تو اِس کے قاری کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ دنیا و آخرت میں اُسے مقدم رکھا جائے اور جنت میں بھی اس کے درجے بلند ہوں گے ۔ ‘‘ ( [1] )

عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’قاریٔ قرآن کا یہ حق ہے کہ اُس کی حیات میں اسے اس کے غیر سے امامت کے معاملے میں مقدم رکھا جائے ، اسی طرح اس کی وفات کے بعد قبر میں بھی اسے مُقَدَّم رکھا جائے ۔ ‘‘ ( [2] )

باعمل حافظ قرآن کے فضائل :

باعمل حافِظِ قرآن کے فضائل پر مشتمل تین فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں :  ( 1 ) ’’جس نے قرآنِ مجید پڑھا ، اور اُسے حفظ کیا ، اُس کے حلال کو حلال جانا اور اُس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اُس کے گھروالوں میں سے ایسے دس افراد کے حق میں اُس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہوچکا تھا ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 2 ) ’’صاحب قرآن قیامت کے روز آئے گااور قرآن عرض کرے گا :  اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ !  اسے خلعت عطافرما ۔   ‘‘  تو اس شخص کو کرامت کا تاج پہنایا جائے گا ۔ قرآن پھر عرض کرے گا :  ’’اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ !  اور زیادہ کر ۔ ‘‘ تو اسے بزرگی کا حلہ پہنایا جائے گا ۔  قرآن پھر عرض کرے گا :  ’’اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ ! اس سے راضی ہوجا ۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے راضی ہوجائے گا ۔  پھر اس شخص سے کہا جائے گا :   ’’پڑھتے رہواور ( درجات ) چڑھتے جاؤ اور ہر آیت پر ایک نیکی زیادہ کی جائے گی ۔ ‘‘ ( [4] ) ( 3 ) ’’صاحب قرآن کو حکم ہوگا کہ پڑھتے رہو اور ( درجات ) چڑھتے جاؤ اور ٹھہر ٹھہر کرپڑھو جیسے تم اسے دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے کہ تمہارا مقام اس آخری آیت کے نزدیک ہے جسے تم پڑھو گے ۔ ‘‘ ( [5] )

قبر میں لحد بنانا سنت ہے :

مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قبر میں لحد بنانا سنت سے ثابت ہے ۔  حضرت سیدنا عیسیٰ بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک لحد بنانا زیادہ محبوب ہے کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبر مبارک بھی لحد والی بنائی گئی تھی ، اسی طرح خود رسولِ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے شہزادے حضرت سیدنا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لیے بھی لحد بنائی ، شیخین کریمین یعنی امیر المؤمنین ، خلیفہ ٔ رسول اللہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی قبور میں بھی لحد بنائی گئی ، سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تو اپنے گھروالوں کو وصیت فرمائی کہ جب مجھے لحد میں رکھنا تو میرے گال کو زمین کے ساتھ لگادینا ، اسی طرح جلیل القدر صحابی حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے بھی اپنے لیے لحد بنانے کی وصیت فرمائی ۔ سیدنا امام نخعی ، سیدنا امام مالک ، سیدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اور آپ کے دیگر اصحاب کے نزدیک بھی لحد بنانا مستحب ہے ۔ ‘‘ ( [6] )

مدنی گلدستہ

’’قرآن  ‘‘  کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

  اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1)   حافظِ قرآن کو قرآنِ پاک کی عظمت کی وجہ سے ترجیح دی گئی ہے ۔

(2)   حافظِ قرآن کا یہ حق ہے کہ اس کی زندگی میں امامت کے معاملے میں اس کے غیر کے مقابلے میں اسے ترجیح دی جائے ۔

(3)   جب اُحُد کے شہداء کرام کی تدفین کی گئی تو حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تدفین کے معاملے میں تقدیم فرمائی ۔

(4)   لحد والی قبر بنانا سنت سے ثابت ہے اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک مستحب ہے ۔  

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں قرآن وسنت کے اَحکام پر صحیح طرح سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 353                                                                                                                                                                         پہلے بڑے کو دیجیئے

وَعَنْ اِبْنِ عُمَرَ  رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَرَانِي  فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِیْ رَجُلَانِ اَحَدُهُمَا اَكْبَرُ مِنَ الْاخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْاَصْغَرَ  فَقِيلَ لِي : كَبِّرْ



[1]      مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز ، باب المشی بالجنائز والصلاۃ علیھا ، ۴ / ۱۵۳ ، تحت الحدیث : ۱۶۶۵ ۔

[2]     ارشاد الساری ، کتاب الجنائز ، باب من یقدم فی اللحد ، ۳ / ۴۸۸ ، تحت الحدیث :  ۱۳۴۷ ۔

[3]     ترمذی ، کتاب فضائل القرآن ، باب ما جاء فی فضل قاریٔ القرآن ، ۴ / ۴۱۴ ، حدیث :  ۲۹۱۴ ۔

[4]     ترمذی ، کتاب فضائل القرآن ، باب : ۱۸ ، ۴ / ۴۱۹ ، حدیث :  ۲۹۲۴ ۔

[5]     ترمذی ، کتاب فضائل القرآن ، باب : ۱۸ ، ۴ / ۴۱۹ ، حدیث :  ۲۹۲۳ ۔

[6]     شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الصلاۃ ، ابواب تقصیر الصلاۃ ، باب الشق واللحد فی القبر ، ۳ / ۳۳۸ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن