بڑوں کا ادب ہرحال میں کرنا چاہیے
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

میں سے بڑا بات کرے ۔ ‘‘ بے شک حقِ دعویٰ تو سیدنا عبدالرحمٰن بن سہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی کو تھا ، نہ کہ اُن کے چچازاد بھائیوں کو ۔  لیکن حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن میں بڑے کو کلام کرنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ سارا واقعہ معلوم کریں ۔  اس حدیث میں بڑے کی فضیلت کا ذکر ہے کہ جب کچھ لوگ فضائل میں برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو اسے مُقَدَّم کیا جائے جیسا کہ اِمامت ، ولایتِ نکاح میں بڑے کو مُقَدَّم کیا جاتا ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

بڑوں کا ادب ہرحال میں کرنا چاہیے :

مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ یعنی تم میں جو سب سے بڑے ہیں انہیں پہلے گفتگو کرنے دو پھر تم کچھ کہنا ۔ بڑے حویصہ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) تھے ۔  اِس سے معلوم ہوا کہ بڑوں کا ادب ہر حال میں چاہیے اور عمر کی بڑائی بھی معتبر ہے ، بڑائی بہت سی قسم کی ہوتی ہے : رشتہ کی بڑائی ، علم کی بڑائی ، تقویٰ کی بڑائی ، عمر کی بڑائی ، یہاں عمر کی بڑائی مراد ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل :

 ( 1 ) اِس حدیث پاک سے ہمیں ایک درس یہ بھی ملتا ہے کہ اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوجائے تو اسے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے بلکہ قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے حاکم وقت یا مقررہ حکام کے پاس جانا چاہیے ۔ جیسا کہ مذکورہ واقعے میں حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو قتل کردیا گیا حالانکہ وہ صلح کے دن چل رہے تھے ، اس کے باوجود اُن کے بھائی اور چچازاد بھائیوں نے کسی قسم کا کوئی جذباتی فعل یا غیر قانونی کام نہیں کیا  بلکہ  سیدھے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور قتل کا دعویٰ دائر کیا ۔  ( 2 ) یہ بھی معلوم ہوا کہ جب تک کسی شخص کے بارے میں تصدیق نہ ہوجائے کہ فلاں کام اس نے کیا ہے تب تک اس کو موردِ اِلزام نہیں ٹھہرانا چاہیے ۔  ( 3 ) یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے جھوٹی قسم نہیں کھانی چاہیے ۔ جھوٹی قسم کو سرکارِمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے ۔  ( [3] )

مدنی گلدستہ

’’رحمت  ‘‘  کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

   اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1)   چھوٹوں کو چاہیے کہ بڑوں کی موجودگی میں خود کلام نہ کریں پہلے بڑوں کو بات کرنے کا موقع دیں ۔

(2)   بڑوں کا ہر حال میں ادب و احترام کرنا چاہیے ۔

(3)   اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہو جائے تو اسے چاہئے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے  بجائے حاکم وقت یا متعلق حکام سے بالمشافہ رابطہ کرے ۔

(4)   جھوٹی قسم نہیں کھانی چاہیے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے ۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بڑوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں جھوٹی قسم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔                       

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر :  352                                                                                                                                                                                                  حافِظِ قرآن کی فضیلت

عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى اُحُدٍ یَعْنِی فِی الْقَبْرِ  ثُمَّ يَقُولُ : اَيُّهُمْ اَكْثَرُ اَخْذًا لِلْقُرْاٰنِ؟  فَاِذَا اُشِيرَ لَهُ اِلَى اَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِى اللَّحْدِ. ( [4] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مَروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشہدائے اُحُد میں سے دو دوکو جمع کرتے یعنی قبر میں ۔  پھر دریافت فرماتے کہ ’’اِ ن میں سے زیادہ قرآن کس کو یاد تھا؟  ‘‘   جب اُن میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُسے لحد میں پہلے اُتارتے ۔  

جنگِ اُحُداورمسلمانوں کی کسمپرسی :

غزوۂ اُحُد3 ہجری میں پیش آیا ، اِس غزوہ میں ستّر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانشہید ہوئے ، مسلمانوں کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ اُن شہداء کرام کے کفن کے لیے کپڑا بھی نہیں تھا ۔  شہدائے کرام خون میں لتھڑے ہوئے تھے دو دو شہید ایک ایک قبر میں دفن کیے گئے جس کو قرآن زیادہ یاد ہوتا اس کو آگے رکھتے ۔ ‘‘ ( [5] )

حافظ قرآن کی دنیا وآخرت میں تقدیم :

 



[1]      شرح مسلم  للنووی ، کتاب القسامۃ ، باب القسامۃ ، ۶ / ۱۴۶ ، الجزء الحادی عشر  ۔

[2]      مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۲۵۹ ۔

[3]      بخاری ، کتاب الشھادات ، باب ما قیل فی شھادۃ الزور ، ۹ / ۱۳۵ ، حدیث :  ۲۴۵۹ ۔

[4]      بخاری ، کتاب الجنائز ، باب من یقدم فی اللحد ، ۱ / ۴۵۳ ، حدیث : ۱۳۴۷  ۔

[5]      سیرت مصطفٰی ، ص۲۸۲ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن