30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الْاَسْوَاق.“ ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” تم میں سے بالغ اورعقلمند لوگ میرے قریب کھڑے ہوں ۔ “پھر تین بار فرمایا : ” پھر وہ لوگ جو اُن کے قریب ہوں اور تم لوگ بازاروں کے شور و غل سے بچو ۔ “
ہر مجلس میں اہل فضل کی تقدیم :
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ افضل شخصیات کو مقدم کرنا چاہیے اور اُنہیں امام کے قریب کھڑا کرنا چاہیے کیونکہ اس میں اُن کی عزت ہے اس لیے کہ بعض اوقات امام کو خلیفہ بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو افضل شخص کو خلیفہ بنانا زیادہ بہتر ہے اور اس لیے بھی کہ جو افضل شخص ہوگا وہ نماز کے مسائل جانتا ہوگا اور امام کو ایسے سہو ( غلطی ) پر متنبہ کرے گا جس کو غیر عالِم نہیں جانتا ۔ اُن کو مُقَدَّم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے تاکہ وہ نماز کے اوصاف کو ضبط کریں ، انہیں یاد کرکے دوسروں تک پہنچائیں اور لوگوں کو نماز سکھائیں اور جو لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں وہ ان کے افعال کی پیروی کرسکیں اور یہ حکم صرف نماز کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ سنت یہ ہے کہ اہلِ فضل حضرات کو ہر مجلس میں مُقَدَّم رکھا جائے جیسے کہ علم ، قضاء ، ذِکر ، مُشاوَرَت ، جہاد ، اِمامت ، تدریس ، اِفتاء اور سماعِ حدیث کی محافل میں صدرِ مجلس کے قریب بٹھایا جائے اور لوگ علم ، دِین ، عقل ، شرف ، عمر اور کُفو کے لحاظ سے اپنے مرتبے کے مطابق بیٹھیں ۔ ‘‘ ( [2] )
کون لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں؟
حدیث پاک میں فرمایا : ” اُولُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى“ میرے قریب رہیں ۔ اِن سے مراد کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اَحْلَامجمع ہے حِلْم کی اور حِلْم کا مطلب ہے سکون ، وقار ۔ یعنی باوقار لوگ اور معاملات میں ثابت قدم رہنے والے لوگ ، غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھنے والے لوگ ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد عقل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد بالغ ہیں اور النُّهَى کا مطلب عقل ہے ۔ ( مطلب یہ ہوا ) بالغ ، عقلمند لوگ میرے قریب رہیں ، اپنے شرف و رُتبہ ، زیادہ سمجھداری ، غور سے نماز پڑھنے اور نماز کو یاد رکھنے کی وجہ سے اور اگر امام کو کوئی حدث لاحق ہوجائے تو وہ اس کے خلیفہ بن سکتے ہیں ۔ علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : عقلمند اور بالغ لوگوں کو آگے رکھنے کا حکم اس لیے ارشاد فرمایا تاکہ وہ لوگ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نماز کو سیکھیں ، اس کے احکام و سنن کو یاد کریں اور اپنے بعد والوں کو یہ اَحکام پہنچائیں ۔ پھر وہ کھڑے ہوں جو اُن سے قریب ہوں ۔ یعنی جو قریب البلوغ ہیں یا پھر مراد یہ ہے کہ جو لوگ عقل و حلم میں اُن سے قریب ہیں ۔ پھر وہ جو اُن سے قریب ہوں ۔ یعنی سمجھ دار بچے یا پھر یہ مراد ہے کہ وہ لوگ جو عقل و حلم میں ان سے کم ہیں ۔ ‘‘ ( [3] )
نماز میں بھی تعلیمرسولُ اللہ :
مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’صفِ اَوّل میں مجھ سے قریب فقہاء صحابہ ہوں جیسے خلفائے راشدین اور عبدﷲ بن عباس و عبدﷲ بن مسعود وغیرہم تاکہ وہ میری نماز دیکھیں اور نماز کی سنتیں وغیرہ یاد کرکے اَوروں کو سمجھائیں اور بوقتِ ضرورت ہماری جگہ مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھا سکیں ۔ ان کے پیچھے وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و عقل میں ان کے بعد ہوں تاکہ ان صحابہ سے یہ نماز سیکھیں ۔ سُبْحٰنَ اﷲ ! حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعلیم نماز میں بھی جاری رہتی تھی ۔ ‘‘ ( [4] )
امیراہلسنت کا حدیث پاک پرعمل :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک اور اُس کی شرح میں اِس بات کی بھی تعلیم دی گئی ہے کہ اَہل عِلم حضرات کو ہر مجلس میں مُقَدَّم رکھنا چاہیے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ شیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہبھی اس حدیث پاک کے عامل ہیں ، دیکھا گیا ہے کہ آپ اپنے مدنی مذاکروں میں عموماً علمائے کرام ، مفتیانِ کرام ، مدنی اسلامی بھائیوں کو اپنے قریب بٹھاتے ہیں ، بلکہ اپنے متعلقین ، مریدین اور محبین کو بھی اس بات کی ترغیب دلاتے ہیں کہ ہر ہر معاملے میں علمائے کرام کی شرعی رہنمائی لیں ، بغیر شرعی رہنمائی کے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھائیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیراہلسنت کے صدقے ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
ہم کو اے عطار سنی عالموں سے پیار ہے
اِنْ شَآءَ اللہ دو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہے
مدنی گلدستہ
’’عُلَمَاء ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور
ان کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) اسلام میں ہر دینی اور دُنیوی مقام ومرتبے والے اشخاص کا بہت خیال رکھا گیا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع