30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ساتھ قرآنِ مجید پڑھنے اور سنّتیں سیکھنے کی دعوت دی ، چنانچہ اُس نے مدرسہ میں داخلہ لے لیا اور یوں نیک صحبت کی برکت سے اُن میں مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں ، قرآنِ پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پابندی سے نمازیں پڑھنے ، حقوقُ اللہ ادا کرنے اور عشق مصطفے ٰ کی نورانیت اپنے دل میں بسانے لگے ۔ کل تک جس کی آنکھوں میں دہشت و بربریت کی سرخی تھی آج اُس کی آنکھوں میں خوفِ خدا کے آنسو تھے ، جس کی گفتگومیں شرارت تھی اب اس کی زباں پر نیکی کی دعوت ہے ، جس کی گردن غرور و تکبر سے اکڑی رہتی تھی اب خدا عَزَّ وَجَلَّ کے روبرو عبادت میں جھکی رہتی ہے ۔ بالاخر انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر اپنے سابقہ تمام گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر سنّتوں کے سانچے میں ڈھل گئے ، نیز اِس عظیم مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیاکے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ‘‘ پر کاربند ہو گئے ۔ ربیع الغوث ١٤٢٧ ہجری بمطابق مئی 2006 عیسوی کو جب یہ اسلامی بھائی رِہا ہوکر باہر نکلنے لگے تو جیل کا عملہ اور قیدیوں کی ایک تعداد تھی جن کی آنکھیں اشکبار تھیں کہ واہ ! ایک مجرم ، گناہوں کے دلدادہ کو دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول نے عاشق رسول اور نیکوکار بنا دیا ، مسلمانوں پر ناجائز ظلم وستم کرنے والے کو اُن کا خیر خواہ بنا دیا ۔ آج اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ تا دم تحریر وہ خوش نصیب اِسلامی بھائی دادو کی ایک مسجد کے امام ہیں اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہے ہیں ۔
| سنور جائے گی آخرت اِنْ شَآءَ اللہ | ………… | تم اپنائے رکھو سدا مدنی ماحول |
کسی کی مخصوص جگہ پر بیٹھنے کی ممانعت کی وجہ :
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بھی بیان ہوا کہ کوئی کسی کے گھر میں اس کی مقررہ جگہ پر نہ بیٹھے ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’کسی کی جگہ پر بیٹھنے سے منع فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں کسی کے حق میں بلا اِجازت تصرف کرنا پایا جارہا ہے تو جب کسی کی جگہ پر بیٹھنے سے منع فرمایاکہ جس میں تساہل یعنی سُستی پائی جاتی ہے ( کہ بندہ عموماً ایسی جگہ پر بلا اجازت بیٹھ جاتا ہے ) اور اس میں تخفیف ہوتی ہے ( کہ جس کی جگہ ہے وہ عموماً بُرا محسوس نہیں کرتا ) تو پھر دوسرے حقوق میں ( جن کو بندہ عموماً تلف نہیں کرتا اور تلف کرنے کی صورت میں جس کا حق ہے وہ بُرا محسوس کرتا ہے ) یہ ممانعت اور بھی زیادہ ہوگی ۔ ‘‘ ( [1] )
مدنی گلدستہ
’’احترام ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) امامت بہت ہی اہم منصب ہے اور ہر شخص اس کا اہل نہیں ہے ۔
(2) امام کے تقرر میں ان تمام شرائط اور مراتب کو ملحوظ رکھنا چاہیے جنہیں شریعت نے بیان فرمایا ہے ۔
(3) علمائے کرام سب سے افضل ہیں ، امامت کے لیے اُنہیں مُقَدَّم کرنا چاہیے ۔
(4) اگرکسی جگہ کچھ لوگ جمع ہوں اور علم میں سب برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو اُس کی بزرگی کا احترام کرتے ہوئے اُسے امامت کے لیے آگے کرنا چاہیے ۔
(5) مقررہ امام کی موجودگی میں کسی اور کو مقدم نہیں کیا جائے گا چاہے وہ علم اور عمر میں مقررہ امام سے بڑا ہی کیوں نہ ہو ، ہاں مقررہ امام خود جسے اجازت دے وہ نماز پڑھا سکتا ہے ۔
(6) کسی کے گھر میں اس کی مخصوص مسند پر اس کی اجازت کے بغیر نہیں بیٹھنا چاہیے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علمائے اہلسنت کَثَّرَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اور بزرگوں کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 349 نماز میں قُربتِ رسول کے حقدار
عَنْ اَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرِو قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَ يَقُوْلُ : اِسْتَوُوْا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُكُمْ لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ اُولُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز کے وقت ہمارے کندھے پکڑ کر فرماتے : ” سیدھے رہو اور الگ الگ نہ رہو ورنہ تمہارے دل الگ الگ ہوجائیں گے ، بالغ اورعقلمند لوگ میرے قریب کھڑے ہوں ، پھر وہ کھڑے ہوں جو اُن سے قریب ہوں پھر وہ جو اُن سے قریب ہوں ۔ “
حدیث نمبر : 350 امام کے قریب والوں کی ترتیب
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ” لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ اُولُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا وَ اِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع