30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث پاک میں اس چیز کا بیان ہے کہ اگر سب لوگ علم ، قراءت اور تقویٰ و پرہیزگاری میں برابر ہوں تو پھر اس شخص کو مقدم کیا جائے جو اُن میں عمر میں بڑا ہو ۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یعنی جسے اسلام میں زیادہ عمر بیت گئی ہو اسے مُقَدَّم کیا جائے جیسا کہ دوسری روایت اسی بات پر دلالت کررہی ہے کہ اس میں فرمایا کہ ” پھر اسے امام بنایا جائے جسے اسلام لائے ہوئے زیادہ زمانہ گزر گیا ہو ۔ “لہٰذا وہ جَوان جو پہلے اسلام لایا ہو اُس بوڑھے پر مُقَدَّم ہے جو بعد میں اسلام لایا ہواور یہ فضیلت اسلام میں سبقت کرنے کی وجہ سے ہے ۔ ‘‘ ( [1] )
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ ’’فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے اس ترتیب کا بہت خیال رکھا ہے کیونکہ یہ ( امامت ) نبی کی خلافت ہے ، اور نبی دنیا وآخرت میں امام ہوتا ہے ۔ لہٰذا امامت اس منزلت کے قریب قریب ہے اور رُتبے کے لحاظ سے اس کے مشابہ ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
مقررہ امام سب سے زیادہ حق دارہے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث مبارکہ اور اس کی شرح میں جو امامت کی ترتیب بیان فرمائی گئی ہے اس کا لحاظ رکھنا اس وقت ضروری ہے کہ جب کسی جگہ کوئی امام مقرر نہ ہو اور کچھ لوگ جمع ہوجائیں تو اب اِس ترتیب کا لحاظ رکھتے ہوئے جو شخص امامت کا اہل ہو اسے امام بنایا جائے لیکن جہاں پہلے سے کوئی امام مقرر ہو وہاں وہی امامت کا حقدار ہے ۔ کسی اور شخص کو وہاں اِمامت کا حق نہیں چاہے وہ علم اور مرتبے میں بڑا ہی کیوں نہ ہو بشرطیکہ مقررہ امام میں اِمامت کی تمام شرائط پائی جائیں ۔ چنانچہ دلیل الفالحین میں ہے : ’’اس ترتیب کا لحاظ اس وقت ضروری ہے جب کوئی مقررہ امام نہ ہو اگر وہاں کوئی امام مقرر ہو تو وہی امامت کا حقدار ہے چاہے کوئی اور اُس سے بڑھ کر عالِم یا قاری ہو ۔ ‘‘ ( [3] ) بہارِ شریعت میں ہے : ’’امام معین ہی اِمامت کا حق دار ہے ، اگرچہ حاضرین میں کوئی اِس سے زیادہ علم اور زیادہ تجوید والا ہو ۔ یعنی جب کہ وہ امام جامِع شرائط امام ہو ، ورنہ وہ اِمامت کا اہل ہی نہیں ، بہتر ہونا درکنار ۔ ‘‘ ( [4] )
مقررہ اِمام کی اجازت سے دوسرا اِمام :
حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ کوئی شخص کسی کی جگہ اس کی اجازت کے بغیر امامت کرے نہ ہی اس کی خاص مسند پر بیٹھے ہاں اگر مقرر امام خود کسی کو اجازت دے تو وہ نماز پڑھا سکتا ہے ۔ چنانچہ مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’جہاں امام مسجد مقرر ہو وہاں وہی نماز پڑھائے گا اگرچہ اس سے بڑا عالِم یا قارِی موجود ہو ، معلوم ہوا کہ گزشتہ ترتیب وہاں کے لیے تھی جہاں امام پہلے سے مقرر نہ ہو ، ہاں مقررہ امام کی اجازت سے دوسرا نماز پڑھا سکتا ہے ۔ ‘‘ ( [5] )
نماز اور اِمامت کے مسائل کی اہمیت :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک اور اس کی شرح میں جس باریک بینی سے امامت کے مراتب کا بیان ہوا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امامت کا منصب کتنا اہم ہے ۔ مگر افسوس ! آج ہماری اکثریت امامت کے مسائل سے واقفیت اور اس کی اہلیت تو کُجا فقط نماز کے ضروری مسائل سے بھی ناواقف نظر آتی ہے ، دُنیوی علوم سیکھنے کے لیے تو ہم دن رات ایک کردیتے ہیں لیکن دِینی علوم سیکھنے میں ہماری کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آتی ، دُنیوی امتحانات کی تیاری میں تو پوری پوری رات صرف کردیتے ہیں حالانکہ اُس میں کامیابی فقط دُنیوی اور وقتی فائدہ ہے ، لیکن اُخروی امتحان کی تیاری کی ہمیں کوئی فکر نہیں ہے جس میں کامیابی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مفید ہے ۔ پنچ وقتہ نماز ہم پر فرض ہے ، اس کے ضروری مسائل سیکھنا ہم پر فرض ہے ، کل بروزِ قیامت نماز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا ۔ کاش ! دُنیوی ضروری علوم کے ساتھ ساتھ ہم دینی فرض علوم کو سیکھنے کا بھی مدنی ذہن بنائیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں فرض علوم ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کے احکام اور ضروری مسائل سیکھنے کا موقع ملتا ہے ، دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول نہ صرف نماز کے مسائل سکھانے میں معاون ومددگار ہے بلکہ امامت کے مسائل سے بھی آگاہی میں مدد دیتا ہے ۔ دعوت اسلامی کے تحت اِمامت کورس کروایا جاتا ہے جس میں نماز کے تمام ضروری مسائل ، اِمامت کے مسائل سکھائے جاتے ہیں ، آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ، معاشرے کے کئی ایسے بگڑے ہوئے اَفراد جو کل تک گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے ، شراب وکباب کے عادی تھے ، فرض علوم ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کے ضروری مسائل تک نہ جانتے تھے ، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے انہیں اپنے مدنی رنگ میں رنگ دیااوراِمامت کے مصلے پر کھڑا کردیا ۔ ترغیب کے لیے ایک مدنی بہار پیش خدمت ہے :
دادو ( بابُ الاسلام سندھ ، پاکستان ) میں دعوتِ اسلامی کی مجلس فیضانِ قرآن ( جیل خانہ جات ) کے ذمہ دار کا بیان کچھ اس طرح ہے : ایک شخص قتل کے مقدمہ میں دادو کی جیل میں بطورِ قیدی لایا گیا ۔ خوش قسمتی سے وہاں اس کی ملاقات دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائیوں سے ہوئی جو جیل میں مدنی کام کرتے ، قیدیوں کو قرآن مجید پڑھاتے اور سنّتیں سکھاتے تھے ۔ چنانچہ ان اسلامی بھائیوں نے اس قیدی پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے اسے دعوتِ اسلامی کی مجلس فیضانِ قرآن کے تحت مدرسہ ( فیضانِ قرآن ) میں درست تلفظ کے
[1] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۰۴ ، تحت الحدیث : ۳۴۸ ۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۰۴ ، تحت الحدیث : ۳۴۸ ۔
[3] دلیل الفالحین ، باب فی توقیر العلماء والکبار واھل الفضل ، ۲ / ۲۰۴ ، تحت الحدیث : ۳۴۸ ۔
[4] بہارِ شریعت ، ۱ / ۵۶۷ ، حصہ سوم ۔
[5] مرآۃ المناجیح ، ۲ / ۱۹۶ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع