30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذریعے اپنے نفوس کو لذّتِ روحانی اور حقیقی مشاہدوں کی بلندیوں پر پہنچاتے ہیں پس وہ اپنے بستروں سے دُور رہتے ہیں اور یہ لوگ غافلوں کی صَف سے نکل چکے ہیں ۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن تین لوگ شفاعت کریں گے سب سے پہلے انبیاءپھر علماء پھر شہداء ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلَیْہِمَا السَّلَام کو علم ، مال اور مُلک میں سے ایک کو چننے کا اختیار دیا گیا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے علم کو اختیار فرمایا ، تو انہیں علم کی برکت سے مال اور مُلک دونوں دے دئیے گئے ۔ ‘‘ ( [1] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 348 اِمامت کا سب سے زیادہ حق دار
عَنْ اَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرِو الْبَدَرِیِّ الْاَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ فَاِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَاَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَاِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَاَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَاَقْدَمُهُمْ سِنًّا وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ اِلَّا بِاِذْنِهِ. وَفِی رِوَایَۃٍ لَہُ : ” فَاَقْدَمُہُمْ سِلْمًا“ بَدَلَ ” سِنًّا“ اَیْ اِسْلَامًا. وَفِی رِوَایَۃٍ : يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَاَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً فَاِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَاِنْ كَانُوْا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو مسعود عقبہ بن عَمرو بدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور تاجدار رسالت ، شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” قوم کی اِمامت وہ شخص کرے جو اُن میں زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اگر سب قرآن پڑھنے میں برابر ہوں تو پھر سنت کو زیادہ جاننے والا ، اگر سنت کو جاننے میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت میں سب سے مقدم ہو وہ اِمامت کرائے ، اگر ہجرت میں بھی سب یکساں ہوں تو جو عمر میں بڑا ہووہ امامت کرائے ، اور کوئی شخص ( بغیر اجازت ) کسی کی جگہ امامت نہ کرے اور نہ ہی کسی کے گھر میں اس کے بغیر اجازت اعلیٰ مقام پر بیٹھے ۔ “ ایک روایت میں : ” جو عمر میں بڑا ہو“ کے بجائے یہ فرمایا : ” جو پہلے اسلام لایا ہو ۔ “ ایک روایت میں ہے کہ’’ لوگوں کی امامت وہ کرے جو ان میں زیادہ کتابُ اللہ پڑھنے والا ہو اور زیادہ قراءت جانتا ہو ، پھر اگر قراءت میں سب یکساں ہوں تو وہ امامت کرے جو ہجرت کرنے میں مقدم ہو ، اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو پھروہ امامت کرے جو عمر میں بڑا ہو ۔ ‘‘
اِس حدیث پاک میں امامت کے مراتب کا بیان ہے کہ کون زیادہ امامت کا مستحق ہے ، نیز اس میں علماء کی فضیلت کا بھی بیان ہے کہ لوگوں میں جو شخص زیادہ قرآن وحدیث کو جاننے والا ہو اسے امامت کے لیے دوسروں پر مقدم کیا جائے ۔ یہ باب بھی علماء کی تعظیم کے اور اُن کے مَراتِب کے بارے میں ہے اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث پاک اِس باب میں بیان فرمائی ۔
عالم اِمامت کا زیادہ حق دار ہے :
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’عہدِ نبوی میں قریبًا سارے صحابہ نماز کے مسائل کے عالم تھے مگر قاری کوئی کوئی تھا ، اس لیے حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ ارشاد فرمایا کہ امامت کے لیے مقدم وہ ہے جو عالِم ہونے کے ساتھ قاری بھی ہو ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ قاری غیر عالِم ، عالِم غیر قاری سے مُقَدَّم ہوگا ۔ دیکھو حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مرضِ وفات شریف میں صدیقِ اکبر ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کو امام بنایا حالانکہ اُبَی ابن کعب صحابہ میں بڑے قاری تھے ، بلکہ فرمایا : جہاں ابوبکر موجود ہوں وہاں کسی کو امامت کا حق نہیں ۔ حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ عمل اِس حدیث کی تفسیر ہے اِسی لیے امامِ اعظم و امامِ شافعی وغیرہم ( رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ) امامت میں عالِم کو قاری پر مُقَدَّم رکھتے ہیں کیونکہ علم کی ضرورت نماز کے ہر رکن میں ہے ، قرأت کی ضرورت صرف ایک رکن ( قیام ) میں ۔ امام ابو یوسف اور بعض دیگر علماء ( رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ) نے ظاہر حدیث کو دیکھ کر قاری کو عالِم پر مُقَدَّم رکھا مگر قولِ اوّل نہایت صحیح ہے ۔ اگر قراءت سب کی یکساں ہو تو صرف عالِم کو مقدم کرو ۔ خیال رہے کہ یہاں علم سنت سے مراد نماز کے اَحکام کا جاننا ہے نہ کہ سند یافتہ عالِم ہونا ۔ ‘‘ ( [3] )
سب سے زیادہ اِمامت کا مستحق شخص :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پرمشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت ‘‘ جلد اول صفحہ 567 پر ہے : ’’ سب سے زیادہ مستحق اِمامت وہ شخص ہے جو نماز و طہارت کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو ، اگرچہ باقی علوم میں پوری دستگاہ ( مہارت ) نہ رکھتا ہو ، بشرطیکہ اتنا قرآن یاد ہو کہ بطورِ مسنون پڑھے اور صحیح پڑھتا ہو یعنی حروف مخارج سے ادا کرتا ہو اور مذہب کی کچھ خرابی نہ رکھتا ہو اور فواحش ( بے حیائیوں ) سے بچتا ہو ، اس کے بعد وہ شخص جو تجوید ( قراء ت ) کا زیادہ علم رکھتا ہو اور اس کے موافق ادا کرتا ہو ۔ اگر کئی شخص ان باتوں میں برابر ہوں تو وہ کہ زیادہ وَرع رکھتا ہو یعنی حرام تو حرام شبہات سے بھی بچتا ہو ، اِس میں بھی برابر ہوں ، تو زيادہ عمر والا یعنی جس کو زيادہ زمانہ اسلام ميں گزرا ، اِس میں بھی برابر ہوں ، تو جس کے اَخلاق زیادہ اچھے ہوں ، اِس میں بھی برابر ہوں ، تو زیادہ وَجاہت والا یعنی تہجد گزار کہ تہجد کی کثرت سے آدمی کا چہرہ زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے ، پھر زیادہ خوبصورت ، پھر زیادہ حسب والا پھر وہ کہ باعتبارِ نسب کے زیادہ شریف ہو ، پھر زیادہ مالدار ، پھر زیادہ عزت والا ، پھر وہ جس کے کپڑے زیادہ ستھرے ہوں ، غرض چند شخص برابر کے ہوں ، تو اُن میں جو شرعی ترجیح رکھتا ہو زیادہ حق دار ہے اور اگر ترجیح نہ ہو تو قرعہ ڈالا جائے ، جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ اِمامت کرے يا اُن میں سے جماعت جس کو منتخب کرے وہ امام ہو ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع