30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ مُہَلَّب مالکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” اِس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخلے کا ایک بہت بڑا سبب تواضع اختیار کرنا ہے اور جنت سے بہت زیادہ دور کرنے والی چیز مال اورتکبر ہے ۔ مالداروں کو جنت میں جانے سے اس لیے روک لیا جائے گا کہ انہوں اپنے مال سے فقراء کے وہ حقوق ادا نہیں کیے ہوں گے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر لازم کیے تھے ، پس انہیں حساب کے لیے روک دیا جائے گا ۔ اور جنہوں نے اپنے مال سے حقوقِ واجبہ اداکئے ہونگے انہیں جنت میں جانے سے نہ روکا جائے گا مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں کیونکہ مال کی کثرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق کو ضائع کرواتی ہے ، مال آزمائش اور فتنہ ہے ۔ “ ( [1] )
مدنی گلدستہ
’’فرید ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) غریب بغیر حساب جنت میں داخل ہونگے جبکہ مالداروں کو حساب کے لیے روک لیا جائے گا ۔
(2) مالداروں نے جوکچھ حلال طریقے سے کمایا اس کا حساب ہو دینا گااورجوحرام طریقے سے کمایا اس پر پکڑ ہوگی ۔
(3) تواضع اختیار کرنا دخولِ جنت کا سب سے قریبی راستہ ہے جبکہ مال وتکبر جنت سے دوری کاسبب ہیں ۔
(4) جن مالداروں نے حقوق واجبہ کی ادائیگی کی ہوگی وہ جنت میں جانے سے نہیں روکے جائیں گے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں حساب و کتاب سے محفوظ فرماکر فقراء کے ساتھ جنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 490 اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے
عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيْدٍ : اَلَا كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلُ. ( [2] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہو وہ لَبِید کی بات ہے ( وہ یہ ہے ) ” سنو ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا ہر چیز فانی ہے ۔ “
حضرت لبید بن ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ :
دلیل الفالحین میں ہے : ” حدیثِ مذکور میں جس شعر کے متعلق بیان ہوا وہ حضرت سَیِّدُنَا لَبِیْد بن ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شعر ہے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک وفد کے ساتھ بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور اسلام میں بہت ا چھا وقت گزارا ۔ آپ زمانۂ جاہلیت میں بھی مُکَرَّم تھے اور زمانۂ اسلام میں بھی ۔ آپ کا شمارزمانۂ جاہلیت کے عظیم شعراء میں ہوتا تھا ، قبول ِاسلام کے بعد آپ نے کوئی شعر نہیں کہا ۔ آپ فرماتے تھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اشعار کے بدلے قرآن عطا فرمادیا ہے ۔ ایک دن امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے شعر سنانے کا کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی : ” اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے ” سورۂ بقرۃ“ اور ” سورۂ آلِ عمران“ سکھا دی ہے اس لئے میں نے شاعری ترک کر دی ہے ۔ “ یہ سن کر حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کے وظیفہ میں پانچ سو کا اضافہ فرما دیا ۔ آپ نے 157سال کی عمر میں حضرت سَیِّدُنَا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانۂ خلافت میں وفات پائی ۔ “ ( [3] )
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ” حدیث پاک میں بیان کردہ شعر میں کہا گیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا ہر چیز فانی ہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا ہر چیز زوال پذیر ہے نیز مذکورہ شعر کو سب سے سچا کہا گیا کیونکہ کہ یہ شعر سب سے سچے کلام کے موافق ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶) ( پ۲۷ ، الرحمٰن : ۲۶ ) ترجمۂ کنزالایمان : زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے ۔
اور یہ اس آیت مبارکہ کے بھی موافق ہے جس میں حق تعالیٰ فرماتا ہے :
كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ ( پ۲۰ ، القصص : ۸۸ ) ترجمۂ کنزالایمان : ہرچیز فانی ہے سوا اُس کی ذات کے ۔
حدیث پاک میں جو شعر بیان کیا گیا وہ مکمل شعر یوں ہے :
اَلَا كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللّٰهَ بَاطِلٌ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع