30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدرسہ ماں کی گود ہے ۔ ( [1] )
عمدۃ القاری میں ہے : عورتیں دوزخ میں اس لیے کثرت سے ہوں گی کہ ان پر خواہشات کا بہت زیادہ غلبہ ہوتا ہے اور وہ دنیاوی زیب و زینت کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ آخرت کے لیے نیک عمل کرنے میں کوتاہی کرتی ہیں اور عبادات سے اعراض کرتی ہیں اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عورتیں ایسے بے عمل لوگوں کے دھوکے میں بہت جلد پھنس جاتی ہیں جو انہیں اپنی طرف راغب کرتے ہیں اور جو انہیں آخرت اور نیک اَعمال کی طرف بلائے اس کی بات پر کان تک نہیں دھرتیں ۔ “ ( [2] )
مدنی گلدستہ
’’غارِحرا ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) جنت میں فقراء کی اور جہنم میں عورتوں کی کثرت ہوگی ۔
(2) مال کی زیادتی گناہوں کی طرف مائل کرتی ہے ۔
(3) فقر وہ اچھا ہے جس پر صبر کیا جائے ، جو فقر بے صبری اور شکوہ شکایت کا سبب بنے وہ نقصان دہ ہے ۔
(4) عام طورپر دیکھایہی جاتا ہے کہ اکثر غریب لوگ ہی دِین پر زیادہ عمل کرتے ہیں ۔ نیز انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا ساتھ دینے والے بھی زیادہ تر فقراء ہی ہوا کرتے تھے ۔
(5) جہنم میں عورتوں کی کثرت اس وجہ سے ہو گی کہ ان میں ناشکری ، شہوات کا غلبہ اور زیب و زینت کا بہت زیادہ میلان جیسی برائیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔
(6) عورت ہی پر سارے گھر کا دار و مدار ہے اگر عورت سنبھل جائے تو سارا گھر سنبھل جاتا ہے اور اگر عورت بگڑ جائے تو سارا گھر بگڑ جاتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں جہنم کی ہولناکیوں سے بجائے اور جنت الفردوس میں اپنے محبوب بندوں کا پڑوس عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 489 مالداروں کے لئے لمحۂ فکریہ
عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَیْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُمْتُ عَلٰی بَابِ الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةَ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَا كِيْنُ ، وَاَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوْسُوْنَ ، غَيْرَ اَنَّ اَصْحَابَ النَّارِ قَدْ اُمِرَ بِهِمْ اِلَى النَّارِ. ( [3] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” میں جنت کے دروازے پرٹھہراتواکثر غریبوں کو جنت میں داخل ہوتے دیکھا جبکہ مالداروں کو روک دیا گیا ، البتہ جہنمیوں کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا گیا ۔ “
مرقاۃ المفاتیح میں ہے : حدیثِ مذکور میں فقراء کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ منظر معراج کی رات یا خواب میں یا حالت کشف میں ملاحظہ فرمایا ۔ نیز آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ مالداروں کو یعنی مسلمانوں میں سے ارباب غنا اور امراء کو جنت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ خلاصہ یہ کہ قیامت کے دن ان لوگوں کو جنت میں جانے سے روک دیا گیا جنہوں نے فانی دنیا میں مال اور منصب حاصل کیا اور اپنے مال و جاہ کے ذریعے دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کی اور اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کیا ، اگر ان لوگوں نے یہ چیزیں حلال طریقے سے حاصل کی ہوں گی تو انہیں ان کا حساب دینا ہوگا اور اگر حرام طریقے سے حاصل کی ہوں گی تو ان کا محاسبہ کیا جائے گا اور فقیر لوگ ان دونوں چیزوں سے بری ہیں ، نہ ان کا حساب ہوگا نہ محاسبہ بلکہ فقراء دنیا میں جن نعمتوں سے محروم تھے آخرت میں ان نعمتوں کے عوض اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہونگے ۔ نیز حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ جہنمیوں کو جہنم کی طرف لے جانے کیا حکم دیا گیا یعنی کفار کو روکا نہ جائے گا بلکہ انہیں جہنم کی طرف روانہ کردیا جائے گا ۔ ( [4] )
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” خلاصہ یہ ہے کہ مالدار لوگ دو قسم کے ہیں : ایک جنتی ، دوسرے دوزخی ۔ جو مالدار دوزخی ہیں وہ تو دوزخ میں ٹھہرائے گئے جیسے قارون ، فرعون ، ابوجہل وغیرہ ۔ جو جنتی ہیں وہ حساب کے لیے روکے ہوئے ہیں ، رہے فقراء مسلمان وہ جنت میں بھیج دیئے گئے ۔ خیال رہے کہ مالدار جنتیوں سے مراد وہ مالدار ہیں جن کا حساب ہوناہے جن کا حساب ہی نہیں لیا جانا وہ جنت میں فورًا بھیج دیئے گئے ، جیسے حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، یہ بھی خیال رہے کہ یہ چالیس سال مالداروں سے حساب میں صَرف نہ ہوں گے ربّ تعالیٰ سارے جہان کا حساب بہت تھوڑی دیر میں لے لے گا پھر ایک مالدار کے حساب میں چالیس سال کیسے خرچ ہوں گے بلکہ ان مالداروں کو حساب کے انتظار میں رکا رہنا پڑے گا جیسے مقدمہ کی تاریخ پر فریقین شام تک انتظارکرتے ہیں کہ کب بلاوا ہو ۔ “ ( [5] )
جنت میں داخل ہونے کا ایک سبب :
[1] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۶۰ ۔
[2] عمدۃ القاری ، کتاب بدء الخلق ، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ و انھامخلوقۃ ، ۱۰ / ۶۰۰ ، تحت الحدیث : ۳۲۴۱ملخصًا ۔
[3] بخاری ، کتاب النکاح ، باب ۸۸ ، ۳ / ۴۶۲ ، حدیث : ۵۱۹۶ ۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، باب فضل الفقراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۸۴ ، تحت الحدیث : ۵۲۳۳ملخصًا ۔
[5] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۵۹ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع