30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ” صبر کرنے والے فقراء شکر کرنے والے مالداروں سے پانچ سو سال یعنی آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے کیونکہ آخرت کا ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر طویل ہوگا ۔ اور کفار کے لیے یہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا ، مگر یہی دن نیک لوگوں کے لیے ایک ساعت کے برابر ہوگا ۔ “ ( [1] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو شخص دنیا میں جس قدر زیادہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوگا آخرت میں اسے حساب بھی اتنا ہی زیادہ دینا ہوگا اور اور ایسے شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت بھی تاخیر سے ملے گی ۔ نیز جو انسان دنیا میں جس قدر نعمتیں پاتا ہے موت کے وقت اسے ان کی جدائی کا صدمہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ” مرتے وقت جو بھی چیز تم پیچھے چھوڑو گے موت کے بعد تمہیں اس پر ضرور حسرت ہوگی ، اب تمہاری مرضی ہے کہ تم مال کی کثرت چاہو یا کمی اگر تم مال کی کثرت چاہوگے تو تمہاری حسرت میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوگا اور اگر تم مال کی کمی چاہوگے تو تمہاری پیٹھ پر بوجھ بھی اتناہی ہلکا ہوگا ، وہ مالدار جو اُخروی زندگی کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پسند کرتے ہیں ، اس پر خوش ہوتے ہیں اور مطمئن رہتے ہیں تو ان کی قبروں میں سانپ بچھو بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ “ ( [2] ) منقول ہے کہ بندے کو جب بھی کوئی دُنیاوی چیز دی جاتی ہے تو اس سے کہا جاتا : ” اسے تین چیزوں کے بدلے لے لو مصروفیت ، غم اور طویل حساب ۔ “ ( [3] )
مدنی گلدستہ
’’فقراء ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) فقراء مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔
(2) فقراء ان مالداروں سے پہلے جنت میں جائیں گے جن سے حساب لیا جائے گا اور جن ہستیوں سے حساب ہی نہیں لیا جائے گا وہ اس حکم میں داخل نہیں ۔
(3) قیامت کا ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر ہے اور کفار پر یہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا جبکہ نیک لوگوں کے لیے یہی دن ایک ساعت جتنا ہوگا ۔
(4) جو دنیا میں جتنی نعمتیں پاتا ہے موت کے وقت اسے ان کے جدا ہونے کا غم بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے ۔
(5) بندے کو جب بھی کوئی دنیاوی چیز دی جاتی ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ اسے مصروفیت ، غم اور طویل حساب کے بدلے میں لے لو ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ایسی مالداری سے بچائے جو آخرت میں خسارے کا باعث ہو ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 488 جنت میں فقراء کی کثرت
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِطَّلَعْتُ فِیْ الْجَنَّةِ فَرَاَيْتُ اَكْثَرَ اَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِیْ النَّارِ فَرَاَيْتُ اَكْثَرَ اَهْلِهَا النِّسَاءَ. ( [4] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابن عباس اور حضرت سَیِّدُنَا عمران بن حُصَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” میں نے جنت کا مشاہدہ کیا تو اس میں اکثر فقراء کو دیکھا اور جہنم کا مشاہدہ کیا تو اس میں عورتوں کی کثرت دیکھی ۔ “
جنت میں فقراء کی تعداد زیادہ کیوں ہوگی؟
فقراء کی تعداد جنت میں اس لیے زیادہ ہوگی کہ انہیں اتنا مال میسر نہیں ہوتا جس کے سبب وہ بداعمالیوں کی طرف مائل ہو سکیں کیونکہ عموماً مال کی کثرت ہی گناہوں کا سبب بنتی ہے اور عام طورپر یہی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر غریب لوگ ہی دین پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں ۔ مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” ( جنت میں فقراء زیادہ ہونگے ) کیونکہ حضرات انبیاءِ کرام کی اطاعت کرنے والے اکثر فقراء ہی رہے ، آج بھی دیکھ لو کہ علماء ، حفاظ ، وقت پڑنے پر غازی شہید اکثر غریب لوگ ہی ہوتے ہیں ، اب بھی مسجدیں ، دینی مدرسے غریبوں کے دم سے آباد ہیں ، امیروں کے لیے کالج ، سینما ، کھیل تماشے ہیں فرمان پاک بالکل درست ہے ۔ “ ( [5] )
” ( جہنم میں عورتوں کی کثرت ہوگی کیونکہ ) عورتیں ناشکری ، بے صبری زیادہ ہیں ۔ عورت بگڑ کر سارے گھر کو بگاڑ دیتی ہے اور سنبھل کر سارے گھر کو سنبھال لیتی ہے ، بچہ کا پہلا
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، باب فضل الفقراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۹۶ ، تحت الحدیث : ۵۲۴۳ملخصا ۔
[2] احیاء العلوم ، کتاب ذکر الموت و مابعدہ ، الباب السابع فی حقیقۃ الموت وما یلقاہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۲۵۷ ۔
[3] احیاء العلوم ، کتاب الفقر والزھد ، بیان آداب الفقیر فی فقرہ ، ۴ / ۲۵۴ ۔
[4] بخاری ، کتاب بدءالخلق ، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانھامخلوقۃ ، ۲ / ۳۹۰ ، حدیث : ۳۲۴۱ ۔
[5] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۶۰ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع