30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انسان مال کی حرص میں حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا ، اپنے عزیز اوقات کو مال حاصل کرنے میں ہی خرچ کرتا ہے ، پھر عزت حاصل کرنے کے لیے ایسے جتن کرتے ہیں جو بالکل خلافِ اسلام ہیں ۔ حضرت ابن مسعود ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) فرماتے ہیں کہ ریا کار مرنے کے بعد بھی رِیا نہیں چھوڑتا ، کسی نے پوچھا وہ کیسے ، فرمایا : ” وہ چاہتا ہے کہ میرے جنازہ میں بہت لوگ ہوں تاکہ میری عزت ہو ، رِیا مَرے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتی ۔ “ ( [1] )
عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ” حُبِِّ جاہ کا فتنہ مال کے فتنے سے بھی بڑا ہے کیونکہ جاہ کے معنی ہیں شان و شوکت ، تکبر اور عزت اور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات ہیں ۔ “ ( [2] )
مدنی گلدستہ
’’بقیع ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) مال و دولت اور عزت و شہرت کی خواہش انسان کے دِین کے لئے بہت زیادہ خطر ناک ہے ۔
(2) مال و دولت سے ناجائز محبت کرنے والا حلال و حرام میں امتیاز نہیں کرتا ۔
(3) حُبِّ جاہ اتنی بری شے ہے کہ اس کے فتنے میں مبتلا ہونے والا عزت کے حصول کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے چاہے اُسے مال خرچ کرنا پڑے یا کوئی غیر شرعی کام کرنا پڑ جائے ۔
(4) ریاکاری ایسا برا عمل ہے جو مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتا ، ریاکار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کے جنازے میں زیادہ لوگ ہوں تاکہ اس کی عزت ہو ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ مال و دولت اور عزت و شہرت کی طلب سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 486 مسافر کی طرح زندگی گزارو !
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيْرٍ فَقَامَ وَقَدْ اَثَّرَ فیِْ جَنْبِهِ ، قُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَكَ وِطَاءً؟ فَقَالَ : مَا لِيْ وَلِلدُّنْيَا؟ مَا اَنَا فِي الدُّنْيَا اِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا. ( [3] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک چٹائی پر آرام فرمارہے تھے ، بیدار ہوئے تو پہلو مبارک پر چٹائی کے نشان تھے ۔ ہم نے عرض کی : ” یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم آپ کے لیے بچھونا نہ بنا دیں ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ” مجھے دنیا سے کیا سروکار میں دنیا میں اُس سوار کی طرح ہوں جو درخت کے سائے میں ( کچھ دیر ) ٹھہرا پھر اسے چھوڑکر چلا گیا ۔ “
چٹائی پر لیٹنے سے جسم نازنین پر نشانات پڑ گئے تھے یہ اس لئے تھا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جسم مبارک ریشم سے بھی زیادہ نرم و نازک تھا ۔ حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ” میں نے حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی ہتھیلی مبارک سے زیادہ نرم کسی باریک اور موٹے ریشم کو نہیں چھوا“ تو جب حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی مبارک ہتھیلیوں کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ جو مستقل طورپر کام کاج میں استعمال ہوا کرتی تھیں تو پھر آپ کے باقی بدن شریف کی نزاکت کا عالم کیا ہوگا؟مرآۃ المناجیح میں ہے : ” اُس وقت جسم اطہر پر قمیص بھی نہ تھی صرف تہبند مبارک زیب تن فرمائے ننگی چٹائی پر آرام فرمایا تھا ۔ جب حضرتِ سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسم مبارک پر یہ نشانات ملاحظہ کیے تو عرض کی کہ حضور ! اگر آپ اجازت عطا فرمائیں تو ہم آپ کے لیے ایک بسترا بنادیتے ہیں یعنی کاش کہ حضور ہم غلاموں کو اجازت دے دیتے تو ہم ہر قسم کے آرام کا انتظام حضور کے لیے کردیتے ۔ اعلیٰ لباس ، بہترین نرم بستر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ سادگی ہم غلاموں سے دیکھی نہیں جاتی ۔ “ ( [4] )
جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بستر کی پیشکش کی گئی تو فرمایا : ” مجھے دنیا سے کیا سروکار ، میں تو اس سوار کی طرح ہوں جو درخت کے سائے میں کچھ دیر ٹھہرے اورپھرسفرپر روانہ ہوجائے ۔ “مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس کے تحت فرماتے ہیں : ” جیسے یہ سوار اتنی دیر آرام کے لیے اپنا بستر وغیرہ نہیں کھولتا بلکہ زمین پر ہی لیٹ کر دھوپ ڈھل جانے پر چل دیتا ہے ایسے ہی ہمارا حال ہے کہ ہم کونین کے مالک ہیں مگر اپنے لیے کچھ نہیں رکھتے ۔ لہٰذا حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع