30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِرَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّهُ قَالَ : اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَاُ : ( اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)) قَالَ : یَقُوْلُ اِبْنُ آدَمَ : مَالِيْ ، مَالِيْ ، وَهَلْ لَكَ يَا اِبْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ اِلَّا مَا اَكَلْتَ فَاَفْنَيْتَ ، اَوْ لَبِسْتَ فَاَبْلَيْتَ ، اَوْ تَصَدَّقْتَ فَاَمْضَيْتَ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن شِخِّیْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام ( اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)) کی تلاوت فرمارہے تھے ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ” انسان کہتا ہے میرا مال ، میرا مال ، اے انسان ! تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تونے کھاکر فنا کردیا یا پہن کر بوسیدہ کردیا یا صدقہ دے کر آگے بڑھادیا ۔ “
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال اور انسان کا مال تو صرف وہی ہے جو اس نے کھا کر فنا کردیا اور اس سے اس کے بدن کو فائدہ پہنچا یا پہن کر پُرانا کردیا یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کسی محتاج پر صدقہ کردیا تو اس کا ثواب باقی ہے اور مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے پاس جمع ہے ۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دنیا میں تیرا مال صرف وہی ہے جسے تونے اس دنیا میں کھا کر یا پہن کر نفع حاصل کرلیا یا صدقہ کرکے آگے بھیج دیا ، اس کے علاوہ سارا مال تیرے ہاتھ میں امانت کی طرح ہے اور تو اس مال پر دوسروں کے لیے خادم و خازن کی مانند ہے ۔ اس حدیث پاک میں دنیا سے کنارہ کش ہونے پر اُبھارا گیا ہے اور اس بات کی ترغیب ہے کہ ضروری چیزوں کے علاوہ بقیہ مال نیک کاموں میں خرچ کرکے آخرت کے لئے جمع کر لیا جائے ۔ بعض علماء نے فرماتے ہیں : ” جو مال تیرے پاس ہے اسے اپنے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں ذخیرہ کر لے اللہ عَزَّ وَجَلَّ تیری اولاد کے لیے ذخیرہ کرے گا ۔ “ ( [2] )
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ” اپنی زندگی تندرستی میں اپنے ہاتھ سے خیرات کرجائے ، یہ بُرا ہے کہ زندگی میں کنجوس رہے مرتے وقت وصیت کرے یا امید کرے کہ میرے وارث میری طرف سے صدقہ و خیرات کیا کریں گے یہ شیطانی دھوکہ ہے ۔ “ ( [3] )
مدنی گلدستہ
’’ زمزم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) حقیقت میں انسان کا مال وہی ہے جسے اس نے کھا لیا ، پہن لیا یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں صدقہ کردیا ۔
(2) انسان جس مال سے دنیا و آخرت کا نفع نہیں اٹھاتا وہ مال اس کا نہیں بلکہ اس کے وُرَثاء کا ہے اور یہ اُس مال پر خازن کی طرح ہے ۔
(3) اپنے مال کو اِسراف سے بچاتے ہوئے محض ضروریات کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور جو باقی بچ جائے اسے صدقہ کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں جمع کرنا چاہیے ۔
(4) اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنا چاہیے ، یہ بات بہت بُری ہے کہ زندگی میں کنجوسی کرے اور مرتے وقت وصیت کرے یا امید کرے کہ ورثاء اس کی طرف سے صدقہ کریں گے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے مال کو اپنی جائز ضرورتوں میں استعمال کرنے اور زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 484 مَحَبَّتِ رسول اورفَقْر
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ اِنِّيْ لَاُحِبُّكَ ، فَقَالَ : اُنْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ، قَالَ : وَاللَّهِ اِنِّيْ لَاُحِبُّكَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : اِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَاَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا ، فَاِنَّ الفَقْرَ اَسْرَعُ اِلَی مَنْ يُحِبُّنِيْ مِنَ السَّيْلِ اِلَى مُنْتَهَاهُ. ( [4] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مُغَفل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : دیکھو کیا کہہ رہے ہو ، عرض کی : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، تین مرتبہ یہی کہا ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ” اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہوتو پھر فقر کے لیے زِرَہ تیار کر لو کیونکہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے فَقر اس کی جانب سیلاب سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھتا ہے ۔ “
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع