30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) ہر اُمَّت کے لیے ایک فتنہ ہوتا ہے اس امت کا فتنہ مال ہے ۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندوں کو مختلف چیزوں سے آزماتا ہے کبھی جان و مال سے ، کبھی پھلوں کی کمی سے اور کبھی بھوک اور ڈر کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے ۔
(3) مال ایسا فتنہ ہے جو بندے کو کھیل کود میں مشغول کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت سے غافل کردیتا ہے ۔
(4) دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ جنہیں مال کا فتنہ پہنچا ہو اور وہ اس فتنے کے اثر سے اپنے دین کو سلامت رکھنے میں کامیاب ہوئے ہوں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مال کے فتنے سے محفوظ فرمائے اور ہمیں قناعت کی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 482 چار ضروری چیزیں
عَنْ اَبِيْ عَمْرٍو ، وَيُقَالُ : اَبُوْعَبْدِ اللهِ ، وَیُقَالُ : اَبُوْ لَيْلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ لِاِبْنِ آدَمَ حَقٌّ فِیْ سِوَى هٰذِهِ الخِصَالِ : بَيْتٌ يَسْكُنُهُ ، وَثَوْبٌ يُوَارِيْ عَوْرَتَهُ ، وَ جِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو عمرو عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجن کی کنیت ابو عبداللہ اور ابو لیلیٰ بھی ہے ان سے مروی ہے کہ نبی کریم ، رؤف ورحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” ( دنیا میں ) ان چیزوں کے علا وہ انسان کا کسی چیز میں حق نہیں : رہنے کے لیے مکان ، سَتْر چھپانے کے لئے کپڑا ، خشک روٹی اور پانی ۔ “
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ” جو چیزیں بدن انسانی کے لئے ضروری ہیں اور اس کے دین پر مددگار ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے بندوں پر لازم کی گئی ہیں وہ صرف یہ ہیں : رہنے کے لیے ایسا گھر جو گرمی سردی سے محفوظ رکھ سکے ، پہننے کے لیے اتنا کپڑا جس سے ستر پوشی ہوجائے ، بھوک مٹانے کے لیے خشک و موٹی روٹی اور پینے کے لیے ضرورت کے مطابق پانی ۔ جب یہ اشیاء حلال طریقے سے حاصل کی جائیں تو آخرت میں ان پر حساب نہ ہو گا کیونکہ یہ انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں ۔ البتہ ان سے زیادہ کے بارے میں سوال ہوگا ۔ “ ( [2] ) مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : حدیث پاک میں بیان کردہ اشیاء کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت نہیں آخرت میں ان کا حساب نہ ہوگا اور ان کے سوا دوسری چیزوں کا حساب دینا ہوگا ۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ( ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)) ( پ۳۰ ، التکاثر : ۸ ) ترجمۂ کنزالایمان : پھر بے شک ضرور اُس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہوگی ۔ یہاں نعمتوں سے مراد عیش و عشرت کی چیزیں ہیں ۔ خیال رہے کہ شخصی زندگی فانی ہے قومی اور دینی زندگی باقی ہے لہٰذا مسلمان اپنی شخصی زندگی کے لیے معمولی سامان اختیار کرے ، قومی و دینی زندگی کے لیے قیامت تک کا انتظام کرے ۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دِین اور قوم کے لیے ممالک فتح کیے مگر اپنی ذات کے لیے آرام دہ مکان بھی نہ بنایا یہاں شخصی زندگی اورشخصی حالتوں کا ذکر ہے نیز گھر میں بقدرِ ضرورت گھر کا سامان داخل ہے ، روٹی میں سالن شامل ہے ، پانی میں دودھ لسی وغیرہ داخل ہیں جن کی کبھی ضرورت پڑتی ہے ، حضور انور نے دودھ لسی وغیرہ ملاحظہ فرمائی ہیں ۔ “ ( [3] )
مدنی گلدستہ
’’کعبہ ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) زندگی گزار نے کے لیے ضرورت کے مطابق مکان ، کپڑا ، روٹی اور پانی کافی ہے ۔
(2) مذکورہ بالا چاروں چیزیں اگر حلال طریقے سے حاصل کی جائیں اور بقدرِ ضرورت ہوں تو آخرت میں ان کے بارے میں سوال نہیں ہوگا ۔
(3) حدیث مذکور میں جو چار اشیاء بیان کی گئی ہیں ان کے سوا دوسری چیزوں کے بارے میں حساب ہوگا ۔
(4) انسان کو خود اپنے لیے معمولی سامان اختیار کرنا چاہیے اور دین و قوم کی خاطر وسیع انتظام کرنا چاہیے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہماری بلا حساب مغفرت وجنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 483 اِنسان کا حقیقی مال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع