دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

کہا جاتا ہے کہ ”  جائداد و جاگیر ایسی چیز ہے کہ اگر تو اِس  کی حفاظت کرے گا تو خود ضائع ہو جائے گا اور اگر حفاظت نہ کرے گا تو یہ  ضائع ہو جائے گی ۔ “ ( [1] )

جوکا م دِین بُھلادے اُسے چھوڑدو :

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ” ( جاگیر و جائداد  نہ بناؤ ! “یہ  فرمانِ عالی ) زمانۂ جہاد اور سِپاہیانہ زندگی کا ہے ، اس زمانہ میں باغات و کاشت میں مشغول نہ ہو ورنہ کفار تم کو ہلاک کردیں گے ۔  یہ فرمانِ عالی ہنگامی حالات کے ہیں جب کہ مسلمانانِ مدینہ ہر چہار طرف سے کفار میں گھرے تھے ، اس وقت عیش و آرام کی زندگی ، پختہ مکانات بنانے ، دنیاوی کاروبار میں مصروف ہونے سے منع فرمادیا گیا تھا جیساکہ زمانۂ جنگ میں رات کو روشنی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی بمباری کے خوف سے ، لیکن جب حالات بدل گئے یہ اَحکام بھی نہ رہے ۔ چنانچہ خلافتِ عثمانیہ میں مسلمانوں نے اپنے گھر پختہ ، مسجد نبوی شریف شاندار بنائی اور باغات و کھیتی باڑیاں خوب کیں ۔  خیال رہے کہ اُس زمانہ میں جیسے مکانات پختہ کرنا ممنوع تھے ویسے ہی قبور پر عمارات سے منع کردیا گیا تھا ، جب سکون کا زمانہ آیا تو حضرات صحابہ نے مکانات بھی پختہ بنائے اور بزرگوں کے مزارات پر عمارات بھی بنائیں تاکہ زائرین کو زیارت اور تلاوت اور عبادت وغیرہ میں سہولت ہو ۔  یا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو باغات کھیتی باڑی میں ایسا مشغول ہو کہ دین کو بھول جائے ، اس صورت میں یہ حکم دائمی ہے ، کھیتی باڑی ہی کیا جو چیز ربّ سے غافل کرے وہ ممنوع ہے ۔ “ ( [2] )

مدنی گلدستہ

’’حطیم   ‘‘  کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1)   زراعت ، تجارت  وغیرہ  میں یوں مشغول ہونا منع ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت سے غافل ہو جائے ۔

(2)   حکماء فرماتے ہیں  :  ” جائداد وجاگیر  غموں کا راستہ ہیں ۔ “

(3)    کسی بھی  کام میں  حد سے  زیادہ  مشغولیت  انسان کے لئے پریشانی  کا باعث  بنتی ہے ، اس لئے  ہر  کام میں  اِعتدال کی راہ  اپنانی چاہئے ۔

(4)   جو چیز ربّ کی یاد  سے غافل کردے اسے ترک کرنے ہی میں دِین  ودنیا کی بھلائی ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّہمیں  ایسا  رزقِ حلا ل  وافر مقدار  میں عطا فرمائے جو اس کی یاد  سے  غافل نہ کرے  بلکہ  اس کا قرب    حاصل کرنے میں معاون  ثابت ہو ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 480                                                                                                                                                    موت ﺑﮩﺖ  قریب ہے

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ :  مَرَّ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا ، فَقَالَ : مَا هَذَا؟ فَقُلْنَا :  قَدْ وَهٰی ، فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ ، فَقَالَ :  مَا اَرَی الْاَمْرَ  اِلَّا اَعْجَلَ مِنْ ذٰلِكَ. ( [3] )

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمرو بن عَاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس سے گزرے ، ہم اپنی جھونپڑی درست کررہے تھے ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟  ‘‘   ہم نے عرض کی :  یہ کمزور ہو گئی ہے اس لیے ہم اسے ٹھیک کررہے ہیں ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ” میں موت کو اس سے بھی زیادہ جلدی دیکھ رہا ہوں ۔ “

گھربنانے سے پہلے موت کی تیاری کرو :

 حدیث مذکورمیں اِس بات کا بیان  ہے کہ  ” موت  بہت جلد آنے والی ہے ۔ “ اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ مکانات کی بے جا تعمیر و تزیین میں وقت ضائع کرنے کے بجائے موت کی تیاری میں مشغول رہے ۔    حدیث  مذکور میں  حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا کہ  ” میں موت کو اِس گھر سے بہت جلدی دیکھ رہا ہوں“ مطلب یہ کہ تم گھر کی مرمت میں اپنا وقت صرف کررہے ہو یہ سوچ کر کہ کہیں ہمارے مرنے سے پہلے یہ گھر منہدم نہ ہو جائے جبکہ بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو گھر کے منہدم ہونے سے پہلے ہی موت آجاتی ہے ، لہٰذا انسان کے لیے گھر کی مرمت سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اپنے اَعمال کی اِصلاح کرے اور فانی دنیا کو ترک کرکے آخرت کی تیاری میں مصروف عمل رہے کہ موت کسی بھی وقت اُسے اپنی گرفت میں لے سکتی ہے ۔

عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ” حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ میں موت کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہاہوں کہ انسان اپنے لیے عمارت بنائے اور اُسے ضرورت سے زیادہ پختہ کرے ،  حضرت سَیِّدُنَا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بانس کی لکڑی سے گھر تعمیر کیا ، آپ سے عرض کی گئی کہ آپ نے اپنے لیے پختہ عمارت کیوں نہ بنائی؟ فرمایا : ” جسے مرنا ہے اُس کے لیے یہی بہت ہے ۔ “ حضرت سَیِّدُنَاسلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی گئی کہ آپ اپنے لیے گھر کیوں نہیں بناتے ؟ فرمایا : ”



[1]     فیض القدیر ، حرف لا ، ۶ / ۵۰۲ ، تحت الحدیث : ۹۷۳۱ملتقطا ۔

[2]     مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۱۸ ۔

[3]     ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی قصر الامل ، ۴ / ۱۵۰ ، حدیث : ۲۳۴۲ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن