30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَجَلَّ کے ذِکر ہی سے ہے ۔ حدیث پاک میں ہے : ” جب تک اللہ اللہ کہنے والا ایک شخص بھی باقی ہے اُس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ “ ( [1] )
اللہعَزَّ وَجَلَّ کی محبوب چیزیں :
حدیث پاک میں بیان ہوا کہ وہ چیزیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو محبوب ہیں وہ ملعون نہیں ۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبوب چیزوں سے مراد ، نیک کام اور وہ افعال ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قرب کا ذریعہ بنیں ۔ یا وہ چیزیں جو ذکراللہ کی مانند ہوں یعنی ذکرِ خیر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جن اعمال کا حکم دیا ہے وہ بجالانا اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے باز رہنا ۔ “ ( [2] )
” حدیث پاک میں جن چار چیزوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ ملعون نہیں ، ان میں عالِم اور طالبِ عِلم ہے ۔ ویسے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبوب چیزوں میں یہ بھی شامل ہیں مگرفضلیت کے پیشِ نظر انہیں بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ یہاں عالِم اور طالبِ علم سے مراد وہ ہیں جو اپنے علم پر عمل بھی کرتے ہوں ۔ لہٰذاجاہل ، بے عمل عالم اورصرف دنیوی علوم جاننے والااس فضیلت کا حق دار نہیں ۔ “ ( [3] )
مدنی گلدستہ
’’یارِغار ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) دنیا اور اس کی ہر وہ چیز جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے غفلت کا سبب بنے وہ قابل مذمت ہے ۔
(2) اولاد کی پرورش ، غذا ، لباس ، گھر وغیرہ کے لئے کمانا دنیا نہیں بلکہ دِین کا حصہ ہے ۔
(3) مومن دنیاکو زادِراہ سمجھتا ہے ، منافق اسے زینت سمجھتا ہے اور کافر اُس سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔
(4) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکر ہر عبادت و سعادت کی اصل ہے ۔
(5) جو چیز اللہ ورسول سے غافل کردے وہ دنیاہے ، یا جو اللہ و رسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے ۔
(6) جب تک دنیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرنے والاایک شخص بھی موجود ہے قیامت قائم نہ ہوگی ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے ، علمِ نافع اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 479 جاگیر وجائداد بنانے کی مُمَانَعَت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوْا فِي الدُّنْيَا. ( [4] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” جاگیر وجائداد نہ بناؤ ورنہ تم دنیا کو پسند کرنے لگوگے ۔ “
کس جائداد وجاگیر کاحصول ممنوع ہے ؟
مرقاۃ المفاتیح میں ہے : ’’حدیثِ مذکور میں تجارت و صنعت ، جائداد وجاگیراورکاروبار وغیرہ میں ایسی مشغولیت سے منع کیا گیا جو بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت اور آخرت کی تیاری سے روک دے ۔ یعنی تم جائداد و جاگیر کے حصول میں ایسے منہمک نہ ہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذِکر سے غافل ہوجاؤ ۔ ‘‘ ( [5] )
عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ” جسے اس بات کا خوف ہو کہ کھیتیوں اور باغات وغیرہ میں مشغولیت اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے غافل ہو کردے گی تو اسے چاہیے کہ ان چیزوں سے اجتناب کرے ( کوئی ذریعۂ معاش اختیار کرے ) اور جسے یقین ہوکہ جائداد و جاگیر رکھنے کے باوجودفرائض وواجبات کی ادائیگی سے غافل نہ ہوگا تو ایسے شخص کے لیے جائداد و جاگیر رکھنا جائز ہے جیساکہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زمینیں اور باغات رکھے ۔ حکماء فرماتے ہیں : ” جاگیر وجائداد غموں کا راستہ ہیں ۔ “ یہ بھی
[1] شرح الطیبی ، کتاب الرقاق ، الفصل الثانی ، ۹ / ۳۴۴ ، تحت الحدیث : ۵۱۷۶ملخصًا ۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، الفصل الثانی ، ۹ / ۳۰ ، تحت الحدیث : ۵۱۷۶ملخصا ۔
[3] شرح الطیبی ، کتاب الرقاق ، الفصل الثانی ، ۹ / ۳۴۴ ، تحت الحدیث : ۵۱۷۶ملخصًا ۔
[4] ترمذی ، کتاب الزھد ، باب۲۰ ، ۴ / ۱۴۷ ، حدیث : ۲۳۳۵ ۔
[5] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، الفصل الثانی ، ۹ / ۳۳ ، تحت الحدیث : ۵۱۷۸ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع