30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آسائشوں اور مال و دولت کی کثرت کی گئی ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ(۳۳) ( پ۲۵ ، الزخرف : ۳۳ ) ترجمۂ کنزالایمان : اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں تو ہم ضرور رحمٰن کے منکِروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر چڑھتے ۔ ( [1] )
یعنی اگر اس کا لحاظ نہ ہوتا کہ کافروں کو فراخیٔ عیش میں دیکھ کر سب لوگ کافر ہوجائیں گے ۔ ( تو کافروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بنادی جاتیں ) ۔ ( [2] )
دنیا آخرت تک پہنچنے کا راستہ ہے :
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” بیشک یہ دنیا مقصود نہیں بلکہ یہ تومقصود یعنی آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔ اسی طرح یہ دنیا رہائش گاہ اور جزا کا گھر نہیں بلکہ یہ تو ایسا گھر ہے جس سے منتقل اور روانہ ہونا ہے اور اللہتعالیٰ نے دنیا کی زیادہ تر نعمتیں کفار و فساق کی ملکیت میں دی ہیں اور انبیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اور اُن کے وُرَثاء یعنی علماءِ کرام کی اِس دنیا سے حفاظت فرمائی ہے ۔ اور عبرت حاصل کرنے والے کے لئے یہ حدیث کافی ہے کیونکہ اس میں دنیا کی کمتری ، اس کے قابلِ نفرت ہونے اور اس کے چاہنے والوں کے ناپسندیدہ ہونے کا بیان ہے ۔ “ ( [3] )
مدنی گلدستہ
’’یانبی ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک دنیا مچھر کے پَر سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔
(2) اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک دنیا کی کچھ بھی وقعت ہوتی توکفارکو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ ملتا کیونکہ دشمنوں کو وقعت والی چیز نہیں دی جاتی ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اولیا اور پسندیدہ بندوں کو دنیا سے دور رکھتا ہے ۔
(4) دنیاوی نعمتیں نہ ملنے پر مغموم ہونے کے بجائے یہ ذہن بنایا جائے کہ اگر دنیا اچھی ہوتی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کو ضرور دی جاتی ، مگرانہیں اِس سے دُور رکھا گیا کہ یہ بے وقعت وحقیر شے ہے ۔
(5) دنیا دارُالقرار نہیں دارُالعمل ہے ، دارُالقرار اور جائے سُرور تو جنت ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں آخرت کی تیاری كرنے کی توفیق عطافرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 478 دُنیا مَلعون ہے
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اَلَا اِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُوْنَةٌ مَلْعُوْنٌ مَا فِيْهَا اِلَّا ذِكْرَ اللَّهِ تَعَاليَ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمًا وَ مُتَعَلِّمًا. ( [4] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ” سنو ! دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر ، اس کی محبوب اَشیا ء ، عالِم اور طالبِ عِلم کے ۔ “
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” جو چیز اللہ ورسول سے غافل کردے وہ دنیاہے ، یا جو اللہ ورسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے ۔ بال بچوں کی پرورش ، غذا ، لباس ، گھر وغیرہ ( شریعت کی نافرمانی سے بچتے ہوئے ) حاصل کرنا سنّتِ اَنبیاءِکرام ہے یہ دنیا نہیں ۔ “ ( [5] )
حدیثِ مذکورمیں جن چار چیزوں کے علاوہ دنیا کی ہر شئے کو ملعون کہا گیا ہے ، اُن میں سب سے پہلی شئے ذِکراللہ ہے ۔ ” حدیث پاک میں ہے : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکر ہر عبادت و سعادت کی اصل ہے بلکہ جس طرح بدن کے لیے جان اور انسان کے لیے روح ضروری ہے ایسے ہی مومن کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکر ضروری ہے ۔ دنیا کی بقاء اور آسمان و زمین کا قیام اللہ عَزَّ
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، الفصل الثانی ، ۹ / ۳۲ ، تحت الحدیث : ۵۱۷۷ملتقطا ۔
[2] تفسیرخزائن العرفان ، پ۲۵ ، الزخرف ، تحت الآیۃ : ۳۳ ۔
[3] دلیل الفالحین ، باب فی فضل الزھد فی الدنیا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۴۰۹ ، تحت الحدیث : ۴۷۶ ۔
[4] ترمذی ، کتاب الزھد ، باب۱۴ ، ۴ / ۱۴۴ ، حدیث : ۲۳۲۹ ۔
[5] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۱۷ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع