دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

    صحابہ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مختلف حالات

                             عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی چار قسمیں بیان کی ہیں جن میں سے پہلی دو کا تعلق صحابہ کرام کے پہلے گروہ سے اور دوسری دو قسموں کا تعلق دوسرے گروہ سے ہے :  ( 1 ) وہ صحابہ کرام  کہ جو مسلمانوں کو فتوحات و غنائم حاصل ہونے سے قبل ہی وفات پاگئے جیساکہ حضرت سیدنا مُصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، ( 2 ) وہ صحابہ کرام  جو فتوحات و مالِ غنیمت کے حصول کے زمانے میں حیات تھے لیکن انہوں نے زُہد اختیار کیا اور فقر و تنگدستی کی زندگی بسر کی جیسے حضرت سَیِّدُنَا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔ یہ دونوں قسمیں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اس گروہ سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے دنیا کی نعمتوں سے لذت حاصل نہیں کی مگر آخرت میں انہیں کامل اجر عطا کیا جائے گا ۔  ( 3 ) وہ صحابہ کرام  جو بہت  سے مباح  اُمور سے دور رہے مگربعض مباح چیزوں کو اختیاربھی فرمایا ، مثلاً کثرت سے نکاح کرنا ، خدام رکھنا اور ملبوسات کی کثرت کرنا اور اِس طرح کے اَصحاب بہت زیادہ ہیں جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا اِبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔  ( ۴ ) وہ صحابہ کہ جنہوں نے کثرت سے مباح کام کیے مثلاً بہت زیادہ تجارت کی اور مال جمع کیا لیکن ساتھ ساتھ حقوق ِواجبہ اورمُسْتَحَبَّہ ادا کرتے رہے اس طرح کے اصحاب بھی بہت زیادہ ہیں اور حضرت سَیِّدُنَا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسی طرح کے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں ۔  ان آخری دونوں قسموں کا تعلق صحابہ کرام کے اس گروہ سے ہے جنہوں نے دنیا میں بھی نعمتیں پائیں اور آخرت میں بھی نعمتیں پائیں گے ۔ “ ( [1] )

حدیث مذکورمیں  بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَا مُصعَب بن عُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کے بعد جب اُن پر چادر ڈالی گئی تو وہ چھوٹی تھی حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے حکم فرمایا کہ چادر سے اُن کا سر ڈھانپ دیا جائے اور پاؤں پر گھاس ڈال دی جائے ۔ عمدۃ القاری میں ہے : ” جب کپڑا کم ہو تو میت کے پیر ڈھانپنے کے بجائے اُس کا سر ڈھانپا جائے کیونکہ وہ افضل ہے ۔  جب کپڑا  اتنا کم ہو کہ اس سے صِرف سَر یا اَعضائے سَتْر ڈھانپے جا سکتے ہوں تو بقیہ اَعضاء پر گھاس وغیرہ ڈال دی جائے اور کپڑے سے میت کا سَتْر چھپایا جائے  کیونکہ زندگی اور موت دونوں میں سَتْر چھپانا واجب ہے ۔ “ ( [2] )

مدنی گلدستہ

’’ بقیع  ‘‘  کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان صدق و صفا کے  انتہائی اعلیٰ درجے پر فائز تھے ، وہ دنیاوی آسائشوں میں  پڑنے کے بجائے  صبرو قناعت سے کام لیا کرتے تھے  ۔

(2)   حضرت سَیِّدُنَا  مُصْعَب بن عُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قبولِ اسلام سے پہلے بڑی ناز و نعمت میں زندگی بسر کررہے تھے لیکن  دامنِ اسلام  سے وابستہ ہونے  کے بعد آپ نے دنیا وی آسائشیں ترک کر کے  فقر اختیارفرمایا ۔

(3)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے بعض حضرات کوان کے اجر میں سے دنیا میں بھی حصہ ملا اور آخرت میں بھی ملے گا اور بعض وہ ہیں جنہیں دنیا میں کچھ نہیں ملا بلکہ آخرت میں   انہیں پورا اجر دیا جائے گا ۔

(4)   جب  کفن کاکپڑا اتنا کم ہو کے میت کا سر یا پیر ڈھانپے جاسکتے ہوں تو اس وقت سر ڈھانپنا افضل ہے اور اگر کپڑا اتنا ہے کہ اس سے صرف سَتْر یا سر ڈھانپا جاسکتا ہے تو پھر سَتْر چھپانا ضروری ہے ۔  

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سادہ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 477                                                                                  مچھر کے پَر سے بھی زیادہ حقیر

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِنِ السَّاعِدِیِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ :  قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ. ( [3] )

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھرکے پَر کے برابر بھی ہوتی تووہ اُس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ۔ “

نیک لوگوں کی دنیا سے حفاظت کی جاتی ہے :

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ” یہ مثال کمتر اور حقیر ہونے کے لیے دی گئی ہے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک دنیا کی حیثیت تھوڑی سی بھی ہوتی تو وہ کافر کو دنیا کے پانی میں سے ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا یعنی کافر کو اس دنیا کی ادنیٰ اور معمولی چیز سے بھی فائدہ اٹھانے نہیں دیتا کیونکہ کافر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا دُشمن ہے اور دشمن کو کوئی بھی قابلِ قدر شئے نہیں دی جاتی ( اسی لئے اللہ عَزَّوَجَلَّنے  اپنے دشمنوں  کوتو دنیا جیسی  بے وقعت ، حقیر شے دیتاہے ) مگر اپنے ولیوں کو دنیا  نہیں دیتا ۔ اس دنیا کے حقیر اورنا پسندیدہ ہونے ہی کی وجہ سے کفار پر دنیا کی



[1]     فتح الباری ، کتاب الرقاق ، باب فضل الفقر ، ۱۲ / ۲۳۵ ، تحت الحدیث : ۶۴۴۸ ملخصًا ۔

[2]     عمدۃ القاری ، کتاب الجنائز ، باب اذ لم یجد کفنا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ / ۸۴ ، تحت الحدیث :  ۱۲۷۶ملخصاً ۔

[3]     ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی ھوان الدنیاعلی اللہ عزوجل ، ۴ / ۱۴۳ ، حدیث : ۲۳۲۷ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن