دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

حضرتِ سَیِّدُنَا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ  نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ایک شخص کو کچھ کھجوریں عطا کیں ، وہ ، اس کے گھر  والے اورمہمان ان کھجوروں میں سے کھاتے رہے مگر وہ ختم نہ ہوئیں ، پھر اس نے کھجوروں کا وزن کیا تو  ختم ہوگئیں ۔ اس نے بارگاہِ رسالت میں ماجراعرض کیا توآپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرمایا :  ” اگر تم ان  کا وزن نہ کرتے ہیں تو وہ تمہارے لیے بچی رہتیں ۔ “ ( [1] )

دو حدیثوں میں تطبیق :

 حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ وزن کرنے پر جَو اور کھجوریں  ختم ہوگئں ، جبکہ ایک حدیث میں ہے کہ  ” كِيلُوْا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيْهِ یعنی اپنے کھانے کا وزن کرو تمہارے لیے اس میں برکت ہوگی ۔ ‘‘ تو ان دونوں حدیثوں میں  تطبیق کیسے ہوگی ؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے اس کے دو جواب دئیے ہیں :  ( 1 ) جس حدیث پاک میں تولنے کا حکم  ہے وہاں  مراد ملکیت میں آتے وقت وزن کرنا ہے یعنی جب کوئی چیز خریدو تو وزن کرکے خریدو ۔  ( 2 ) یا تولنے سے مراد یہ ہے کہ جب کچھ خرچ کرنا ہو تو خرچ کرنے والی مقدارکا وزن کرلو تاکہ ضرورت سے کم یا زیادہ نہ ہو لیکن جو باقی بچ جائے اس کا وزن نہ کرو ۔ “ ( [2] )

مدنی گلدستہ

’’عائشہ   ‘‘  کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول

(1)   حضور عَلَیْہِ السَّلَامکی وفات کے بعد حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس تھوڑے سے جَو کے علاوہ کھانے کی کوئی چیز نہ تھی ۔

(2)   حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو زمین کے خزانے عطا کیے گئے تھے ، آپ چاہتے تواپنے تمام متعلقین کو مال ودولت سے مالامال کردیتے لیکن آپ نے اپنے لئے بھی اور انکے لئے زُہد کوپسند فرمایا ۔

(3)   حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی برکت سے تھوڑی سی چیز میں بھی بہت زیادہ برکت ہو جاتی ہے ۔

(4)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اپنی چیزیں لایا کرتے اور ان پر برکت کی دعا کروایا کرتے تھے ۔

(5)   کوئی چیز خریدتے یابیچتے وقت یا خرچ کرتے وقت اس کاوزن  کرلیاجائے مگر خرچ کے بعد جو بچ جائے  اس کا وزن  نہ کیا جائے کہ اس  سے برکت زائل ہونے کا اندیشہ ہے ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 475                                                                                                                                شہنشاہِ کَونَین کا ترکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِِ الْحَارِثِ اَخِىْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ اُمِّ المُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ :  مَا تَرَكَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا ، وَلَا اَمَةً ، وَلَا شَيْئًا اِلَّابَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِيْ كَانَ يَرْكَبُهَا ، وَسِلَاحَهُ ، وَاَرْضًا جَعَلَهَا لِاِبْنِِ السَّبِيْلِ صَدَقَةً. ( [3] )

ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا جویریہ بنت حارث کے بھائی حضرت عَمرو بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی وفات کے وقت دینار چھوڑے نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی نہ کوئی اور چیز سوائے ایک سفید خچر کے جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام سواری فرمایاکرتے تھے اور سوائے  ہتھیار اور زمین کے جسے آپ نے مسافروں کے لیے وقف کردیا تھا ۔

انبیاء کا ترکہ صدقہ ہے :

حدیثِ مذکور سے واضح ہوا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَوقتِ وصال کوئی مال و دولت نہیں چھوڑا جس میں میراث جاری ہوتی کیونکہ  جو کچھ آپ  کے پاس آتا وہ حاجت مندوں میں تقسیم فرمادیتے تھے ۔  ارشادفرمایا :  ” لَا نُوْرَثُ مَاتَرَکْنَا صَدَقَۃٌ یعنی ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گاہم نے جو کچھ چھوڑا وہ صدقہ ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

حضورنے غلاموں کو آزادکردیا تھا :

 مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” حضورِ اَنور کے جو لونڈی غلام تھے یا تو حضور کی حیات شریف میں وفات پا گئے تھے یا حضورِ انور نے انہیں آزاد فرمادیا تھا ، آپ نے کوئی غلام یا لونڈی نہ چھوڑی ۔ “ ( [5] )

حدیث مذکور میں بیان ہوا کہ بوقتِ وِصال حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی   ملکیت میں تین چیزیں تھیں ۔  ( 1 ) خچر ( 2 ) ہتھیار ( 3 ) اور زمین ۔  چونکہ  یہ بڑی  چیزیں تھیں اس لئے  صرف انہیں   بیان کیا گیا ورنہ  اان کے  علاوہ بھی  کچھ  عام استعمال کی  چیزیں آپ   کی ملکیت میں تھیں ۔ بعض محدثین نے ان کی بھی تفصیل   بیان فرمائی ہے ، چنانچہ  عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ” حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس چھ ( 6 ) خچر تھے جن میں دُلْدُل ، فِضّہ ، اور ایلیہ شامل ہیں ۔  آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے وِصال کے بعد جو خچر باقی رہا وہ دُلْدُل ہے ،   جومقوقس شاہ



[1]     فتح الباری ، کتاب الرقاق ، باب فضل الفقر ، ۱۲ / ۲۳۷ ، ۲۳۸ ، تحت الحدیث : ۶۴۵۱ملتقطا ۔

[2]     عمدۃ القاری ، کتاب الخمس ، باب نفقۃ نساء النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد وفاتہ ، ۱۰ / ۴۳۳ ، تحت الحدیث :  ۳۰۹۷ ۔

[3]     بخاری ، کتاب الوصایا ، باب الوصایا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۳۱ ، حدیث : ۲۷۳۹ ، کتاب المغازی ، باب مرض النبی ۔ ۔  ۔ الخ ، ۳ / ۱۶۰ ، حدیث :  ۴۴۶۱ ملتقطا ۔

[4]     فیوض الباری ، ۱۱ / ۵۷ ۔

[5]     مرآ ۃ المناجیح ، ۸ / ۳۱۲ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن