30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) جو شام کرلے وہ صبح تک زندہ رہنے کی امید نہ رکھے اور جو صبح کرلے وہ شام تک زندہ رہنے کی امیدنہ رکھے بلکہ ہر وقت موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے ۔
(2) لمبی امیدوں سے بچنا چاہیے کہ جو شخص طویل زندگی کی امید کرتا ہے وہ نیک اعمال میں سستی کا شکار ہوجاتا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت ترک کردیتا ہے اور دنیا میں مشغول ہو جاتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں دنیا وآخرت میں اپنی حفظ و امان میں رکھے ، لمبی امیدوں سے بچائے اور موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق عطافرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 472 مقبولیت کا نسخہ
عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدِنِ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ دُلَّنِيْ عَلَى عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُهُ اَحَبَّنِيَ اللهُ وَاَحَبَّنِيَ النَّاسُ ، فَقَالَ : ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا یُحِبَّكَ اللهُ ، وَازْهَدْ فِيْمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوالعباس سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ” یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جب میں وہ کروں تو اللہتعالیٰ بھی مجھ سے محبت فرمائے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں“ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : ” دنیا سے بے رغبت رہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم سے محبت فرمائے گا اور جوکچھ لوگوں کے پاس ہے اسں سے بے رغبت ہو جاؤ ، لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے ۔ “
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کی محبت جو قدرتی طور سے ہو اللہ کی رحمت ہے ، محبتِ خلق محبت ِخالق کی علامت ہے ، لہٰذا لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع نہیں ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا کی تھی کہ مولیٰ ﴿ وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(۸۴)﴾ ( پ۱۹ ، الشعراء : ۸۴ ) آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری فرما ، لہٰذا ان صاحب کا یہ سوال بالکل برحق ہے ۔ “ ( [2] )
” دنیا سے بے رغبتی کے رکن تین ہیں : محبت دنیا سے علیحدگی ، زائد دنیا سے پرہیز ، آخرت کی تیاری ، ایسے شخص سے ﷲتعالیٰ محبت اس لیے کرتا ہے کہ وہ اللہ کے دُشمن سے محبت نہیں کرتا دُشمن کا دُشمن بھی دوست ہوتا ہے ۔ نیز جو دنیا سے بے رغبت ہوگا وہ گناہ کم کرے گا نیکیاں زیادہ اور ایسا بندہ ضرور اللہ تعالیٰ کو پیارا ہے ۔ “ ( [3] ) اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” زُہد سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت پیدا ہوتی ہے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ زُہد بہت اعلیٰ اور افضل عمل ہے کیونکہ اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کا سبب بنایا گیا ہے اور دنیا کی محبت اللہتعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے ۔ “ ( [4] )
لوگوں کے ا موال سے بے رغبتی میں عزت کیوں؟
عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ” لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت فطری طورپر رکھی گئی ہے اور یہ محبت ان کے دلوں پر نقش ہوگئی ہے تو جو کوئی انسان سے اس کی پسندیدہ چیز میں جھگڑتا ہے تو انسان اس سے نفرت کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی انسان کی پسندیدہ چیز میں اس کے معارض نہیں آتا انسان اس سے محبت کرتا ہے اور اسے عزت دیتا ہے ۔ اسی لیے مشہور تابعی حضرت سَیِّدُنَا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ” لوگ آدمی کے عزت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ ان کی دنیا کا خواہشمند ہوتا ہے تو وہ اُسے حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی بات کو بھی ناپسند کرتے ہیں ۔ “ منقول ہے کہ اہل بصرہ میں سے کسی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : ” حضرت سَیِّدُنَا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ“ پوچھنے والے نے کہا ” انہیں تمہارے نزدیک یہ مقام و مرتبہ کیوں حاصل ہے ؟ اس نے کہا : ” ہم ان کے علم سے دلیل پکڑتے ہیں اور وہ ہماری دنیا سے بے نیاز ہیں ۔ “ ( [5] )
مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” دنیا کا دستور ہے کہ جو اس کی طرف دوڑتا ہے تو وہ اس سے بھاگتی ہے اور جو اس سے بے نیاز ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف آتی ہے ۔ جو شخص لوگوں سے تمنا رکھے گا تو خواہ مخواہ ان کی خوشامد کرے گا اور لوگ اس سے نفرت کریں گے اور جو لوگوں سے بے نیاز ہوگا تو لوگ خوامخواہ اس کی طرف آئیں گے ۔ “ ( [6] )
مال سے محبت کی جائز ومحمود صورت
[1] ابن ماجۃ ، کتاب الزھد ، باب الزھد فی الدنیا ، ۴ / ۴۲۲ ، حدیث : ۴۱۰۲ ۔
[2] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۲۴ماخوذًا ۔
[3] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۲۴ملتقطا ۔
[4] شرح الطیبی ، کتاب الرقاق ، الفصل الثانی ، ۹ / ۳۵۱ ، تحت الحدیث : ۵۱۸۷ ۔
[5] فیض القدیر ، حرف الھمزۃ ، ۱ / ۶۱۵ ، تحت الحدیث : ۹۶۰ ۔
[6] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۲۴ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع