30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسی ہیں تو رب تعالیٰ اوپر کھینچنے والا ۔ امام ابوصیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :
دَعَا اِلَی اللہِ فَالْمُسْتَمْسِکُوْنَ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ بِحَبْلٍ غَیْرِ مُنْفَصِمِ
ترجمہ : ’’حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام نے ہمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دین کی طرف بلایا تو ان کی اطاعت کی رسّی تھامنے والے ایسے تھامنے والے ہیں کہ کبھی منقطع نہ ہوں گے ۔ ‘‘ رسّی کا ایک کنارہ ڈول میں ہوتا ہے دوسرا کنارہ اوپر والے کے ہاتھ میں اگر اوپر والا ہاتھ نہ کھینچے تو رسّی ڈول کو نہیں نکال سکتی ۔ لہٰذا کوئی قرآن چھوڑ کر ہدایت پر نہیں آسکتا ۔ خیال رہے کہ بعض مؤمنین بغیر کتابُ اللہ صرف نبی کے ذریعہ رب تک پہنچ گئے جیسے فرعونی جادوگر یا جیسے وہ لوگ جو عین جہاد میں ایمان لاکر فورًا شہید ہوگئے مگر کوئی شخص صرف کتابُ اللہ سے بغیر نبی رب تک نہیں پہنچا ۔ ‘‘ ( [1] )
اہل بیت سے محبت اور اُن کاادب :
کتابُ اللہ کی عظمت بیان فرمانے کے بعد حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام نے دوسری عظیم چیز بیان فرمائی کہ وہ میرے اہل بیت ہیں اور میں تمہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈراتا ہوں ۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے ارشاد کا معنیٰ یہ ہے کہ میں تمہیں اہل بیت کی حفاظت ، ان کے ادب و احترام ، ان کی تعظیم اور ان سے محبت مؤدت کے معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حق سے آگاہ کرتا ہوں ۔ نیز حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے مبالغہ فرمانے کے لیے اپنے جملے مکرّر فرمائے اور یہ امکان بھی بعید نہیں کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے پہلی مرتبہ میں اپنی آل مراد لی ہو اور دوسرے بار میں ازواج کیونکہ اہل بیت کا لفظ تو آل و ازواج دونوں کو شامل ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’معنیٰ یہ ہے کہ میں تمہیں اپنے اہل بیت کی شان کے حوالے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈراتا ہوں اور تم سے کہتا ہوں کہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو انہیں ایذا نہ دو بلکہ ان کی حفاظت کرو ۔ ‘‘ ( [3] )
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈراتا ہوں ، اُن کی نافرمانی بے ادبی بھول کر بھی نہ کرنا ورنہ دِین کھو بیٹھو گے ۔ ‘‘ ( [4] )
” اشعۃ اللمعات“ میں ہے : ’’حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام کے اہل بیت دوطرح کے ہیں : ( 1 ) بیت جسم یعنی وہ لوگ کہ جن کا آپ سے جسمانی تعلق ہے جیسے آپ کی اولاد اور اَزواج ۔ ( 2 ) بیت ذِکر یعنی وہ لوگ کہ جن کا آپ سے قلبی رشتہ و تعلق ہے اور یہ علماء ، صُلحاء اور اَولیاءُ اللہ ہیں ۔ یہ دونوں اہل بیت اہل دنیا کے ظاہر و باطن کی آبادی اور دِین و دُنیا کے نظام کی اِصلاح کا سبب ہیں ۔ ‘‘ ( [5] )
حدیث پاک کے آخر میں بیان ہوا کہ سیدناحَصِین بن سَبُرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سیدنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے دریافت کیا کہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے اہل بیت کون ہیں؟ اور کیا اِن میں اَزواجِ مُطَہَّرات شامل نہیں ہیں؟ تو حضرتِ سَیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا کہ اَزواجِ مُطَہَّرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں لیکن مذکورہ حدیث پاک میں اَہل بیت سے مراد وہ حضرات ہیں جن پر صدقہ لینا حرام ہے ۔ یہاں ایک اِشکال وارد ہوتا ہے کہ صحیح مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ جب سیدنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اَزواجِ مُطَہَّرات کے اہلِ بیت میں شامل ہونے سے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے نفی میں جواب دیا ۔ بظاہر اِن دونوں روایتوں میں تضاد نظر آتا ہے لیکن ان دونوں احادیث میں تطبیق دینا ممکن ہے وہ اس طرح کہ جس روایت میں اَزواجِ مُطَہَّرات کی اہل بیت ہونے سے نفی کی گئی ہے تو وہاں مراد ان اہل بیت میں شمولیت سے نفی ہے کہ جن پر صدقہ ( زکوٰۃ ) لینا حرام ہے اور جس حدیث میں یہ بیان ہواکہ اَزواجِ مُطَہَّرات بھی اَہل بیت سے ہیں تو وہاں ادب و احترام ، تعظیم و تکریم اور حُرمت کے اِعتبار سے انہیں اہل بیت میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ اَزواجِ مُطَہَّرات تو حضور کے گھر میں سکونت پذیر تھیں اور اُن کے اَخراجات حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے ذمہ تھے اِس لحاظ سے وہ اَہل بیت میں داخل ہیں ۔ ( [6] ) اَحناف کے نزدیک وہ اَہل بیت جن پر صدقہ حرام ہے وہ صرف مؤمنینِ بنی ہاشم ہیں ان کے علاوہ کسی پر صدقہ حرام نہیں ۔ ( [7] )
مدنی گلدستہ
[1] مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۴۵۸ ۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب المناقب والفضائل ، باب مناقب اھل بیت ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۰ / ۵۱۷ ، تحت الحدیث : ۶۱۴۰ ۔
[3] شرح الطیبی ، کتاب المناقب والفضائل ، باب مناقب اھل بیت ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۱ / ۲۹۶ ، تحت الحدیث : ۶۱۴۰ ۔
[4] مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۴۵۸ ۔
[5] اشعۃ اللمعات ، کتاب المناقب ، باب مناقب اھل بیت ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۶۹۶ملخصا ۔
[6] شرح مسلم للنووی ، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ عنھم ، باب فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ، ۸ / ۱۸۰ ، الجزء الخامس عشر ۔
[7] دلیل الفالحین ، باب فی اکرام اھل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۰۱ ، تحت الحدیث : ۳۴۶ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع