30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَقَدْ رَاَيْتُ سَبْعِيْنَ مِنْ اَهْلِ الصُّفَّةِ ، مَا مِنهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ اِمَّا اِزَارٌ وَ اِمَّا كِسَاءٌ ، قَدْ رَبَطُوْا فِيْ اَعْنَاقِہِمْ ، فَمِنْهَا مَا یَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَراهِيَةَ اَنْ تُرَى عَوْرَتُهُ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ” میں نے اصحابِ صُفہ میں سے ستر افراد کو اس حالت میں دیکھاکہ انکے پاس چادر نہ ہوتی صرف تہبندہوتا تھا یا کمبل جسے وہ اپنی گردنوں میں باندھتے تھے تو اُن میں سے بعض کا تہبند آدھی پنڈلی تک پہنچتا اور بعض کا ٹخنوں تک اور وہ اسے بے پردگی کے خوف سے اپنے ہاتھوں سے سمیٹے رکھتے ۔ ‘‘
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” صفہ کہتے ہیں چبوترے کو ۔ مسجد نبوی شریف سے متصل طلباء کے لیے ایک چبوترہ مقرر کیا گیا تھا جہاں یہ علم سیکھنے والے حضرات رہتے تھے انہیں ” اَصحابِ صُفّہ“کہتے تھے ، اُن کی تعداد کل چار سو ہے ۔ اُن کے منتظم حضرت ابوہریرہ تھے یہ خود بھی انہی میں سے تھے ۔ ان حضرات نے اپنے کو دِین کے لیے وقف کردیا تھا ، مدینہ پاک میں رہتے تو علم سیکھتے تھے ورنہ جہاد میں جاتے تھے ، اہل مدینہ اُن کو اپنے صدقات و خیرات دیتے تھے ۔ آج کل بھی دِینی مدارس میں یہی ہوتا ہے ، آج کل کے دینی مدارس کے لیے یہ حدیث اصل ہے ۔ “ ( [2] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیثِ مذکور میں اَصحابِ صفہ کا فقرو زُہد بیان کیا گیا ہے کہ اُن میں سے کسی کے پاس قمیص تو تھی ہی نہیں صرف تہبند تھا وہ بھی اتنا چھوٹا کہ یہ حضرات اُس ایک کپڑے میں پورا جسم ڈھانپنے کی کوشش کرتے تھے نیز جب یہ لوگ سجدے اور رکوع میں جاتے یا اُٹھتے بیٹھتے تو اپنے کپڑے کو ہاتھوں سے پکڑ لیتے تھے کیونکہ اُن کپڑوں کی چوڑائی بہت کم تھی اگر ہاتھ سے نہ پکڑتے تو کھل جاتا ۔ اس سے معلوم ہواہے کہ اہل صُفہ کیسی سادہ زندگی بسر کیا کرتے تھے ۔ خوبصورت لباس ، اچھی سواری ، عمدہ کھانے اور پُرسکون رہائش میسر آنا تو دور کی بات ہے ان کے پاس تو ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے بھی اَسباب موجود نہ تھے ۔ فقر و فاقے کی اس شدت کے باوجود وہ کبھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہ لاتے بلکہ ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر اَدا کرتے اور دینِ اسلام کی نشرو اشاعت اور علم دین کے حصول میں مشغول رہتے ۔
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” اہل صفہ کا ایک تہبند یا کمبل پر اکتفا کرنا دنیا کی زینتوں سے بے رغبت ہونے اور عبادت میں مشغول ہونے اور آخرت کے گھر کو آباد کرنے کی وجہ سے تھا ۔ حَافِظ اَبُو نُعَیْم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ” اَصحابِ صُفہ کے اَحوال سے ظاہر ہوتا ہے اور اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ ان پر فقر کا غلبہ تھا اور انہوں نے قِلّتِ مال کو ترجیح دی اور اسی کو پسند کیا اسی وجہ سے نہ انہیں کبھی دو کپڑے میسر آئے اور نہ ہی ان کے لیے کبھی دو قسم کا کھانا آیا ۔ “ ( [3] )
مدنی گلدستہ
’’کریم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) اَصحابِ صفہ کے فقر کا یہ عالم تھا کہ اُن کے پاس جسم چھپانے کے لیے ایک مکمل چادر بھی نہ تھی ، انہوں نے اپنے لئے فقر کو پسند کیا اور اسی پر راضی رہے ۔
(2) اصحاب صفہ نے دِین کی خاطر بہت قربانیاں دیں ، دِین کی نشر واشاعت میں ان کا بہت اہم کردار ہے ۔
(3) اصحاب صفہ کی تعدار چار سو تھی ۔ ان کی زندگی خدمتِ دین ، حصول علم ، جہاد اور صحبتِ نبوی میں گزرا کرتی ، وہ حضرات کبھی بھی کسی سے سوال نہ کرتے اہل ثروت صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ان کی معاونت کیاکرتے تھے ۔
(4) جسے آخرت کی تیاری کی فکر ہو اس کے لئے دنیاوی مصائب وآلام پر صبر کرنا آسان ہو جاتاہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ مصائب بہت جلد ختم ہوجائیں گے پھر جنت کی دائمی نعمتوں میں رہنا نصیب ہوگا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرت طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 470 دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ. ( [4] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ۔ “
شہوات کوترک کرنے والا قید میں ہے :
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ” مؤمن کے لیے دنیا قید خانہ اس وجہ سے ہے کہ مؤمن اپنے نفس کو لذتوں سے دُور رکھ کر اسے سختیوں میں مبتلا کرتا ہے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع