دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

حدیث نمبر : 468                                                                                                                                                                                                                                    درھم ودینارکاغلام

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :  تَعِسَ عَبْدُ الدِّيْنَارِ وَالدِّرْهَمِ وَالْقَطِيْفَةِ وَالْخَمِيْصَةِ اِنْ اُعْطِىَ رَضِىَ وَاِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ. ( [1] )

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی کریم ،  رؤوف ورحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” ہلاک ہو درہم و دینار ، مخملی چادر اور سیاہ دھاری دار کپڑے کا غلام کہ اگر اسے دیا جائے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو ۔   ‘‘ 

حدیثِ مذکورمیں مال و دولت کے حریص کو درہم و دینار کا غلام کہا گیا ہے اور ایسے شخص کے لیے حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے دعائے ضرر فرمائی ہے ۔  عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ” درہم و دینار کا غلام ہلاک ہو یعنی جو اِنہیں کی طلب میں لگا رہے ، اس کی ساری جدو جہد انہیں  کے حصول کے لیے ہو تو  وہ درہم ودینار کا غلام ہے ۔ ایسے شخص کے  بارے میں دعائے ضرر کرنا جائز ہے کیونکہ وہ فانی دنیا کی آسائشوں کے حصول میں مشغول ہوگیا اور اس نے باقی رہنے والی اُخروی زندگی کی نعمتوں کے لیے کوشش ترک کردی  ۔ “ ( [2] )

 اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” حدیثِ مذکور میں اس بندے کو درہم ودینار یعنی مال ودولت کا غلام  کہا گیا ہے  جو دنیاکی محبت اور   دنیاوی  خواہشات کی تکمیل  میں اس قدر غرق ہوکہ   چھٹکارا مشکل ہو جائے جیسے  قیدی  کے لئے  قید   خانے سے چھٹکارا مشکل ہوتا ہے ۔  یہاں ایسے ہی شخص کے لئے   دعائے ضرر کی  گئی ہے  ۔ مطلقاًمال  ودولت جمع کرنا باعثِ مذمت نہیں  کیونکہ بقدرِ  حاجت  دنیوی مال جمع  کرنا منع نہیں ، بلکہ   ضرورت سے زیادہ مال قابلِ مذمت ہے  ۔ “ ( [3] )

بہت عمدہ لباس سے تکبر پیدا ہوتا ہے :

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ” حدیثِ  مذکور  میں  اُس خوبصورت لباس کی مذ مت بیان کی گئی ہے  جس سے دُنیا کی ظاہری زینت حاصل کرنا مقصود ہو اور اس لباس کو پہن کر دل دنیاوی اَوصاف یعنی غرور و تکبر سے محفوظ نہ رہ سکے اور خاص طورپر وہ لباس جس کا پہننا حرام یا مکروہ ہے وہ شدید قابلِ مذمت ہے کیونکہ جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور جو شخص باریک لباس پہنتا ہے اس کا دِین کمزور ہوجاتا ہے ، اسی طرح غرور و تکبر کی بنا پر آستین لمبی کرنا اور دامن لٹکا کر چلنا حرام ہے اور اگر تکبر کی وجہ سے نہ ہو تو مکروہ ۔  بہر حال ایسے کپڑے پہننا جو شریعت میں مباح ہیں ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔ “اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-  ( پ۸ ، الاعراف : ۳۲ )

ترجمۂ  کنزالایمان  : تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور پاک رزق ۔  ( [4] )

مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” روپیہ پیسہ سے مراد عام مال ہے ، چونکہ نقد سکہ عمومًا پیارا ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ ہر قسم کا مال حاصل کیا جاتا ہے اس لیے دینار و درہم کا ذکر فرمایا ۔ خمیصہ یا  تو نَقشیں چادر ہے یا فاخرہ لباس یعنی جو ان چیزوں کی محبت میں گرفتار ہو کہ اس کی نظر ان میں ایسی لگی ہو کہ اسے کبھی آخرت یاد نہ آوے ۔ اُسے اللہ تعالیٰ دنیا دے دے تو خوش رہے اگر کبھی اس پر تنگی آجاوے تو رب سے ناراض ہوجاوے ، کفریات بکنے لگے یا اگر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا سلطانِ اسلام یا کوئی بھی اسے دنیا دے دے تو اُن سے راضی رہے ورنہ اُن سے ناراض ہوجاوے ، اس بندۂ نفس کا کوئی اعتبار نہیں اسے جو چاہے دنیا کے عِوض خریدلے ۔ “ ( [5] )

مدنی گلدستہ

’’کربَلا  ‘‘  کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول

(1)   حلال وحرام کی تمیز کئے بغیرجمع کیا جانے والا مال قابلِ  مذمت اورباعثِ ہلاکت ہے ۔  

(2)   غرور وتکبر  کی وجہ سے آستین لمبی رکھنا یا دامن  گھسیٹ کر چلنا  ناجائز وحرام ہے ۔

(3)   ہروہ لباس قابلِ مذمت ہے جس سے صرف دنیاوی زیب و زینت مقصودہو اور اسے  پہن کر انسان غرور وتکبر ، خود پسندی اور ریاکاری جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہوجائے ۔

(4)   مردوں کے لئے ریشمی لباس پہننا ناجائز وحرام ہے ۔

(5)   جو حصول مال میں ایسا مگن ہو کہ آخرت کو یکسر بھول جائے تو ایسا شخص مال کا غلام ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّہمیں دنیا اور اس کے مال کی ناجائز محبت سے محفوظ فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 469                                                                                                                                                                              اَصحابِ صُفہ کافَقر

 



[1]     بخاری ، کتاب الجھادوالسیر ، باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اللہ ، ۲ / ۲۷۷ ، حدیث : ۲۸۸۶ ۔

[2]     شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الجھاد ، باب الحراسۃفی الغزوفی سبیل اللہ ، ۵ / ۸۳ملخصًا ۔

[3]     شرح الطیبی ، کتاب النکاح ، الفصل الاول ، ۶ / ۲۴۱ ، تحت الحدیث : ۳۰۸۶ ۔

[4]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، الفصل الاول ، ۹ / ۱۱ ، تحت الحدیث : ۵۱۶۱ملخصا ۔

[5]     مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۵ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن