دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

[1] ) وَفِیْ رِوَایَۃِ الْبُخَارِيْ : اِذَا نَظَرَ اَحَدُكُمْ اِلٰی مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ اِلٰی مَنْ هُوَ اَسْفَلُ مِنْهُ. ( [2] )

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھو اپنے  سے زیادہ حیثیت والے پر نظر نہ رکھو ، بے شک  یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں کو حقیر نہ جانو ۔ “اوربخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ  ” جب تم میں سے کوئی شخص  کسی  ایسے بندے کو دیکھے جسے مال اور خوبصورتی میں اس پر فضیلت دی گئی ہو تو  چاہیے کہ اپنے سے  کم درجے والے کی طرف نظر کرے  ۔ “

تنگدست کی حالت پر غورو فکر کرو :

 حدیثِ مذکور میں شکر گزر اری و زُہد  وقناعت اختیار کرنے  اور ناشکری سے بچنے کا  بہترین نسخہ بیان کیا گیاہے کہ جب اِنسان دنیاوی لحاظ سے اپنے سے بہتر  کسی شخص  کو دیکھے توچاہیے کہ اپنے سے کم حیثیت والے   پر نظر کرلے   کہ یہ عمل ناشکری سے بچانے اورمقدر پر راضی رہنے میں اس کا معاون ثابت ہوگا ۔  اِمَام طَبرِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” یہ حدیث تمام بھلائیوں کی جامع ہے کیونکہ  کوئی تنگ دست شخص جب  اپنے سے کم حیثیت والے شخص  کو دیکھے گا اور اس کے بارے میں غور  وفکر  کرے گا تو اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتیں آشکار ہو جائیں گی اور اسے معلوم ہو جائے گا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے جونعمتیں عطا کی ہیں ان سے بہت سے لوگ محروم ہیں ۔ اس طرح ( غور و فکر ) کرنے سے   وہ نعمتوں پر شکر ادا کرے گا ( اور ناشکری سے  بچے گا )  ۔ “ ( [3] )

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ بندہ دُنیاوی اُمور میں اپنے سے کم درجے والے پر اور دینی اُمور اپنے سے اعلیٰ ، عبادت میں بہترین اور اِستقامت یافتہ شخص پرنظر رکھے ۔ حدیث پاک میں ہے : ” اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس بندے پر رحم فرماتا ہے جس نے دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو دیکھ کر اللہتعالیٰ کی حمد کی اور اُس کا شکر بجا لایا اور اُس آدمی پر بھی  رحم فرماتا ہے جس نے دِین کے معاملے میں اپنے سے بلند کو دیکھا تو اللہتعالیٰ کی حمد کی اور عبادت میں بھرپور کوشش کی ۔ “ ( [4] )

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :  ” حدیثِ مذکور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ معاشرے  کہ اکثر افراد معتدل حالت پر ہوتے ہیں ، اگر انسان اپنے ارد گرد کے ماحول میں نظر دوڑائے اور اپنے سے نیچے طبقے والوں کی طرف دیکھے تو اسے اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ بہت اچھی حالت میں ہے ۔  اگر بالفرض کوئی ایسا انسان ہے جسے تمام لوگوں میں اپنے اوپر کوئی دکھائی نہیں دیتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے سے نیچے والوں کی طرف نہ دیکھے کہ اس صورت میں یہ غرور و تکبر ، خودپسندی اور فخر کرنے کے فعل بد میں مبتلا ہو سکتا ہے لہٰذا اس پر لازم ہے کہ یہ ہمیشہ ان نعمتوں پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ادا کرے اور بالفرض اگر کوئی شخص یہ گمان کرے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقر و تنگدستی کا شکار ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ادا کرے کہ اللہتعالیٰ نے اسے کثرت مال کے ذریعے دنیا کے فتنے میں مبتلا نہیں فرمایا ۔  اسی لیے حضرت شبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب کسی دنیادار کو دیکھتے تو ( مالِ دنیا کے وبال سے بچنے کے لیے ) فرماتے : ” اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُكَ الْعَفُوَّ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْعُقْبٰى یعنی اے اللہ !  میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔ “ ( [5] )

مدنی گلدستہ

’’ابوبکر   ‘‘  کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1)        دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم حیثیت اَفراد پر نظر رکھنی چاہئے اور دینی  معاملات میں  اپنے سے بہترپر ۔

(2)   دنیا وی معاملات میں  اپنے سے بہتر شخص کو دیکھنے سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناشکری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔

(3)   دِین کے معاملے میں اپنے سے بہتر شخص کو دیکھنے سے زیادہ عبادت کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔

(4)   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس شخص پر رحم فرماتا ہے جو دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم تر کو دیکھ کر شکرِ الٰہی بجا لائے  ۔

(5)   مالدار لوگوں کے پاس کم جانا چاہیے کہ اُن کی دولت دیکھ کر بندہ اپنی نعمتوں کو کم خیال کرتا ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناشکری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

(6)   حرص کم کرنے کے لئے  ایسے لوگوں  کی صحبت  اختیار کرنی چاہئے  جو  دنیاوی مال و  دولت کے حریص نہ ہو ں بلکہ نیکیوں کے حریص ہوں ۔  

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں  مال ودولت کی  حرص سے بچائے اور  قناعت کی نعمت سے مالا مال  فرمائے  ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]     مسلم ، کتاب الزھد و الرقائق ، ص۱۵۸۴ ، حدیث : ۲۹۶۳ ۔

[2]     بخاری ، کتاب الرقاق ، باب لينظرالى من هواسفل منه ۔ ۔  ۔ الخ ، ۴ / ۲۴۴ ، حدیث : ۶۴۹۰ ۔

[3]     شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الرقاق ، باب لينظرالى من هواسفل منه ، ۱۰ / ۱۹۹ملخصا ۔

[4]     دلیل الفالحین ، باب فی فضل الزھد فی الدنیا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۳۹۴ ، تحت الحدیث : ۴۶۶ملتقطا ۔

[5]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، باب فضل الفقراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۹۵ ، تحت الحدیث : ۵۲۴۲ملخصًا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن