30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہواکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو راہ ِ خدا میں مال خرچ کرنا بہت محبوب تھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنیکی کے کاموں میں جلدی فرماتے ، دنیاوی مال اپنے پاس رکھنا پسند نہ فرماتے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
حدیث نمبر : 466 اُحد پہاڑ جتنا سوناخرچ کرنے کی ترغیب
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ كَانَ لِيْ مِثْلُ اُحُدٍ ذَهَبًا ، لَسَرَّنِيْ اَنْ لَا تَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِيْ مِنْهُ شَيْءٌ اِلَّا شَيْءٌ اُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” اگر میرے پاس اُحد پہاڑجتنا سونا ہو تو میں پسند کروں گا کہ تین راتیں گزرنے سے پہلے پہلے میرے پاس اس میں سے کچھ بھی نہ ہو سوائے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھے ہوئے سونے کے ۔ “
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ” مؤمن کو کثرت مال کی خواہش نہیں کرنی چاہیے ۔ ہاں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتدا کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے لیے مال کی خواہش کرنے میں حرج نہیں ۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اَعمال میں سُستی کرنے کے بجائے جلدی کرنی چاہیے ، دیکھو ! حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے اس بات کو پسند فرمایا کہ اُحد پہاڑ جتنا سونا تین دن کے اندر خیرات کردیں ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قرض لیا کرتے تھے کیونکہ آپ اپنے اور اپنے عیال کے لیے غذا کا اہتمام فرماتے ، حاجت مندوں کی حاجت روائی فرماتے اور محتاجوں کے لئے ایثار فرماتے ، نیز حضور عَلَیْہِ السَّلَام کم پر راضی رہتے ، تنگی پر صبر فرماتے اور یہی انبیاء و صالحین کی سیرت مبارکہ ہے ۔ “ ( [2] ) عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ” اس حدیث پاک میں بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا میں زُہد اختیار کرنے کے بہت بلند درجے پر فائز ہیں کہ آپ کو یہ پسند نہیں کہ دنیا کی کوئی چیز آپ کے پاس باقی رہے مگر یہ کہ آپ اسے مستحق افراد میں خرچ کردیں ۔ “ ( [3] )
مالدار قیامت میں مفلس ہوں گے :
فرمایا کہ مالدار قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوائے اُن کے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں ۔ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ” مالدار لوگوں کی نیکیاں قیامت کے دن کم ہوں گی یعنی مالداروں نے اگر اپنے مال کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں خرچ نہ کیا ہوگا تو یہ مال کی کثرت قیامت میں ان کے لیے نیکیوں میں کمی کا باعث ہوگی اور اگر مالدار نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں مال خرچ کیا تھا تو قیامت کے دن وہ نیکیوں میں بھی غنی ہوگا ۔ “ ( [4] )
مدنی گلدستہ
’’قناعت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممستحق افراد پر صدقہ کرنے کو پسند فرماتے اور اس بات کو ناپسند فرماتے کہ دنیا کی کوئی زائد چیز آپ کے پاس رہے ۔
(2) حضور عَلَیْہِ السَّلَام قرض لے کر محتاجوں اور تنگدستوں کی امداد فرمایا کرتے تھے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ نہ کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن مالدار لوگوں کی نیکیاں کم ہوں گی ، جو مالدار اپنا مال اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرے گا وہ قیامت کے دن غنی ہوگا ۔
(4) صدقہ وخیرات کرنے میں جلدی کرنی چاہئے ۔
(5) جس کے پاس مال موجود نہ ہو اور وہ نیت کرے کہ اگرمیں پاس مال ہوتا تو میں اسے راہِ خدا میں خرچ کرتا تو اسے اس اچھی نیت پر ثواب ملے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 467 ناشُکر ی سے بچنے کا ایک نسخہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اُنْظُرُوْا اِلٰی مَنْ هُوَ اَسْفَلُ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوْا اِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ ، فَهُوَ اَجْدَرُ اَنْ لَا تَزْدَرُوْا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ. (
[1] بخاری ، کتاب الرقاق ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم مااحب ان لی مثل احدذھبا ، ۴ / ۲۳۲ ، حدیث : ۶۴۴۵ ۔
[2] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الرقاق ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم مااحب ان لی احداذھبا ، ۱۰ / ۱۶۴ ۔
[3] فتح الباری ، کتاب الرقاق ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم مایسرنی ان ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۲ / ۲۲۹ ، تحت الحدیث : ۶۴۴۵ ۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب الرقاق ، باب المکثرون ھم المقلون ، ۱۵ / ۵۲۲ ، تحت الباب ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع