30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ربّ ! مجھ پر کبھی تنگ دستی نہیں آئی اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی ہے ۔ “
جہنم کا ایک غوطہ دنیا کاعیش بُھلا دے گا :
حدیثِ مذکور میں بیان ہوا کہ قیامت کے دن جہنمیوں میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جس پر دنیا میں مال و دولت کی بڑی وسعت تھی اور اسے جہنم میں غوطہ دیا جائے گا ۔ ٭عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے یہاں ایسے مالدار کا ذکر فرمایا ہے جو جہنمی ہو جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل ایمان اور نیک اعمال کرنے والے مالدار کے ساتھ ایسا نہیں کیا جائے گا ۔ نیز گناہ گار کو جہنم میں غوطہ دینے کا معاملہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہونے کے بعد ہوگا یعنی جب لوگوں کے جنت اور جہنم میں جانے سے متعلق فیصلہ ہوچکا ہوگا اس وقت یہ معاملہ ہوگا ۔ جب اس شخص کو دوزخ میں غوطہ دے کر نکالا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تونے دنیا میں کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی؟ اور کیا تونے دنیا میں کوئی نعمت پائی تھی؟ تو وہ کہے گا : اللہ کی قسم ! نہیں ، اس شخص کا یہ کلام جھوٹ پر مشتمل نہیں ہوگا بلکہ وہ عذاب کی شدت کی وجہ سے دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کو بھول جائے گا اور ان کا انکار کردے گا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اگر دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کے مزے کو ایک طرف رکھا جائے اور جہنم میں غوطہ دینے کی تکلیف کو ایک طرف رکھا جائے تو دنیا میں ملنے والی نعمتوں کا مزہ اس ایک غوطے کی تکلیف کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اسی وجہ سے وہ دنیاوی نعمتوں کو ایسے گمان کرے گا گویا وہ تھیں ہی نہیں ۔ “ ( [1] ) ٭مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” پتہ لگا کہ دنیا کے عمر بھر کے عیش و آرام وہاں کے منٹ بھر کے ایک غوطہ پر بھول جائیں گے وہ تو بڑی سخت جگہ ہے دنیا میں کوئی خاص مصیبت پڑے تو سارے عیش فراموش ہوجاتے ہیں ۔ “ ( [2] )
پھرایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس پر دنیا میں بہت تنگی تھی اور اُسے جنت میں غوطہ دیا جائے گا ۔ ٭عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ” یہ غوطہ یا تو جنت کی نہروں میں دیا جائے گا یا حوضِ کوثر میں دیا جائے گا ۔ “[3] ) ٭مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” معلوم ہوا کہ وہاں کے عیش کی ایک جھلک وہاں کی ہوا کا ایک جھونکا عمر بھر کے دنیاوی غموں تکلیفوں کو بھلا دے گا ، انسان کو چاہیے کہ اس طرف دل لگائے ۔ خیال رہے کہ یہ عرض معروض جھوٹ نہ ہوگی بلکہ واقعی وہ شخص ان مصیبتوں کو بھول ہی جاوے گا اس بنا پر یہ کہے گا ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے دنیا میں جو مصیبتیں دیکھیں وہ درحقیقت مصیبتیں ہی نہ تھیں کیونکہ ان کا انجام یہ نعمتیں تھیں یا یہ مطلب ہے کہ وہ ان مصیبتوں کو بھول ہی گیا ان نعمتوں کی خوشی میں ۔ “ ( [4] )
مدنی گلدستہ
’’اجمیر ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کی لذت جہنم کے ایک غوطے کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی جہنم میں ایک غوطہ دنیا کی تمام نعمتوں کے مزے کو مٹادے گا
(2) دنیا کی تکالیف جنت میں ایک غوطے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ، جنت کے عیش کی ایک جھلک ، وہاں کی ہواکاایک جھونکا عمر بھر کے دنیاوی غموں تکلیفوں کو بھلا دے گا ۔
(3) مصیبت زدہ جنتی مسلمان جنت کی نہر یا آب کو ثر میں غوطہ دیا جائے گا ۔
(4) عقلمند وہ ہے جو عارضی خوشیوں اور آسائشوں کی خاطردائمی عیش و آرام کو داؤ پر نہ لگائے بلکہ جو چیز اُخروی دائمی نعمتوں کے حصول میں آڑے آئے اسے ترک کر دے ۔
(5) مصائب میں گھرے ہوئے مسلمان کو یہ ذہن بنانا چاہئے کہ یہ دنیاوی مصائب بہت جلد ختم ہوجائیں گے پھر رحمتِ باری تعالیٰ شامل حال رہی تو جنت کی دائمی نعمتیں مقدر ہونگیں جن کی ایک جھلک دنیا کے تمام غم بھلا دے گی ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں دنیا میں عافیت عطا فرمائے اور آخرت میں جنت کی دائمی نعمتیں عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 463 آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ. ( [5] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ “
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی بہت تنگ ہے اور دنیا فنا ہونے والی ہے جبکہ آخرت خود بھی
[1] دلیل الفالحین ، باب فی فضل الزھد فی الدنیا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۳۸۵ ، تحت الحدیث : ۴۶۱ملخصًا ۔
[2] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۵۳۴ ۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفتن ، باب صفۃالنارواھلھا ، ۹ / ۶۴۰ ، تحت الحدیث : ۵۶۶۹ ۔
[4] مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۵۳۵ ۔
[5] مسلم ، کتاب الجنۃوصفۃنعیمھاواھلھا ، باب فناءالدنیاوبیان الحشریوم القیامۃ ، ص۱۵۲۹ ، حدیث : ۲۸۵۸ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع