دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

ہے وہ اس کا عمل ہے جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتا اور قبر میں بھی اس کے ساتھ باقی رہتا ہے اور اسی عمل کے مطابق میت کو سزا و جزا دی جاتی ہے ۔  اگر اس کا عمل اچھا ہوتا ہے تو اسے ثواب ملتا ہے یعنی اسے قبر میں راحت و سکون حاصل ہوتا ہے اور اگر اس کا عمل بُرا ہوتا ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے ۔  اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قبر عمل کا صندوق ہے ۔  حدیث پاک میں ہے کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ۔ “ ( [1] )

قبرسے اَعمال بندے کے ساتھ نکلیں گے :

عَلَّامَہ اَبُوْ الفَرَجْ عَلِیْ بِنْ مُحَمَّدْ اِبْنِ جَوْزِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” جب انسان اپنی قبروں سے نکلیں گے تو اُن کے ساتھ قبروں سے وہ اَعمال بھی باہر آئیں گے جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے کیونکہ ہر اِنسان کا عمل ہی قبر میں اُس کا ساتھی ہوتا ہے ۔  پھر اگر وہ بندہ اپنے ربّ کا فرماں بردار ، نیک اَعمال کرنے والا تھا اور نیک اَعمال دنیا میں اُسے اُنس پہنچاتے تھے تو حشر کے دن قبر سے نکلتے وقت بھی اُس آدمی کو اُنس پہنچائیں گے اور قیامت کی ہولناکیوں ، مصیبتوں اور سختی سے ہونے والی وحشت دور کریں گے ۔  جب بھی وہ بندۂ مؤمن جہنم کی طرف دیکھے گا اور اس کی سختیوں اور ہولناکیوں سے خوفزدہ ہوگا تو اُس کا عمل اُس سے کہے گا کہ اے میرے دوست !  یہ مصیبتیں نہ تیرے لیے ہیں اور نہ ان لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت کی بلکہ یہ سختیاں تو اُن کے لیے ہیں جنہوں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کی ، پھر اُس کی نشانیوں کو جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور تو تو اپنے رب  کا اِطاعت گزار بندہ تھا ، خواہشات نفس کو ترک کرکے اپنے نبی کی اِتباع کرنے والا تھا ۔  آج کے دن تجھ پر کوئی خوف ہے نہ کوئی غم یہاں تک کہ تو جنت میں داخل ہو جا ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ” بیان کیا گیا ہے کہ جب گناہ گار شخص اپنی قبر سے نکلے گا تو اپنے بُرے اَعمال کو ایک گٹھڑی کی صورت میں پائے گا اور عذاب کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بھی اُس کے پاس کھڑا ہوگا ۔  جب بندہ اپنے گناہوں کی طرف دیکھے گا تو فرشتہ اُس سے کہے گا : ” اے اللہ کے دُشمن اپنے اَعمال اٹھا اور انہیں اپنی پیٹھ پر رکھ جیساکہ تو اُن سے دنیا میں لذت حاصل کیا کرتا تھا اور اپنے ربّ کے اَحکامات پر عمل نہیں کرتا تھا حالانکہ تو یہ جانتا تھا کہ وہ تیرے عمل پر مطلع ہے اور تجھے دیکھ رہا ہے ۔ “ جب وہ ذلیل شخص اُس گٹھڑی کو اُٹھا کر اپنی پیٹھ پر رکھے گا تو اُس کا بوجھ دنیا کے پہاڑوں سے زیادہ محسوس کرے گا اور آگ اُسے اس کے ٹھکانے کی طرف ہانک رہی ہوگی اور فرشتہ اُس پر سختی کرے گا اور اسے ہانکتا ہوا جہنم کی طرف لے جائے گا ۔ “ ( [2] )

نوٹ :  اس حدیث کی تفصیلی شرح کیلئے  ” فیضان ریاض الصالحین“ جلد 2 کی حدیث نمبر104 کا مطالعہ کیجئے ۔

مدنی گلدستہ

 ” اسلام“کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

 اس کی وضاحت  سے ملنے والے 5مدنی پھول

(1)   اَعمال ہمیشہ بندے کے ساتھ رہیں گے اور سب چیزیں ساتھ چھوڑ جائیں گی ۔

(2)   نیک عمل قبر میں نیک مرد کی صورت میں اور بُرا عمل بُری شکل میں آتا ہے ۔

(3)   نیک اَعمال بندے سے قبر و حشر کی وَحشت دور کریں گے ۔

(4)   نیک اعمال کے سبب بندے کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا برے اعمال کے سبب جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ۔

(5)   قیامت کے دن گناہ گار کی پیٹھ پر اُس کے گناہوں کا بوجھ لاد کر اُسے جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مال و دولت کی ناجائز محبت سے ہماری حفاظت فرمائے ۔    

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 462                                                      دوزخیوں کو جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ :  قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  یُؤْتَى بِاَنْعَمِ اَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ اَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ، ثُمَّ يُقَالُ :  يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَاَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيْمٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ :  لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِاَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا ، مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ :  يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَاَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ :  لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ مَامَرَّ بِیْ  بُؤْسٌ قَطُّ ، وَلَا رَاَيْتُ شِدَّةً قَطُّ. ( [3] )  

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا کہ جو دنیا میں ناز و نعمت والوں میں سے تھا اور اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا : ” اے ابن آدم !  کیا کبھی تونے کوئی بھلائی دیکھی تھی؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت حاصل ہوئی تھی؟  ‘‘   وہ کہے گا : ” اللہ کی قسم !  نہیں ، اے میرے رب ۔ “ اور ( قیامت کے دن ) اہل جنت میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سخت تنگ دست تھا ، اُسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا : ” اے ابن آدم !  کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی؟ کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی؟ وہ کہے گا :  ” اللہ کی قسم !  نہیں ، اے میرے



[1]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، الفصل الاول ، ۹ / ۲۱ ، ۲۲ ، تحت الحدیث : ۵۱۶۷ملخصًا ۔

[2]     بستان الواعظین ، مجلس فی ذکر القیامۃ واھوالھااجارنا اللہ منھا ، ص۵۵ ، ۵۶ملخصا ۔

[3]     مسلم ، کتاب صفۃالقیامۃوالجنۃوالنار ، باب صبغ انعم اھل الدنیافی النار ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۵۰۸ ، حدیث : ۲۸۰۷ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن