دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

ملک الموت کے ساتھ حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے استقبال کے لیے اور بارگاہِ الٰہی  میں ساتھ لے جانے کے لیے خدمت میں حاضر ہوئے ۔  ( [1] )

شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’فی الواقع حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رحلت قریب تھی یہ واقعہ حجۃ الوداع سے واپسی پر ذوالحجہ کے آخری دنوں کا ہے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی رحلت ربیع الاوّل میں ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

ثقلین کے دو معنی :

آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا :  میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں ۔  حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے ان دو چیزوں کے لیے ثَقَلَیْنِ کے الفاظ ارشاد فرمائے ۔  یہ لفظ دو طرح آتا ہے ( 1 ) ثِقْلٌبمعنیٰ بوجھ ، جن و اِنس کو بھی ثقلین کہتے ہیں کہ زمین میں ان کا بڑا وزن ہے کیونکہ قرآنِ مجید کے احکامات پر عمل کرنا اور اہل بیت کی اطاعت کرنا نفس پر بھاری ہے لہٰذا انہیں ثقلین فرمایا ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشار فرماتا ہے :  )اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا(۵)( ( پ۲۹ ، المزمل : ۵ ) ترجمۂ  کنزالایمان  :  ” بے شک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے ۔ “ ( یعنی قرآنِ مجید ) ( 2 ) ثَقَلٌبمعنی عظیم و نفیس چیز ، چونکہ اِیمان کی زِینت دِین کی رونق قرآنِ مجید اور اہل بیت اَطہار سے ہے اس لیے انہیں ثقلین فرمایا یعنی دو بھاری بھرکم چیزیں یا نفیس ترین چیزیں جو متاعِ اِیمان میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں ۔  ( [3] )

قرآن ہدایت اور نورہے :

تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’اِن دو نفیس چیزوں میں سے پہلی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے پس تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی کتاب پر عمل پیرا ہو اور اسے مضبوطی سے تھام لو ۔ ‘‘ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’یہ کتاب دنیا اور آخرت کی سعادت تک پہنچاتی ہے ، اس میں روشنی یعنی اعمال کا بیان ہے کہ جس روشنی سے راستہ روشن ہوتا ہے اور منزل ِمقصود تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے ، نیز نور قرآن پاک کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

حدیث پر عمل قرآن پر عملکرناہے :

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’یہ کتاب گمراہی سے ہدایت کی جانب پھیر تی ہے ، دلوں کو مُنور کرتی ہے اور قیامت میں پل صِراط کا نور ہے ۔  لہٰذا اسے مُسْتَدَلّ بناؤ ، اسے حِفظ کرو اور اس کے علوم حاصل کرو اور اپنے اعقائد و اعمال کی اصلاح کے لیے اسے مضبوطی سے تھام لو ۔  یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ احادیث رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر عمل کرنا بھی منجملہ کتابُ اللہ پر عمل کرنا ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ) وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-( ( پ۲۸ ، الحشر : ۷ ) ’’ترجمۂ  کنزالایمان  :  اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔   ‘‘  اوررسولُ اللہ کی اطاعت در حقیقت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت ہے ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے :   )مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-( ( پ۵ ، النساء : ۸۰ ) ’’ترجمۂ  کنزالایمان  : جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا ۔   ‘‘  اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے محبت کرنے والا ہے اس پر تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرنا لازم ہے ، قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے : )قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( ( پ۳ ، آل عمران :  ۳۱ ) ’’ترجمۂ  کنزالایمان  : اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہتمہیں دوست رکھے گا ۔   ‘‘  سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کتابُ اللہ کے الفاظ و معانی کی رعایت کرنے اور اُس کے اَحکامات پر عمل کرنے پر اُبھارا اور وہ چیزیں بیان فرمائی جن سے لوگوں میں کتابُ اللہ پر عمل کرنے کی رغبت پیدا ہو ، ممکن ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رغبت دلانے والی باتوں کے ساتھ  ان عذابوں سے بھی لوگوں کو خوف دلایا ہو جو اَحکامِ الٰہی ترک کرنے والوں کو دئیے جائیں گے ۔ ‘‘ ( [5] )

اللہکی رسّی مضبوطی سے تھام لو :

ایک روایت میں ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا :  ’’سنو !  میں تم میں دوعظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ۔  ان میں سے ایک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی کتاب ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رسّی ہے جو اُس پر عمل پیرا ہوگا وہ ہدایت پر رہے گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوا ۔ ‘‘ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : یہ فرمانِ عالی اِس آیت کی طرف اشارہ ہے : (وَ  اعْتَصِمُوْا  بِحَبْلِ  اللّٰهِ  جَمِیْعًا  وَّ  لَا  تَفَرَّقُوْا۪  ) ( پ۴ ، آل عمران : ۱۰۳ ) ’’ترجمۂ  کنزالایمان  :  اور اللہ کی رسّی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا ( فرقوں میں بٹ نہ جانا )  ۔   ‘‘  جیسے کنویں میں گیا ہوا ڈول رسّی سے وابستہ رہے تو پانی لے آتا ہے وہاں کی کیچڑ میں نہیں پھنستا لیکن اگر رسّی سے کھل جاوے تو وہاں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے ، دنیا کنواں ہے جہاں نیک اَعمال و اِیمان کا پانی بھی ہے اور کفر و گناہوں کی دلدل بھی ، ہم لوگ گویا ڈول ہیں اگر قرآن اور صاحب قرآن سے وابستہ رہے تو یہاں کے کفرو عصیان میں نہیں پھنسیں گے ۔  نیک اعمال کا پانی لے کر بخیریت اپنے گھر پہنچیں گے ۔  خیال رہے کہ قرآن رسّی ہے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اوپر کھینچنے والے مالک ہیں اور اگر حضور



[1]     مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۴۵۷ ۔

[2]     اشعۃ اللمعات ، کتاب المناقب ، باب مناقب اھل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ۴ / ۶۹۵ ۔

[3]     مرآ ۃ المناجیح ، ۸ / ۴۵۶ماخوذاً ۔

[4]     اشعۃ اللمعات ، کتاب المناقب ، باب مناقب اھل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ۴ / ۶۹۶ ۔

[5]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب المناقب والفضائل ، باب مناقب اھل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن