30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث نمبر : 459 دنیا اور عورتوں کا فتنہ
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِنِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَ اِنَّ اللهَ تَعَالَى مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيْهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں ( پچھلی قوموں کا ) خلیفہ بنانے والا ہے اور وہ دیکھتاہے تم کیسے اعمال کرتے ہو ، لہٰذا دنیا سے بچواور عورتوں سے بچو ۔ “
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” دنیا میٹھی اور سرسبز ہے ہرشخص اسے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک آزمائش ہوتی ہے کہ آیا دولت و اقتدار حاصل ہونے کے بعد انسان احکام خداوندی سے روگردانی کرتا ہے یا ان کی تعمیل ، لہٰذا اس آزمائش میں ناکامی کے خوف سے کوشش کی جائے کہ دنیا اور عورتوں کے فتنوں سے دور رہیں ۔ “ ( [2] ) اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں ( پچھلی قوموں کا ) خلیفہ بنایا ہے ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جیسے دنیا تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھی پھر ان سے منتقل ہو کر تمہارے پاس آئی تم گزشتہ لوگوں کے خلیفہ بنے ایسے ہی تم سے منتقل ہو کر دوسروں کے پاس پہنچے گی تم پچھلوں کے خلیفہ ہو آئندہ نسلیں تمہاری خلیفہ بنیں گی ۔ “ ( [3] )
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ” ( عورتوں سے بچو ) یعنی ان کے سبب ناجائز امور میں نہ پڑو اور ان کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے دین کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچو ۔ “ ( [4] ) اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” اس بات سے بچو کے تم عورتوں کے پاس حرام ذریعے سے آؤ یا ان کی ( سب ) باتیں قبول کرو ، کیونکہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں اوراکثر اوقات ان کے کلام میں بھلائی نہیں ہوتی ۔ بنی اسرائیل میں پہلے فتنے کا سبب عورتیں ہی بنیں ۔ “ ( [5] )
نوٹ : مذکورہ حدیث پاک کی مفصل شرح کا مطالعہ کرنے کے لیے ” فیضان ریاض الصالحین“ کی پہلی جلد کی حدیث نمبر70 ملاحظہ فرمائیں ۔
مدنی گلدستہ
’’شيرخدا ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) دنیا دیکھنے میں سرسبز اور میٹھی ہے اور اس کا مال و متاع بڑا خوش نمُا ہے لیکن یہ سب ایک آزمائش ہے اس آزمائش میں کامیابی کے لیے دنیا اور عورتوں کے فتنے سے بچنا ضروری ہے ۔
(2) دنیا سبزے کی مانند ہے ، اگر جانور ضرورت سے زیادہ سبزہ چر لے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے اسی طرح انسان اگر حد سے زیادہ دنیا میں مشغول ہو جائے تو وہ بھی ہلاک ہو جائے گا ۔
(3) نفس و شیطان انسان کی نظر میں دنیا کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں تاکہ بندہ آخرت سے غافل ہو جائے ، اسی لیے نفس وشیطان کی شرارتوں سے بچنا ضروری ہے ۔
(4) جو شخص بے جاشہوات نفسانی کی تکمیل سے لذت حاصل کرتا ہے وہ موت کے وقت ان خواہشات سے نفرت کرے گا اور ان کی وجہ سے شدید تکلیف میں مبتلا ہو گا ۔
(5) دنیا کسی پاس نہیں رہتی ، پہلے یہ ہمارے آباء و اجداد کے پاس تھی ، اب ہمارے پاس ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کی طرف منتقل ہو جائے گی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کہ وہ دنیا اور اس کے فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے ، نفس وشیطان کی شرارتوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 460 اصل زندگی آخرت کی ہے
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ اِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ. ( [6] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” اے اللہ ( عَزَّ وَجَلَّ ) ! زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے ۔ “
مذکورہ حدیث پاک کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ( جنگ اَحزاب میں جب ) مہاجرین و اَنصار خندق کھودنے لگے اورمٹی ہٹانے لگے تو وہ
[1] مسلم ، کتاب الرقاق ، باب اکثر اھل الجنۃ الفقراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۴۶۵ ، حدیث : ۲۷۴۲ ۔
[2] مرآ ۃ المناجیح ، ۶ / ۵۱۱ ، مکتبہ اسلامیہ ۔
[3] مرآ ۃ المناجیح ، ۵ / ۵ ۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب النکاح ، الفصل الاول ، ۶ / ۲۶۷ ، تحت الحدیث : ۳۰۸۶ ۔
[5] شرح الطیبی ، کتاب النکاح ، الفصل الاول ، ۶ / ۲۴۱ ، تحت الحدیث : ۳۰۸۶ ۔
[6] بخاری ، کتاب الرقاق ، باب ماجاء فی الرقاق ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۲۲۲ ، حدیث : ۶۴۱۳ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع