30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عَمرو بن عوف انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا ابو عُبَیدہ بن جَرّاح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بحرین سے جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، جب وہ بحرین سے ( جزیہ کا ) مال لے کر واپس آئے اورانصار نے ان کی آمدکی خبرسنی تو سب نے فجر کی نماز حضورنبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ اداکی ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز سے فارغ ہوئے اور رُخِ انور پھیرا توانصار سامنے آگئے ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا : ” میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابو عُبَیْدَہ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) بحرین سے کچھ مال لے کر آیا ہے ؟“ انہوں نے عرض کی : ” جی ہاں ! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! “آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ اور اُس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کردے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! مجھے تم پر فَقر ( غربت ) کا خوف نہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم پردنیا پھیلا دی جائے گی جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر پھیلائی گئی تھی ، پھر تم بھی اس دنیا کی خاطر پہلے لوگوں کی طرح باہم مقابلہ کرو ، اور وہ تمہیں اسی طرح ہلاک کرے جیسے تم سے پہلوں کو ہلاک کیا تھا ۔ “
صحابہ کرام حضور عَلَیْہِ السَّلَامکے نام سے لذت پاتے :
حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ جب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کودیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا : ” میرا خیال ہے کہ تم ابو عبیدہ کی آمد کی خبر سن کر آئے ہو؟“ صحابہ نے عرض کی : ” جی ہاں ! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ۔ “ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس مقام پر بہت نفیس شرح بیان کی ہے ، فرماتے ہیں : ” صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا جواب میں صرف ” جی ہاں“ کہہ دینابھی کافی تھا مگر انہوں نے لذت وسرور حاصل کرنے کے لیے جواب میں یارسولَ اللہ بھی عرض کیا ۔ “ ( [1] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں تنگدستی کی وجہ سے مال لینے کے لیے حاضر ہوئے تو حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے ان کی حاجت پوری کرتے ہوئے انہیں مال عطا فرمااورساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ مجھے تم پر غربت کا خوف نہیں مگر اس بات کا خوف ہے کہ تم پر دنیا پھیلا دی جائے گی جیساکہ تم سے پہلے لوگوں پر پھیلا دی گئی تھی ۔ عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ” ممکن ہے کہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام کو بتا دیا گیا ہو کہ عنقریب مسلمانوں پر دنیا کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور وہ مالی طورپر غنی ہو جائیں گے اسی لیے آپ نے اس اندیشے کا اظہار فرمایا ۔ اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا کسی چیز کے واقع ہونے سے پہلے اس کی خبر دینا یہ ایسی صفت ہے جو علامات نبوت میں شمار ہوتی ہے ۔ نیز حضور عَلَیْہِ السَّلَامکا یہ ارشاد انتہائی شفقت پر مبنی ہے ، کیونکہ شفیق باپ دنیا سے جاتے وقت اپنی اولاد کے لیے مال کا اہتمام کرتا ہے تاکہ اولاد کو تنگی نہ ہو اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے صحابہ پر شفقت کے معاملے میں باپ کی طرح ہیں لیکن آپ کا معاملہ دنیاوی باپ کے برعکس ہے کہ دنیاوی باپ تو اپنی اولاد کے دنیاوی طورپر غریب ہونے کے حوالے سے فکر مند ہوتا ہے جبکہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی امت پر دینی نقصان کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ کہیں میری اُمت وُسعتِ مال کی وجہ سے فتنے میں نہ پڑ جائے ۔ “ ( [2] )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” حضور انور کا یہ فرمان حضرات صحابہ کو ڈرانے اور احتیاط برتنے کے لیے ہے ۔ اللہتعالیٰ نے حضور کے صحابہ کو دنیاوی ناجائز رغبت اور ہلاکت یعنی کُفرو طُغیان سے محفوظ رکھا ، وہ حضرات بادشاہ و امیر ہوکر بھی دنیا میں پھنسے نہیں ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک ہی کرتہ تھا جسے دھو دھو کر پہنتے تھے ، حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کفن کے لیے گھر میں کپڑا نہ تھا ، پہنے ہوئے کپڑے دھو کر انہیں میں آپ کو کفن کردیا گیا ، حضرت علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے زمانۂ خلافت میں فرمایا کہ میں اپنی تلوار فروخت کرنا چاہتا ہوں کہ آج گھر کا خرچ چلا سکوں ۔ وہ حضرات امیری میں فقیری کرگئے ۔ “ ( [3] )
مال کی کثرت اورمسلمانوں کی موجودہ حالت :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیثِ مذکور میں مال کے فتنے کو بیان کیا گیا ہے ، واقعی مال کا فنتہ بہت بڑا فتنہ ہے ، مسلمانوں کے پاس جس قدر مال کی کثرت ہوئی اتنے ہی فتنے بھی بڑھ گئے ہیں ۔ آج اُمتِ مسلمہ قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے ، مگرہمارا سرمایہ ، مال و ولت ، طاقت و قوت اور صلاحیت دنیا کے حصول میں صرف ہورہا ہے ۔ عیش کوشیوں ، حرص ، طمع ، لالچ ، مال و دولت کی محبت ، عہدوں اور خواہشات نفس کی اتباع میں ایسا انہماک ہے کہ گویاآخرت کی یاد سے بالکل غافل ہو چکے ہیں ۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ جب مسلمان فاقے سے ہوا کرتے تھے اور کئی کئی دنوں تک پیٹ بھر کھانا میسر نہ آتا تھا ایسی حالت میں بھی کفار ان کے مقابل آنے کی جرأت نہ کرتے تھے ۔ جبکہ آج ہمیں ہر طرح کی نعمت میسر ہے پھر بھی ہر دوڑ میں پیچھے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے راہ ِ سنت کو چھوڑدیا ، اغیار کے فیشن میں ایسے مست ہوئے کہ سلف صالحین کی سیرت کو بھول گئے ، ہمارا سرمایہ و صلاحیت صرف حصولِ دنیا میں خرچ ہونے لگا ، کاش ! اے کاش ! ہم پھر سے اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں ، نفس وشیطان کی راہ کو چھوڑ کر راہ سنت پر گامزن ہوجائیں ، ہمارا قیمتی سرمایہ مساجدو مدارس کی تعمیر ، غرباء و فقراء کی اِمداد اور دِینی مقاصد کے حصول میں صرف ہونے لگے تو کچھ بعید نہیں کہ ہمارا کھویا ہوا وقارہمیں واپس مل جائے اور پھر سے ہر طرف سنت کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’صحابہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع