دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی شے محبوب نہیں ۔  ایک آنسوکا وہ قطرہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف سے نکلے ۔  خیال رہے کہ گنہگاروں کو رب تعالیٰ کے عذاب سے خوف ہوتا ہے ، نیکوکاروں کو اس کی ذات سے ہیبت و جلال سے خوف ہوتا ہے ، یہ خوف محبت و اطاعت پیدا کرتا ہے ، یہ خوف کی بڑی نعمت ہے اور خوفِ ایذا جو نفرت پیدا کرتا ہے وہ خدا سے خوف کرنا کفر ہے جیسے سانپ یا ظالم حاکم سے خوف ۔ دیکھو شیطان نے بھی کہا تھا : (  اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(۲۸)) ( پ۶ ، المائدۃ :  ۲۸ ) ( ترجمۂ  کنزالایمان  :  میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک  سارے جہان کا ۔  ) مگر یہ خوف مفید نہیں مضر ( یعنی نقصان دینے والا ) ہے ، یہاں پہلی قسم کے دوخوف مرادہیں ۔  دوسرا خون کا وہ قطر ہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلے ۔ چونکہ آنسوؤں کے قطرے مسلسل آنکھوں سے ٹپکتے رہتے اور خون ایک دم نکل کر بہہ جاتا ہے اس لیے آنسو کے لیے دُمُوُع جمع ارشاد ہوا اور خون کے لیے دَمٍ واحد فرمایا گیا ۔ قطرے سے مراد جنس قطرہ ہے نہ کہ شخصی قطرہ ۔  لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت سے آنسوؤں کا قطرہ ایک کیونکر ہوگا؟اور شہید کے جسم سے خون کا دہارا بہتا ہے ایک قطرہ نہیں نکلتا ۔  ایک نشان وہ ہے جو اللہ کے راستے میں پڑ ے ۔  ﷲ کی راہ سے ہر وہ راستہ مراد ہے جو رضاء الٰہی کے لیے طے کیا جائے جیسے نماز کے لیے مسجد کو جانا ، طلب علم کے لیے مدرسہ جانا ، جہاد کے لیے میدانِ جہاد میں جانا اور وہاں چلنا پھرنا ۔ نشانِ قدم سے عام نشان مراد ہے خواہ محسوس ہو یا نہ ہو ۔  لہٰذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ پختہ سڑک پر چلنے میں نشانِ قدم پڑتے ہی نہیں پھر پیاری کیا چیز ہوگی؟ دوسرا نشان وہ جو اللہ کے فرائض میں سے  فریضہ سر انجام دیتے ہوئے پڑے ۔ یعنی کسی شرعی فریضہ کو ادا کرنے کے لیے چلا اس کے نشان قدم رب کو پیارے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اثر سے مراد مطلقًا نشان ہو ، قدم کی قید نہ ہو تو حدیث بہت جامع بھی ہوگی اور واضح بھی ۔  لہٰذا سردیوں میں وضو سے ہاتھ پاؤں پھٹ جائیں ، گرمیوں میں پیشانی پر گرم زمین پر سجدے ( کے نشانات ) پڑ جاویں ، روزے میں منہ کی بو ، حج و جہاد میں غبارِراہ جو کپڑوں اور منہ پر پڑ جائے ، یہ ربّ کو بڑے پیارے ہیں ۔ ‘‘ ( [1] )

خوفِ خدا سے نکلنے والے آنسو کی برکت :  

حضرت احمد بن ابی حواریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہ بڑے پائے کے اولیاءِ کاملین میں سے ہیں ، ان کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں اپنی ایک لونڈی کو دیکھا جس کا چہرہ چمک رہا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے چہرے پر اتنی چمک کیسے پیدا ہوگئی؟ تو اس نے کہا کہ آپ کو یاد نہیں ایک رات آپ خوف خدا عَزَّوَجَلَّ سے زار زار رو رہے تھے ، اور آپ کے آنسو بہہ رہے تھے تو کمالِ محبت سے میں نے آپ کے آنسو ؤں کو اپنے چہرے پر مل لیا تھا ۔  یہ چمک ان ہی آنسوؤں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’جس مؤمِن کی آنکھوں سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف سے آنسو نکلتے ہیں اگرچِہ مکّھی کے سرکے برابر ہوں ، پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] )

جو روئے گا جنت میں داخل ہوگا :

حضرتِ سیِّدُناجَریر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبیوں کے سرور ، مدینے کے تاجور ، محبوب ِربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہم سے فرمایا : ’’میں تمہارے سامنے سورۃ التکاثر پڑھتا ہوں ، تم میں سے جو روئے گا وہ جنّت میں داخِل ہو گا ۔   ‘‘  چُنانچِہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے پڑھا ۔ ہم میں سے کچھ تو روئے اور کچھ نہ روئے ۔ جو نہیں رو سکے تھے اُنہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہم نے رونے کی کوشِش کی مگر نہ روسکے ۔ سرکارِ نامدار مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’میں تمہارے سامنے اسے دوبارہ پڑھتا ہوں جو روئے گا ، اُس کے لئے جنّت ہو گی اور جو نہ رو سکے وہ رونے کی سی شکل ہی بنالے ۔ ‘‘ ( [4] )

قابل رشک مدنی منّا :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  اِس روایت میں ہمارے میٹھے آقا ، مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نہایت اُچھوتے انداز میں نیکی کی دعوت دینے کا رقّت انگیز بیان ہے ۔ اِس روایت سے معلوم ہوا کہ میرے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے جسے چاہیں جو چاہیں عنایت فرمادیں ، جبھی تو فرمایا : ’’جو روئے گا وہ جنَّت میں داخِل ہو گا ۔ ‘‘ اِس روایت میں قرآنِ کریم کے آخِری پارے کی 8آیتوں پر مشتمل سورۃ التکاثر کا تذکِرہ ہے ، جس کے پڑھنے والے کو ایک ہزار آیتیں پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ، اِس میں قبر و آخِرت اور جہنم کا انتہائی لرزہ خیز بیان ہے ، کاش  !  ہم کنزالایمان سے اِس کا ترجمہ ذِہن نشین کر لیں اور جب بھی یہ سورت پڑھیں یا سنیں خوفِ خدا سے رونا نصیب ہوجائے ۔ آیئے  !  اِس سورت کے حوالے سے ایک ایسے مَدَنی مُنّے کی پُر سوز حِکایت پڑھتے ہیں ، جس نے عملی طور پر خوفِ خدا بھری نیکی کی دعوت د ے کر ہر ایک کو حیرت میں ڈال دیا ۔  چُنانچِہ ایک بُزُرگ نے کسی مدرَسے کے باہَر ایک مَدَنی مُنّا دیکھا جو کھڑا رو رہا تھا ۔  اِستِفسار ( یعنی پوچھنے ) پر اُس نے بتایا ، ہمارے استاذ صاحِب نے آج کے سبق میں تختی پر بعض آیاتِ کریمہ لکھوائی ہیں ، جو مجھے رُلا رہی ہیں ، یہ کہتے ہوئے اُس نے تختی آگے بڑھا دی ۔ اُس میں لکھا تھا :

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 



[1]     مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۴۴۳ ۔

[2]     احیاء العلوم ، کتاب ذکر الموت ومابعدہ ، بیان منامات المشایخ ، ۵ / ۲۶۵ ۔

[3]     ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب الحزن والبکاء ، حدیث :  ۴۱۹۷ ، ۴ /   ۴۶۷  ۔

[4]     نوادرالاصول ، الاصل الثالث والخمسون والمائۃ ، ۱ / ۶۱۱ ، حدیث : ۸۶۲ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن