30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نعمتوں سے محروم ہو جائے گا اور اس نے جو نیک اعمال کیے ہیں ان کا صلہ صرف یہی دنیا کی نعمتیں ہو جائیں گی ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنت کی ضمانت دی اور وہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں تو پھر ان کو آخرت کا اس قدر خوف کیوں تھا ؟اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ قیامت کے دن کے طویل حساب سے ڈرتے تھے اور بلند درجات کی تمنا کرتے تھے ، اگرچہ ان کو جنت کی بشارت مل چکی تھی لیکن ان کو یہ ڈ ر تھا کہ کہیں وہ بلند درجات سے محروم نہ ہو جائیں اور ان سے زیادہ دیر تک حساب نہ لیا جائے ۔ ‘‘ ( [1] )
سیدنا عبد الرحمن بن عوف کا خوفِ خدا :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 132صفحات پر مشتمل کتاب ’’حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف ‘‘ صفحہ 75 پر ہے : ” حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مال کی صورت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق کو خوف سیراب کیا مگر خود کبھی بھی دولت کے نشے میں آکر غافل نہ ہوئے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوبے شمار مال ودولت سے نوازا مگر یہ دنیاوی مال ودولت اور عیش وعشرت کبھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قلب اظہر پر اثر انداز نہ ہوسکی ، جس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک روز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے کھانا رکھا گیا ، آپ اس دن روزے سے تھے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لذیذ نعمتیں دیکھیں تو کچھ یوں ارشاد فرمایا : ’’حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید کردیے گئے ، حالانکہ وہ مجھ سے بہتر اور لائق احترام تھے ، جب ان کا انتقال پرملال ہوا تو کفن کے لیے میسر کپڑا اتنا تھا کہ اگر سر کو چھپاتے تو پیر کھل جاتے اور پیروں کو چھپاتے تو سرکھل جاتا اور سید الشہداء حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تدفین وتکفین میں بھی ایک ناقابل فراموش درس آخرت ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید کیے گئے تو سوائے ایک چادر کے کفن کے لیے کچھ بھی میسر نہ تھا اور ایک ہم ہیں کہ ہم پر دنیاکشادہ کردی گئی ہے ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری نیکیوں کا صلہ ہمیں دنیا میں ہی جلدی مل رہا ہو ۔ ‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیل رواں جاری ہوگیا یہاں تک کہ سامنے موجود کھانے کی طرف توجہ ہی نہ رہی ۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اس قدر مال ودولت رکھنے کے باوجود دنیا سے بے رغبتی کا عالم یہ تھا کہ کبھی اپنا ماضی نہ بھولے بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب بھی اسلام کے اَوَّلین دور کو یاد کرتے ان کی سنہری یادیں تازہ ہوجاتیں ، غربت وافلاس کے اولین دور میں دنیا سے رخصت ہونے والے اپنے مسلمان بھائی یاد آتے تو موجودہ مال ودولت کی فراوانی یکسر بھول جاتے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ ناپائیدار دنیا یہیں رہ جائے گی ، اصل کامیابی وکامرانی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سرخرو ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں راحت پانا ہے ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس فانی اور عارضی دنیا میں دل لگانے کے بجائے ابدی وسرمدی کامیابی پانے کو اپنا مقصود حیات بنالیں اور جس طرح حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ انتہائی مالدار ہونے کے باوجود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت کو یاد رکھتے تھے ہم بھی ان کی سیرت کو راہ حیات پر گامزن رہنے کے لیے مشعلِ راہ بنالیں ۔
مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک شخص نے نہایت ہی خوبصورت آواز میں قرآنِ کریم کی تلاوت کی جو اس قدر متاثر کن تھی کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سوا سب کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔ تو سرکار نامدار مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’عبدالرحمٰن کی آنکھیں نہیں دل رورہا ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
خوف خدا میں گریہ وزاری خوش نصیبوں کا حصہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! خوف میں گریہ وزاری کرنا خوش نصیبوں کا حصہ ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے یہ عظیم نعمت عطا فرماتا ہے وہ دونوں جہاں میں سرخرو ہوجاتا ہے ، خوف خدا سے رونا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے ، اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی سنت ہے ۔ یہ تمام مقدس ہستیاں دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتیں اور شب وروز خوف خدا میں گریہ وزاری کیا کرتی تھی ، مگر آہ ! ہمارے شب وروز تودنیا کی محبت میں بسر ہورہے ہیں ، ہر وقت مال کمانے کی دھن سوار ہے ۔ کاش ہم بھی خوف سے لزرنے والے بن جائیں ، گناہوں کو چھوڑ کر نیکیوں پر استقامت پانے والے بن جائیں ، اس فانی وذلیل دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی تیاری کرنے والے بن جائیں ۔
راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے ……… پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے
چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ ……… وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
کام زنداں کے کیے اور ہمیں ……… شوقِ گلزار ہے کیا ہونا ہے
ہائے رے نیند مسافر تیری ……… کوچ تیار ہے کیا ہونا ہے
دور جاتا ہے رہا دن تھوڑا ……… راہ دشوار ہے کیا ہونا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع