دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

دوستوں کو اس کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جائے گا ، یہاں تک کہ تم   اللہ عَزَّوَجَلَّسے ایسی حالت میں ملاقات کرو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔  لیکن دیگر لوگوں کے گناہ جمع ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کو قیامت کے دن ان کا بدلہ دیاجائے گا ۔   ‘‘ 

یقیناً منبعِ خوفِ خدا صدیقِ اکبر ہیں                  ………    حقیقی عاشقِ خیرالوریٰ صدیقِ اکبر ہیں

نہایت متّقی و پارسا صدیقِ اکبر ہیں                 ………    تَقِی ہیں بلکہ شاہِ اَتقیا صدیقِ اکبر ہیں

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین

امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سیرتِ طیبہ کے مختلف گوشوں کی تفصیلی معلومات کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۳صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضان صدیق اکبر  ‘‘  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مطالعہ کیجئے ۔

مدنی گلدستہ

’’خوف خدا  ‘‘  کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی خوف خدا رکھتے اور خوف خداکے سبب گریہ وزاری کرتے تھے ۔

(2)   جب امام کو کوئی عذر لاحق ہو تو وہ کسی دوسرے کو اپنا خلیفہ مقرر کر سکتا ہے  ۔

(3)   امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے افضل ہیں ۔

(4)   امامت کے معاملے میں سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَیِّدُنَا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا ، اس سے معلوم ہو ا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد خلافت کے مستحق سَیِّدُنَا  صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی تھے  ۔

(5)   امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت زیادہ خوف خدا رکھنے والے تھے  ۔

(6)   رائے کے معاملے میں چھوٹا بڑے کے آگے ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی رائے بھی پیش کر سکتاہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنا خوف نصیب فرمائے ، ہمیں خوف خدا میں رونا نصیب فرمائے ، امیر المؤمنین سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سیرت پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔   

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر  : 454                                                                                                          سَیِّدُنَا  عبد الرحمٰن بن عوف کی گریہ وزاری

عَنْ اِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ :  اَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْه اُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِماً فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوْجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيْهِ اِلاَّ بُرْدَةٌ اِنْ غُطِّيَ بِهَا رَاْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَ اِنْ غُطِّيَ بِهَا رِجْلَاهُ بَدَا رَاْسُهُ ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ اَوْ قَالَ : اُعْطِيْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا اُعْطِيْنَا قَدْ خَشِيْنَا اَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَاثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ. ( [1] )

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم بن عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت  سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزہ دار تھے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  ’’حضرت مُصعَب بن عُمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو شہید کر دیا گیا اور وہ مجھ سے بہتر تھے ، ان کو کفن  دینے کے لئے  ایک ہی ایسی  چادر میسر تھی کہ اگر ان کا سر ڈھکا جاتا تو پاؤ ں کھل جاتے اوراگر پاؤں ڈھکے جاتے تو سر کھل جاتا ، پھر ہم پر  دنیا بہت وسیع کردی گئی  ۔   ‘‘  یا یہ فرمایا کہ ’’ہمیں دنیا بہت عطا کی گئی  ۔ ہمیں خوف ہے کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ جلد دے دیا گیا ہو ، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رونے لگے یہاں تک کہ کھانا بھی چھوڑ دیا ۔   ‘‘ 

حدیث پاک کی باب کے ساتھ مناسبت :

مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے کہ  حضرت سَیِّدُنَا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے گزرے ہوئے ایام کا ذکر فرمایا ، پھرسیدنا مُصْعَب بن عُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی شہادت اور اُن کے کفن کا ذکر فرمایا ، پھر اپنے اوپر دُنیوی کشادگی کا ذکر فرمایا ، نیز آخر میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر رقت طاری ہوگئی اور آپ خوفِ خدا کے سبب رونے لگے ۔  یہ باب بھی چونکہ خوف خدا میں رونے کی فضیلت کے بیان میں ہے اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔

سیدنا مُصْعَب بن عُمیر کا مختصر تعارف :

شیخ عبد الحق محد ث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنامُصَعَب بن عُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جلیل القدر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے تھے ، آپ کا شمار ان صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ جنگ بدر میں شریک ہوئے اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جھنڈا لیے ہوئے تھے ، جنگ اُحد میں جام  شہادت نوش  کیا ، مکہ



[1]      بخاری ، کتاب المغازی  ، باب غزوۃ احد ، ۳ /  ۳۵ ، حدیث : ۴۰۴۷  ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن