دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نماز کے بارے میں عرض کیا گیا ۔ یعنی اب نماز کون پڑھائے گا اور لوگوں کا امام کو ن ہوگا؟توآپ نے ارشادفرمایا :  ” ابو بکر سے کہو :  لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔ “یعنی کوئی امام ان کو نماز پڑھائے تا کہ وہ اپنی نماز قائم کر سکیں ، یہاں سے سَیِّدُنَا  صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد خلیفہ ہونا اور تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے افضل ہونا ثابت ہوا اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناُمَّت میں سب سے افضل ہیں ۔ اسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ہم اس شخص کو دنیا ( خلافت ) کے معاملے میں کیوں پسند نہ کریں جسے حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمارے دِین ( امامت ) کے لئے پسند فرمایا ۔   ‘‘  اُمّ المؤمنین حضر ت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی ۔ یعنی حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے والد کی طرف سے عرض کیا : اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات اسی حالت میں ہو گئی تو لوگ ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( کی امامت ) کے بارے میں بد گمانی کریں گے ۔ سَیِّدُنَا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک نرم دل انسان ہیں ۔  سَیِّدُنَا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف کی حالت غالب رہتی تھی ۔ جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں توان پر  رونا غالب آ جاتا ہے ۔ یعنی امام کے لئے نماز میں جتنی قراءت کرنے کا حکم ہے وہ اسے ( خوف خدا میں رونے کی وجہ سے ) پورا نہیں کر سکیں گے ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ رونے کے سبب نماز میں دو حروف پیدا ہوں گے ، کیونکہ ان سے تو نماز ہی باطل ہو جاتی ہے اگر معاملہ ایسا ہوتا تو سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوسری بار نماز پڑھانے  کا حکم نہ فرماتے ۔  ایک روایت میں اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میں نے کہا : سَیِّدُنَا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے ۔ ‘‘ یعنی جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جگہ امام بنیں گے تو رونے کی وجہ سے لوگ ان کوسن  نہیں سکیں گے ۔   ‘‘  علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس حدیث پاک کو اس باب میں اس لئے لائے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اس کام ( یعنی خشیت الٰہی کے سبب رونے ) سے راضی تھے اور اسی لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوامامت کے معاملے میں مُقَدَّم رکھا اور یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خوفِ خدا سے رونا پسند تھا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : ( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ) ( پ۹ ، الانفال : ۲ ) ترجمۂ  کنزالایمان  :  ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں ۔ ( [1] )

خلافت کے سب سے زیادہ مستحق :

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پا ک سے معلوم ہو ا کہ جب امام کو کوئی عذر لاحق ہو تو وہ کسی دوسرے شخص کو اپنا خلیفہ مقرر کر سکتا ہے ، امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا  ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فضیلت تمام صحابہ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے زیادہ ہے ، کیونکہ اگر سرورِدوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نگاہ میں کوئی اور شخص افضل ہو تا تو آپ اس کو ہی اما م مقرر فرماتے ۔ یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ سرکارِ مکہ مکرمہ ، سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد خلافت کے سب سے زیادہ مستحق امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی ہیں ۔  ( [2] )

سیدنا صدیق اکبر کا خوف خدا وگریہ وزاری :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  مذکورہ حدیث پاک سے جہاں امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی افضیلت ، ان کا اعلیٰ مقام ومرتبہ ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد امام المسلمین جیسے بڑے بڑے فضائل ثابت ہوتے ہیں ، وہیں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے خوفِ خدا کا بھی پتا چلتا ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہایت ہی خوف خدا رکھنے والے اور خوفِ خدا کے سبب گریہ وزاری کرنے والے تھے ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 723صفحات پرمشتمل کتاب’’ فیضانِ صدیق اکبر  ‘‘   ص148تا152سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے خوفِ خدا اور گریہ وزاری سے متعلق چند اقتباسات پیش خدمت ہیں :  ( 1 ) حضرت سَیِّدُنَا معاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک باغ میں داخل ہوئے ، درخت کے سائے میں ایک چڑیاکو بیٹھے ہوئے دیکھاتوآپ نے ایک آہِ سرد دلِ پردرد سے کھینچ کرارشاد فرمایا : ’’اے پرندے  !  توکتنا خوش نصیب ہے کہ ایک درخت سے کھاتاہے اور دوسرے کے نیچے بیٹھ جاتاہے ، پھرتوبغیر حساب کتاب کے اپنی منزل پہ پہنچ جائے گا ۔  اے کاش !  ابوبکر بھی تیری طرح ہوتا ۔ ‘‘ ( 2 ) حضرت سیدنا محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں : ’’سرکارمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ واحد شخص تھے جو ایسی بات کہنے سے سب سے زیادہ ڈرتے جواُن کے علم میں نہ ہوتی ۔ ‘‘ ( 3 ) حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں دو عالم کے مالِک و مختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں موجود تھا قرآن پاک کی جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :  (  مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ-وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(۱۲۳)) ( پ۵ ، النساء : ۱۲۳ ) ترجمۂ  کنزالایمان  :  ’’جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مددگار ۔ ‘‘ توحضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’اے ابوبکر !  کیا میں تمہیں وہ آیت نہ سناؤں جو مجھ پر ابھی نازل ہوئی ہے ۔ میں نے عرض کیا : ’’ جی ہاں !  کیوں نہیں یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !   ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہی آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ۔ جیسے ہی میں نے یہ آیت مبارکہ سنی تو ( اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف کے سبب ) مجھے ایسا لگا کہ میری کمر کی ہڈی ٹوٹ جائے گی ، میں نے درد کی وجہ سے انگڑائی لی تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اے ابوبکر !  ( گھبراؤ نہیں ) تم اور تمہارے مؤمنین



[1]     دلیل الفالحین ، باب فی فضل البکاء من خشیۃ اللہ تعالی ، ۲ /  ۳۶۹ ، ۳۷۰ ، تحت الحدیث : ۴۵۳ ۔

[2]     شرح مسلم للنووی ، کتاب الصلاۃ ، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر ۔ ۔ ۔  الخ ، ۲  / ۱۳۷ ، الجزء الرابع ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن